BR100 Decreased By (-0.6%)
BR30 Decreased By (-1.11%)
KSE100 Decreased By (-0.5%)
KSE30 Decreased By (-0.45%)
BAFL 56.86 Decreased By ▼ -0.01 (-0.02%)
BIPL 24.98 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
BOP 30.17 Decreased By ▼ -0.18 (-0.59%)
CNERGY 13.03 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.10 Decreased By ▼ -4.35 (-2.26%)
FABL 94.00 Decreased By ▼ -0.14 (-0.15%)
FCCL 52.29 Decreased By ▼ -0.50 (-0.95%)
FFL 14.55 Decreased By ▼ -0.17 (-1.15%)
GGL 19.11 Decreased By ▼ -0.45 (-2.3%)
HBL 306.40 Increased By ▲ 0.30 (0.1%)
HUBC 200.00 Decreased By ▼ -1.42 (-0.7%)
HUMNL 10.00 Decreased By ▼ -0.16 (-1.57%)
KEL 6.15 Increased By ▲ 0.06 (0.99%)
LOTCHEM 26.26 Decreased By ▼ -0.20 (-0.76%)
MLCF 91.51 Decreased By ▼ -1.65 (-1.77%)
OGDC 314.50 Decreased By ▼ -2.23 (-0.7%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.64 Decreased By ▼ -0.04 (-0.27%)
PIOC 239.01 Decreased By ▼ -4.20 (-1.73%)
PPL 222.01 Decreased By ▼ -4.90 (-2.16%)
PRL 92.00 Decreased By ▼ -1.02 (-1.1%)
SNGP 90.90 Decreased By ▼ -0.94 (-1.02%)
SSGC 23.26 Decreased By ▼ -0.55 (-2.31%)
TELE 7.68 Decreased By ▼ -0.12 (-1.54%)
TPLP 12.60 Decreased By ▼ -0.37 (-2.85%)
TRG 56.50 Decreased By ▼ -0.06 (-0.11%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
رائے

ایندھن کی قیمتوں کا تعین

  • پٹرول نرخ 349 روپے سے کم کرکے 306.97 روپے فی لیٹر کرنے کا مضبوط جواز موجود ہے، جس سے قیمت میں 12 فیصد کمی ہوگی، اسی طرح ڈیزل کی قیمت 374.31 روپے سے گھٹا کر 337.46 روپے فی لیٹر کی جائے تو اس میں 10 فیصد کمی واقع ہوگی
شائع اپ ڈیٹ

زیر نظر مضمون میں بنیادی توجہ مائع ایندھن، بالخصوص پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کے تعین پر مرکوز ہے۔ یہ دونوں اہم ترین پٹرولیم مصنوعات ہیں اور ملک میں پٹرولیم، آئل اینڈ لبریکنٹس (پی او ایل) مصنوعات کی مجموعی کھپت کا 90 فیصد بنتی ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 71 ڈالر فی بیرل سے کم سے بڑھ کر 96 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ نتیجتاً عالمی منڈی میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ملک میں بھی ایندھن کی قیمتوں میں اسی طرح اضافہ ہوا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 34 فیصد جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح عالمی قیمتوں میں اضافے کا اثر مقامی ایندھن کی قیمتوں میں منتقل ہوا ہے۔

بنیادی مسئلہ ان اضافوں کے پاکستان میں مجموعی مہنگائی کی شرح پر اثرات کا ہے۔ فروری 2026 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے تحت مہنگائی کی سالانہ شرح 7 فیصد تھی، جو اب اگست 2026 میں 11 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔

ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے دو اثرات ہیں۔ پہلا براہِ راست اثر قیمتوں کے عمومی اشاریے پر پڑتا ہے، جبکہ دوسرا بالواسطہ اثر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آتا ہے، خصوصاً نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے کے باعث، مجموعی طور پر اندازہ ہے کہ مہنگائی کی شرح 7 فیصد سے بڑھ کر 11.1 فیصد ہونے میں 32 فیصد حصہ ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا ہے۔

یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ مختلف آمدنی والے طبقات پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ کتنا پڑا ہے۔ بنیادی طور پر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اندازہ ہے کہ کم ترین آمدنی والے 20 فیصد طبقے کی آمدنی کے تناسب سے پڑنے والا اثر، سب سے زیادہ آمدنی والے 20 فیصد طبقے کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔

