سعودی پائپ لائن اور مشرقِ وسطیٰ میں بحری جہازوں پر حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ
- برینٹ خام تیل کے سودوں کی قیمت 2.72 ڈالر یا 2.6 فیصد بڑھ کر 107.33 ڈالر فی بیرل ہوگئی
عالمی منڈی میں پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، کیونکہ سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر نئے حملوں اور مشرقِ وسطیٰ میں بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد توانائی کی رسد سے متعلق خدشات بڑھ گئے۔
برینٹ خام تیل کے سودوں کی قیمت صبح 11 بج کر 39 منٹ (امریکی مشرقی وقت) تک 2.72 ڈالر یا 2.6 فیصد بڑھ کر 107.33 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 2.51 ڈالر یا 2.5 فیصد اضافے سے 102.56 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
دونوں اہم اشاریوں کی قیمتیں ایک ہفتے سے زائد عرصے سے تکنیکی اعتبار سے ضرورت سے زیادہ خریداری کی سطح پر برقرار ہیں، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 19 مئی کے بعد بلند ترین یومیہ اختتامی سطح پر پہنچنے کی راہ پر تھی۔
خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 4 فیصد تک اضافہ ہوا، تاہم بعد میں اس وقت اضافہ محدود ہوگیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین اور روس ایک دوسرے کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے پر متفق ہوگئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے یوکرین کی جانب سے روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے باعث امریکا میں ڈیزل کی اوسط قیمت ریکارڈ بلند سطح پر پہنچنے میں مدد ملی تھی۔
امریکی توانائی کے اعدادوشمار کے مطابق روس، جو اوپیک پلس کا رکن ہے، 2025ء میں امریکا اور سعودی عرب کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل پیدا کرنے والا ملک تھا۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران جلد از جلد اور سنجیدگی سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کی گنجائش محدود ہوگئی۔
خلیجی عرب ریاستوں نے پیر کو ایران کے ساتھ طے شدہ اجلاس منسوخ کردیا، جبکہ یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب پر نیا حملہ کیا ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جاری لڑائی نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کو ایک اور محاذ تک پھیلا دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی رسد کو مزید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے سرحد کے قریب واقع سعودی شہر خمیس مشیط میں ایک فوجی ایئربیس پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغے، جنہوں نے طیاروں کے ہینگرز، ریڈار نظام، رن ویز اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا۔
جمعہ کو ہونے والے ایک حملے، جس کا الزام ریاض نے عراق میں ایران کے حمایت یافتہ جنگجوؤں پر عائد کیا، کے نتیجے میں سعودی عرب کی مشرق و مغرب پائپ لائن بند ہوگئی، جس کے باعث تیل کی ترسیل کا رخ آبنائے ہرمز کے بجائے بحیرہ احمر کی جانب موڑنا پڑا۔ اس حملے سے عالمی تیل کی رسد میں 4 فیصد تک کمی کا خطرہ پیدا ہوگیا۔
پیر کو جاری کیے گئے ابتدائی بحری جہازوں کی نگرانی کے اعدادوشمار کے مطابق ہفتے کے اختتام پر آبنائے ہرمز سے اجناس بردار بحری جہازوں کی آمدورفت روزانہ ایک ہندسے تک گر گئی، جو 14 جہازوں کی 10 روزہ اوسط کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی رسد آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی۔
صنعتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی مشرق و مغرب پائپ لائن بند ہونے کے باعث بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع کو ذخائر سے تیل فراہم کرنا ہوگا، جبکہ ان ذخائر میں پانچ سے سات روز کی برآمدات کے لیے تیل موجود ہونے کا اندازہ ہے۔
رسٹاد کے تیل مارکیٹس کے تجزیہ کار جانیو شاہ نے کہا، ’’قیمتوں میں نسبتاً محدود ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ کو اب بھی توقع ہے کہ سعودی عرب کے تیل کے ذخائر قلیل مدت میں برآمدات کو سہارا دیں گے، تاہم اگر رسد میں خلل پانچ سے سات روز کے ذخیرے کی گنجائش سے زیادہ برقرار رہا تو صورتحال تیزی سے بدل سکتی ہے۔‘‘
یمن کے حوثی جمعہ کو جزیرہ پریم تک پہنچ گئے، جس کے بعد بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع آبنائے باب المندب پر ان کا کنٹرول مزید مضبوط ہوگیا۔
دریں اثنا، ایران نے 77 بحری جہازوں کی فہرست جاری کی ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت سے متعلق اس کے وضع کردہ ضوابط کی خلاف ورزی کی۔
























Comments