دسمبر 2025 میں، جب مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت کے خلاف احتجاج شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں سیاسی مطالبات تک پھیل گئے، اس وقت سالانہ افراطِ زر کی شرح 52.6 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
2022 کے بعد سے او ایم اوز میں تیز اور مسلسل اضافہ اس لیے کسی الگ تھلگ مالیاتی رجحان کے طور پر نہیں بلکہ معاشی پالیسی کی مجموعی سمت کے بارے میں بطور ایک انتباہی اشارے کے دیکھا جانا چاہیے
غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں 5 ارب ڈالر کی خطیر کمی کا قوی امکان ہے، جو مالی سال 2026-27 کے اختتام تک پاکستان کے ذخائر کو گرا کر 12 ارب ڈالر پر لا سکتا ہے
اس وقت صارفین پر سب سے بھاری بوجھ حکومت کا وہ وعدہ بن رہا ہے جو اس نے فنڈ سے ملکی ایندھن کی قیمتوں کو عالمی نرخوں کے مطابق کرنے کے لیے پیشگی شرط کے طور پر کیا ہے۔ اسی شرط پر عملدرآمد کے بعد حالیہ قرض قسط جاری کی گئی ہے
پاکستان میں غربت کی شرح مالی سال 2024 میں بڑھ کر 25.3 فیصد تک پہنچ گئی، جو مالی سال 2022 میں 18.3 فیصد تھی