اب مختلف ممالک میں ایندھن کی قیمتوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ جنوبی اور مشرقی ایشیا کے چند بڑے ممالک میں فی لیٹر قیمت کا امریکی ڈالر میں تقابلی جائزہ لیا گیا ہے۔ جنوبی ایشیا میں بھارت اور بنگلہ دیش جبکہ مشرقی ایشیا میں انڈونیشیا اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔

31 اگست تک پاکستان میں پٹرول کی قیمت 1.236 ڈالر فی لیٹر تھی۔ اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش میں قیمت 1.183 ڈالر، بھارت میں 1.134 ڈالر، انڈونیشیا میں 0.936 ڈالر اور تھائی لینڈ میں 1.436 ڈالر فی لیٹر تھی۔ اس طرح پاکستان میں پٹرول کی قیمت منتخب چار ممالک میں سے تین کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

31 اگست تک پاکستان میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 1.336 ڈالر فی لیٹر تھی۔ اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش میں 0.938 ڈالر، بھارت میں 1.037 ڈالر، انڈونیشیا میں 1.433 ڈالر اور تھائی لینڈ میں 1.175 ڈالر فی لیٹر تھی۔ یہاں بھی پاکستان میں قیمت چار میں سے تین ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ بالخصوص پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتیں بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ تین ممالک یعنی بنگلہ دیش، بھارت اور تھائی لینڈ میں ڈیزل کی قیمت پٹرول کے مقابلے میں کم ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں ڈیزل کی قیمت پٹرول سے 8 فیصد زیادہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ مذکورہ چاروں ممالک تیل کی درآمدات پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، تو پھر ان ممالک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اتنا نمایاں فرق کیوں ہے؟

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کے ڈھانچے کا جائزہ لیا جائے۔ حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ ان دونوں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان اوگرا کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس فیصلے پر 21 جولائی 2026 سے عمل درآمد جاری ہے۔

یہ بات تسلیم کی جانی چاہیے کہ اوگرا کی جانب سے دونوں ایندھن کی قیمتوں کے ڈھانچے سے متعلق معلومات میں شفافیت موجود ہے۔ 4 ستمبر کو اعلان کردہ قیمتوں کے مطابق پٹرول 349.00 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 374.31 روپے فی لیٹر تھا۔

اوگرا کی جانب سے دونوں ایندھن کی قیمتوں کا مکمل ڈھانچہ روزانہ جاری کیا جاتا ہے۔

مجموعی قیمت کو درج ذیل اجزا میں تقسیم کیا جاتا ہے:

• درآمدی لاگت اور مال برداری

• کسٹمز ڈیوٹی

• ایکس ریفائنری/درآمدی قیمت

• اندرونِ ملک مال برداری کا مارجن + آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کا مارجن + ڈیلرز کا مارجن

• لیویز سے قبل قیمت

• پیٹرولیم لیوی

• کلائمیٹ سپورٹ لیوی

• مجموعی قیمت

پٹرول پر کسٹمز ڈیوٹی تقریباً 10 فیصد جبکہ ڈیزل پر 6 فیصد کے قریب ہے۔ تینوں مارجنز کو ملا کر پٹرول پر 25.30 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 21.81 روپے فی لیٹر وصول کیے جاتے ہیں۔

دونوں مصنوعات پر پیٹرولیم لیوی 80 روپے فی لیٹر جبکہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی 5 روپے فی لیٹر ہے۔

اوگرا نے واضح کیا ہے کہ قیمت میں ردوبدل کا مکمل اثر سات دن میں سامنے آتا ہے، لہٰذا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قیمتوں کا اعلان روزانہ کے بجائے ہفتہ وار بنیاد پر کیا جائے۔ پٹرول کی روزانہ قیمت میں اوسط تبدیلی صرف 0.2 فیصد رہی ہے، جبکہ ہفتہ وار بنیاد پر یہ تبدیلی 1.2 فیصد رہی۔ قیمتوں میں کم وقفے سے تبدیلیاں مارکیٹ میں کسی حد تک استحکام کا تاثر پیدا کرنے میں مدد دیں گی۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ایندھن کی مصنوعات کی خوردہ قیمتیں بنگلہ دیش یا بھارت کے مقابلے میں زیادہ کیوں ہیں۔ تینوں ممالک اپنی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اس لیے امریکی ڈالر میں درآمدی قیمتوں میں زیادہ فرق کا امکان نہیں ہے۔ اصل فرق مارجنز اور ٹیکسوں میں موجود تفاوت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔

