امریکا کی جانب سے ایران کی ہوا بازی کی صنعت پر پابندیاں، جبکہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ کی دھمکی دیتے ہوئے تہران کے مالی وسائل کا گلا گھونٹنے کے عزم کا اظہار کیا ہے
لیکن زیادہ تشویشناک امکان شاید یہ ہے کہ عالمی رہنما اب بھی ان اشاروں کو الگ الگ مسائل سمجھ رہے ہیں، جبکہ بانڈ مارکیٹیں انہیں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ایک ہی مسئلے کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔
امریکی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکا اور چین کے درمیان دوطرفہ اشیا کی تجارت 2024 کے 582 ارب ڈالر سے 29 فیصد کم ہو کر 2025 میں 415 ارب ڈالر رہ گئی
امریکی تجارتی خسارہ تقریباً 32 فیصد کمی کے بعد 202 ارب ڈالر پر آ گیا، جو دو دہائیوں کی کم ترین سطح ہے