پٹرول نرخ 349 روپے سے کم کرکے 306.97 روپے فی لیٹر کرنے کا مضبوط جواز موجود ہے، جس سے قیمت میں 12 فیصد کمی ہوگی، اسی طرح ڈیزل کی قیمت 374.31 روپے سے گھٹا کر 337.46 روپے فی لیٹر کی جائے تو اس میں 10 فیصد کمی واقع ہوگی
اگر سخت شرحِ سود برقرار رکھنا سرمایہ کاری اور ملکی معاشی سرگرمیوں کے لیے حد سے زیادہ دردناک ہو جائے تو پاکستان کے پاس ایڈجسٹمنٹ کا ایک اور راستہ موجود ہے
تشویشناک طور پر عہدیدار نے اعتراف کیا کہ زرعی شعبے کے حوالے سے اب تک نہ ہونے کے برابر کام ہوا ہے، کیونکہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد زراعت صوبائی معاملہ بن چکی ہے اور صوبوں کے کراپ رپورٹنگ سروسز کے اداروں میں پی پی آئی کی ضروریات پوری کرنے کی مطلوبہ صلاحیت موجود نہیں۔
دسمبر 2025 میں، جب مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت کے خلاف احتجاج شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں سیاسی مطالبات تک پھیل گئے، اس وقت سالانہ افراطِ زر کی شرح 52.6 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