یہاں پاکستان میں متنازع لیوی کا معاملہ سامنے آتا ہے، یعنی پٹرول اور ڈیزل دونوں پر مجموعی طور پر 85 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی۔ پیٹرولیم لیوی جولائی 2022 میں 20 روپے فی لیٹر کی شرح سے متعارف کرائی گئی تھی۔ نومبر 2022 میں اسے بڑھا کر 50 روپے فی لیٹر اور ستمبر 2023 میں 60 روپے فی لیٹر کر دیا گیا۔ اب ان دونوں مصنوعات پر سیلز ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا۔

پیٹرولیم لیوی متعارف کرانے اور سیلز ٹیکس سے دستبرداری کا وفاقی حکومت کو کیا فائدہ ہوا؟ پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کو نان ٹیکس ریونیو تصور کیا جاتا ہے، لہٰذا اسے صوبائی حکومتوں کے ساتھ تقسیم نہیں کیا جاتا، جبکہ سیلز ٹیکس وفاقی حکومت کی قابلِ تقسیم محاصل کے پول کا حصہ ہوتا ہے۔

واضح طور پر پیٹرولیم لیوی کے نفاذ نے وفاقی حکومت کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ لیوی سے حاصل ہونے والی آمدنی مالی سال 2022-23 میں 579 ارب روپے سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 1,567 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو سالانہ 33 فیصد سے زائد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ فی لیٹر لیوی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہے۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ ایکس ریفائنری/درآمدی قیمت کے مقابلے میں پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی شرح کتنی ہے؟ پٹرول کے معاملے میں یہ 35.6 فیصد جبکہ ڈیزل کے معاملے میں 31.8 فیصد بنتی ہے۔ یہ اس اصول کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت 18 فیصد سیلز ٹیکس کی جگہ لیوی عائد کی گئی تھی اور اس کی شرح کو تبدیل نہ کیا جانا تھا۔

پیٹرولیم لیوی کی زائد وصولی کی تفصیل درج ذیل ہے:

========================================================
                                          (Rs per litre)
========================================================
            at 18 percent of        Actual    Difference
            import/refinery                             
            price                                       
========================================================
Petrol      42.97                   85.00          42.03
Diesel      48.15                   85.00          36.85
========================================================

لہٰذا پیٹرول کی قیمت 349.00 روپے سے کم کرکے 306.97 روپے فی لیٹر کرنے کا ایک مضبوط جواز موجود ہے۔ اس کا مطلب قیمت میں 12 فیصد کی کمی ہوگا۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت 374.31 روپے فی لیٹر سے گھٹا کر 337.46 روپے فی لیٹر کی جانی چاہیے، جس سے قیمت میں 10 فیصد کمی واقع ہوگی۔

پیٹرول کی امریکی ڈالر میں مساوی قیمت 1.106 ڈالر فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 1.215 ڈالر فی لیٹر ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت بنگلہ دیش اور بھارت کی قیمت کے قریب تر ہو جائے گی۔ تاہم ڈیزل کی قیمت پھر بھی نسبتاً زیادہ رہے گی۔

پیٹرول اور ڈیزل کی ریٹیل قیمتوں میں کمی سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور کھپت میں اضافہ ہوگا۔ اس طرح لیوی کی شرح میں کمی سے آمدنی میں ہونے والی گراوٹ متناسب شرح سے کم ہوگی۔ تخمینے کے مطابق ریونیو کا نقصان 200 ارب روپے سے 250 ارب روپے کے درمیان ہوگا۔ اس حقیقت کی کافی اہمیت ہے کہ آئی ایم ایف پیٹرولیم لیوی کو مسلسل ایک ٹیکس کے طور پر ہی دیکھتا ہے۔ اس لیے 18 فیصد کی شرح کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے حمایت ملنی چاہیے، جو اس وقت معیاری شرح تھی جب پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس عائد تھا۔

اب وہ وقت آ گیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی سطح میں نمایاں کمی کرکے افراطِ زر (مہنگائی) کے دباؤ کو محدود کیا جائے۔ نیز قیمتوں کے روزانہ اعلان کی پالیسی کو ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتیں مقرر کرنے کی پالیسی سے تبدیل کیا جانا چاہیے۔

کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف