BR100 Decreased By (-0.6%)
BR30 Decreased By (-1.06%)
KSE100 Decreased By (-0.52%)
KSE30 Decreased By (-0.48%)
BAFL 56.75 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
BIPL 24.98 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
BOP 30.15 Decreased By ▼ -0.20 (-0.66%)
CNERGY 13.03 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.50 Decreased By ▼ -3.95 (-2.05%)
FABL 93.77 Decreased By ▼ -0.37 (-0.39%)
FCCL 52.30 Decreased By ▼ -0.49 (-0.93%)
FFL 14.55 Decreased By ▼ -0.17 (-1.15%)
GGL 19.11 Decreased By ▼ -0.45 (-2.3%)
HBL 306.00 Decreased By ▼ -0.10 (-0.03%)
HUBC 200.00 Decreased By ▼ -1.42 (-0.7%)
HUMNL 10.00 Decreased By ▼ -0.16 (-1.57%)
KEL 6.12 Increased By ▲ 0.03 (0.49%)
LOTCHEM 26.25 Decreased By ▼ -0.21 (-0.79%)
MLCF 91.71 Decreased By ▼ -1.45 (-1.56%)
OGDC 314.50 Decreased By ▼ -2.23 (-0.7%)
PAEL 35.16 Decreased By ▼ -0.47 (-1.32%)
PIBTL 14.66 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
PIOC 239.01 Decreased By ▼ -4.20 (-1.73%)
PPL 222.42 Decreased By ▼ -4.49 (-1.98%)
PRL 91.90 Decreased By ▼ -1.12 (-1.2%)
SNGP 90.90 Decreased By ▼ -0.94 (-1.02%)
SSGC 23.27 Decreased By ▼ -0.54 (-2.27%)
TELE 7.65 Decreased By ▼ -0.15 (-1.92%)
TPLP 12.62 Decreased By ▼ -0.35 (-2.7%)
TRG 56.50 Decreased By ▼ -0.06 (-0.11%)
UNITY 8.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
رائے

مسکرائیے! بانڈ مارکیٹ کی نظر آپ پر ہے

  • لیکن زیادہ تشویشناک امکان شاید یہ ہے کہ عالمی رہنما اب بھی ان اشاروں کو الگ الگ مسائل سمجھ رہے ہیں، جبکہ بانڈ مارکیٹیں انہیں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ایک ہی مسئلے کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔
شائع اپ ڈیٹ

تو شاید عالمی بانڈ مارکیٹوں میں گزشتہ چند ہفتوں سے نظر آنے والا خطرے کا سرخ جھنڈا اب محض شائستگی سے لہرانا بند کرچکا ہے اور اتنی شدت سے پھڑپھڑا رہا ہے کہ اسے نظرانداز کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈز پر منافع کی شرح 4.8 فیصد کی جانب بڑھ گئی ہے، جاپان میں اسی مدت کے بانڈز کی شرح پہلی بار تین دہائیوں میں 3 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں بھی قرض لینے کی لاگت کئی برسوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔

لیکن دنیا کی اہم ترین قرض مارکیٹوں میں یہ خطرے کی گھنٹی بجنے کے باوجود شمالی کیرولائنا میں حالیہ جی 20 وزرائے خزانہ کے اجلاس میں زیادہ تر توجہ کس بات پر رہی؟ تجارت پر تنازعات، اتحادی ممالک کے درمیان لفظی تکرار اور، حیرت انگیز طور پر، اس بات پر اختلاف کہ خاندانی تصویر میں کون نظر آئے گا۔ شاید بانڈ مارکیٹ کو بھی اس تصویر میں ایک نشست کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا۔

یہ مسئلہ اب محض ایک عارضی بے چینی قرار دے کر نظرانداز کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومتوں کے قرضے غیرمعمولی حد تک بڑھ چکے ہیں، مہنگائی بدستور قابو میں آنے کا نام نہیں لے رہی، توانائی کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھ رہی ہیں، جبکہ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے شعبے کی توسیع کے لیے درکار سرمایہ حاصل کرنے کی خاطر حکومتوں کے ساتھ اسی سرمایہ کے حصول میں جارحانہ مسابقت کر رہی ہیں۔ دوسری جانب سرمایہ کار بھی اب محض اس لیے سستے داموں قرض دینے پر آمادہ نظر نہیں آتے کہ طویل عرصے تک کم شرح سود کے دور میں انہیں ایسا کرنے کی عادت پڑ گئی تھی۔

کیا یہ وہ لمحہ ہے جب پیسے کی قیمت ایک بار پھر اپنے اصل مقصد کی جانب لوٹنا شروع کر رہی ہے؟

