پٹرول نرخ 349 روپے سے کم کرکے 306.97 روپے فی لیٹر کرنے کا مضبوط جواز موجود ہے، جس سے قیمت میں 12 فیصد کمی ہوگی، اسی طرح ڈیزل کی قیمت 374.31 روپے سے گھٹا کر 337.46 روپے فی لیٹر کی جائے تو اس میں 10 فیصد کمی واقع ہوگی
خوردہ قیمتوں میں ایک ہفتہ قبل ہی نمایاں کمی کی جا چکی تھی۔ اس کے بعد عالمی منڈی میں قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں نے مزید ریلیف دینے کی بہت کم گنجائش چھوڑی
بنیادی مسئلہ بدستور صوبوں کی جانب سے محصولات کی انتہائی کم وصولی ہے۔ اس کے نتیجے میں قومی سطح پر ٹیکس بہ نسبتِ جی ڈی پی ( ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو) تقریباً 12 فیصد کے قریب رہتا ہے، جو نسبتاً کم ہے۔
اس کے برعکس، دیگر ایشیائی ممالک میں یہ شرح عموماً 14 فیصد سے 18 فیصد کے درمیان ہے۔