خلیج میں امریکی تیل اور گیس تنصیبات ہمارے نشانے پر ہیں، ایران
- ایران نے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محدود کر رکھی ہے
ایران نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ اس کے اثاثوں پر امریکا کے کسی بھی نئے حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا، جبکہ خطے میں توانائی کی پیداوار کے پورے نظام کو پھیلا ہوا، قابل رسائی اور غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج میں موجود امریکی تیل و گیس کمپنیوں کو بھی اس خطرے کا سامنا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے اثاثوں کو نشانہ بنایا تو اسے بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ ان کا یہ بیان ہفتے کے آخر میں امریکا اور ایران کے درمیان بحری جہازوں سے متعلق حملوں کے بعد سامنے آیا، جن کے نتیجے میں پیر کو تیل کی قیمتیں 6 ہفتے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں۔
ایرانی سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے کہا کہ ایران آئندہ چند روز میں خلیج میں ایک نئے محدود علاقے کے قیام کا اعلان کرے گا اور آبنائے ہرمز کے ذریعے نئے بحری راستے کے نقشوں کی منظوری بھی جلد دی جائے گی۔ ان کے مطابق نئے محدود علاقے میں داخل ہونے والے ہر بحری جہاز کو ایرانی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔
ایران نے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محدود کر رکھی ہے۔ محسن رضائی نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو اس وقت تک کھولنے کی ضمانت نہیں دے گا جب تک امریکا ایران کے خلاف تخریب کاری، دھمکیاں اور حملے بند نہیں کرتا۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان باہمی حملے دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔ ہفتے کو امریکی افواج نے 3 ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں ایک ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کے قریب تھا۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ 10 دنوں میں روزانہ اوسطاً صرف 10 تجارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو مئی کے بعد کم ترین تعداد ہے۔
ادھر امریکی پابندیوں اور تیل کی برآمدات روکنے کی کوششوں نے ایران کی معیشت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق مہنگائی، بے روزگاری، کرنسی میں اتار چڑھاؤ اور عوام کے روزگار کے مسائل حکومت کے لیے بڑے چیلنج بن گئے ہیں۔
























Comments