یہ موقف بھی پیش کیا جا رہا ہے کہ شرحِ منافع میں اضافہ خوش آئند ہونا چاہیے۔ برسوں تک مصنوعی طور پر کم شرحِ سود نے سرمایہ کاری کے فیصلوں کو متاثر کیا، حکومتوں کے لیے قرض لینا آسان بنایا اور قرض لینے والوں کو یہ سمجھنے کی ترغیب دی کہ سرمایہ ہمیشہ تقریباً مفت دستیاب رہے گا۔ شاید بانڈ سرمایہ کار اب مہنگائی، حکومتی مالیاتی خطرات اور غیر یقینی صورتِ حال کے بدلے مناسب منافع کا مطالبہ کرکے مالیاتی نظم و ضبط بحال کر رہے ہیں۔ لیکن جب امریکا، یورپ اور جاپان میں بیک وقت قرض لینے کی لاگت تیزی سے بڑھنے لگے تو حکومتیں اس صورتِ حال سے کس حد تک مطمئن رہ سکتی ہیں؟

اعداد و شمار کو اب نظرانداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ امریکا کا قرض تقریباً 40 کھرب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ جاپان میں 10 سالہ سرکاری بانڈز پر منافع کی شرح اس سطح سے تجاوز کر گئی ہے جسے کبھی تقریباً ناقابلِ تصور سمجھا جاتا تھا۔ یورپی حکومتیں بڑے بجٹ خساروں اور قرض لینے کی بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا کر رہی ہیں۔ دوسری جانب جاپانی سرمایہ کار، جو طویل عرصے سے غیرملکی حکومتوں کے بانڈز کے بڑے خریدار رہے ہیں، اب اپنے ملک کے بانڈز میں دوبارہ دلچسپی لینے لگے ہیں کیونکہ وہاں منافع کی شرح بڑھ رہی ہے۔ تو کیا عالمی بانڈ مارکیٹوں کو سہارا دینے والے سرمایہ کے بڑے اور مستقل بہاؤ میں سے ایک کا رخ اب بدلنا شروع ہوگیا ہے؟

جاپانی سرمایہ کار رواں سال اب تک تقریباً 3 کھرب ین مالیت کے غیرملکی قرضہ جاتی بانڈز خالصاً فروخت کرچکے ہیں، جبکہ پنشن فنڈز بھی ملکی بانڈز میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ جاپان راتوں رات اپنی بڑی غیرملکی سرمایہ کاری ختم کردے گا۔ تاہم زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اگر جاپان آہستہ آہستہ وہ اہم خریدار بننا چھوڑ دے جس پر دنیا بھر کی حکومتیں اور ادارے کئی دہائیوں سے خاموشی سے انحصار کرتے آئے ہیں تو پھر کیا ہوگا؟

پھر ایران جنگ بھی ہے۔ ایک بار پھر ایسا تنازع، جس سے اسٹریٹجک صورتِ حال واضح ہونے کی توقع تھی، میدانِ جنگ سے کہیں دور تک پھیلنے والے معاشی اثرات پیدا کر رہا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں نے خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچا دی ہے، مہنگائی کے خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں اور مرکزی بینکوں کی جانب سے شرحِ سود مزید بڑھانے کی توقعات مضبوط ہوگئی ہیں۔ آبنائے ہرمز میں آمدورفت اب بھی شدید متاثر ہے، جبکہ واشنگٹن اور تہران اس بات پر بھی ایک دوسرے کی تردید کر رہے ہیں کہ آبنائے کھلی ہے یا نہیں۔

کیا واقعی منصوبہ یہی تھا؟

یہ صورتِ حال واشنگٹن کے لیے خاص طور پر باعثِ تشویش ہے۔ امریکا اپنے قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے مضبوط معاشی نمو کا خواہاں ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ اس مسئلے سے نکلنے کا واحد قابلِ عمل راستہ معاشی نمو ہے۔ تاہم مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی وہی تیزی، جس سے پیداواری صلاحیت بڑھنے کی توقع ہے، سرمایہ حاصل کرنے کی طلب بھی غیرمعمولی حد تک بڑھا رہی ہے اور یوں سرمایہ مہنگا ہو رہا ہے۔ دوسری جانب ایران تنازع توانائی کی قیمتوں کو بلند رکھے ہوئے ہے، جس سے مہنگائی کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور شرحِ سود میں کمی مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ تو کیا معاشی نمو واقعی قرضوں کے مسئلے سے نجات دلا سکتی ہے، اگر تیز تر معاشی نمو خود شرحِ سود کو بلند رکھنے کا سبب بن رہی ہو؟

مرکزی بینکوں کے فیصلوں کو سامنے رکھا جائے تو یہ سوال مزید اہم ہوجاتا ہے۔ امریکی مرکزی بینک کے سربراہ کیون وارش نے مہنگائی پر قابو پانے کے معاملے میں خاطرخواہ پیش رفت نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے شرحِ سود میں ایک اور اضافے کی توقعات بڑھا دی ہیں۔ مالیاتی منڈیوں میں اب رواں ماہ شرحِ سود بڑھنے کے امکانات پہلے سے کہیں زیادہ سمجھے جا رہے ہیں، جبکہ یورپی مرکزی بینک اور بینک آف جاپان کے بارے میں بھی ایسی ہی توقعات پائی جا رہی ہیں۔ شاید دنیا اب یہ حقیقت تسلیم کرنا شروع کر رہی ہے کہ بلند شرحِ سود کا وہ دور جسے عارضی سمجھا جا رہا تھا، توقع سے کہیں زیادہ طویل ہوسکتا ہے۔

بانڈ مارکیٹ بھی شاید پہلے ہی اس امکان کو مدنظر رکھ رہی ہے۔ کئی ترقی یافتہ ممالک میں مہنگائی کو نکال کر حقیقی منافع کی شرحیں تیزی سے بڑھی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار دوبارہ غور کر رہے ہیں کہ معیشت میں معمول کی شرحِ سود دراصل کتنی ہونی چاہیے۔ اگر مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری، حکومتی بجٹ خسارے، عالمی سیاسی کشیدگی اور توانائی کی بلند قیمتیں مستقل طور پر سرمائے کی طلب بڑھا رہی ہیں تو کیا پیسے کی بنیادی لاگت بھی مستقل طور پر بلند سطح پر منتقل ہو رہی ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کے اثرات صرف بانڈز تک محدود نہیں رہیں گے۔

اگر 10 سالہ امریکی سرکاری بانڈ پر منافع کی شرح 5 فیصد کے قریب پہنچ جاتی ہے تو وہ سرمایہ کاری کے لیے حصص سے براہِ راست مقابلہ کرے گا۔ جب نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے سرکاری بانڈ تقریباً 5 فیصد منافع دے رہے ہوں تو حصص میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا بڑا خطرہ مول لینے کی کیا ضرورت ہے؟ اور ان ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے یہ جواز پیش کرنا کتنا مشکل ہوجائے گا جن کے متوقع منافع کئی برس بعد حاصل ہونے ہیں اور جن کے حصص کی قیمتیں پہلے ہی بہت بلند ہیں؟ یوں یہ خطرہ سرکاری قرضوں سے نکل کر تیزی سے حصص، کرنسیوں، گھروں کے قرضوں اور کمپنیوں کے لیے قرض لینے کی لاگت تک پہنچتا ہے اور بالآخر پاکستان جیسے ممالک کو بھی متاثر کرتا ہے۔

تیل درآمد کرنے والی ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے لیے یہ صورتِ حال خاص طور پر مشکل ہے۔ خام تیل کی بلند قیمتیں درآمدی بل اور مہنگائی پر دباؤ بڑھاتی ہیں۔ امریکا میں بلند شرحِ سود عالمی سطح پر قرض لینا مزید مہنگا کردیتی ہے۔ ڈالر کی مضبوطی بیرونی قرضوں اور ادائیگیوں کے حالات کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔ اور جب سرمایہ کار خطرات کے معاملے میں زیادہ محتاط ہوجاتے ہیں تو پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ وہ عالمی مالیاتی حالات میں آنے والی تبدیلی کو کسی اور کا مسئلہ سمجھ کر نظرانداز کردیں۔ جب تیل، شرحِ سود اور عالمی سطح پر خطرے کے بدلے مانگا جانے والا اضافی منافع، تینوں بیک وقت ناموافق سمت میں بڑھیں تو ملکی معاشی پالیسی کے پاس حقیقی طور پر کتنی گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟

ممکن ہے بانڈز کی حالیہ فروخت کا سلسلہ بالآخر تھم جائے۔ ممکن ہے منافع کی شرحیں پرکشش ہونے کے بعد خریدار دوبارہ مارکیٹ میں واپس آجائیں۔ ممکن ہے جی 20 کا یہ اعتماد درست ثابت ہو کہ معاشی نمو بالآخر قرضوں کے مسئلے کا حل نکال سکتی ہے۔ لیکن زیادہ تشویشناک امکان شاید یہ ہے کہ عالمی رہنما اب بھی ان اشاروں کو الگ الگ مسائل سمجھ رہے ہیں، جبکہ بانڈ مارکیٹیں انہیں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ایک ہی مسئلے کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔

ایش ول میں گروپ فوٹو پر تو اختلاف ہوا، لیکن عالمی بانڈ مارکیٹوں میں بننے والی تصویر کہیں زیادہ پیچیدہ دکھائی دے رہی ہے، جسے اپنی مرضی کے مطابق تراش کر پیش کرنا شاید اب اتنا آسان نہیں رہا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف