پاکستان موجودہ سازگار حالات کا فائدہ اٹھائے، طویل مدتی قرضے لے
- حل کثیرالجہتی قرضوں کی جگہ مہنگے بانڈز لانا نہیں، بلکہ رول اوور پر انحصار کم کرکے طویل مدتی فنانسنگ اختیار کرنا ہے
پاکستان کے بیرونی کھاتوں نے جنگ کے اثرات کو بغیر کسی بڑے دھچکے کے برداشت کرلیا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کو تقریباً چھ ماہ گزر چکے ہیں اور خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے باعث پٹرولیم درآمدی بل بڑھنے کے باوجود جاری کھاتہ خسارہ قابو میں رہا ہے۔
مالی سال 2026 کا اختتام معمولی خسارے کے ساتھ ہوا، جبکہ بلند توانائی درآمدات کے باوجود جولائی میں جاری کھاتے کا خسارہ کم ہو کر 328 ملین ڈالر رہ گیا۔ ترسیلات زر میں مضبوطی اور خدمات کی برآمدات میں اضافے نے بیرونی دباؤ کے بڑے حصے کو جذب کرلیا۔ 2023 کے اوائل میں ڈیفالٹ کے قریب پہنچنے والی معیشت کے لیے یہ ایک نمایاں کامیابی ہے۔
مالیاتی صورتحال بھی زیادہ خراب نہیں ہوئی۔ مالی سال 2026 میں بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2.6 فیصد تک محدود رہا، جو 2004 کے بعد سب سے کم شرح ہے، جبکہ بجٹ میں مسلسل تیسرے سال بنیادی سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔ جنگ کے دوران بھی مالیاتی استحکام برقرار رہا اور مالی سال کے آخری تین ماہ میں بجٹ خسارہ 1.9 فیصد رہا، جو نو سال میں کسی بھی مالی سال کی چوتھی سہ ماہی کی کم ترین شرح ہے۔
اسٹاک کے اعداد و شمار بھی سرمایہ کے بہاؤ کے ساتھ تبدیل ہوئے ہیں۔ جی ڈی پی کے تناسب سے عوامی قرضہ مالی سال 2023 کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوا ہے، جبکہ بیرونی قرضے میں اس سے بھی تیزی سے کمی آئی ہے۔ اسی طرح مجموعی بیرونی قرضہ اور واجبات بھی مالی سال 2023 میں جی ڈی پی کے 43 فیصد سے زائد کی سطح سے کم ہو کر تقریباً 30 فیصد رہ گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 17.1 ارب ڈالر ہیں، جبکہ جنوری 2023 میں یہ محض 3.1 ارب ڈالر کی کم ترین سطح تک پہنچ گئے تھے۔
اس کے باوجود ان میں سے کسی پیش رفت نے ایسی معیشت کو جنم نہیں دیا جو ترقی کر رہی ہو۔ جی ڈی پی میں سرمایہ کاری کا حصہ تقریباً تاریخ کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔ مالی سال 2022 کے بعد کسی بھی سال پیداوار میں 4 فیصد سے زیادہ اضافہ نہیں ہوا۔
بے روزگاری بڑھ رہی ہے، غربت بدستور بلند سطح پر ہے اور گھرانوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی حقیقی آمدن کے لحاظ سے 2019 کے مقابلے میں کم کما رہی ہے۔ پاکستان نے خود کو معاشی جمود میں مستحکم کر لیا ہے۔
اس صورتحال کو جنم دینے والا طریقہ کار کوئی پراسرار معاملہ نہیں۔ حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر قرض لینے کے باعث ملکی بینکاری نظام کی بیلنس شیٹ کی گنجائش کا بڑا حصہ حکومت کے استعمال میں آ گیا ہے، جس کے باعث دیگر شعبوں کے لیے محدود گنجائش باقی رہ گئی ہے۔ مرکزی بینک ایسے قرضوں میں توسیع کے بارے میں محتاط ہے جو درآمدی پلانٹ اور مشینری کی طلب میں اضافہ کرتے ہیں، اس لیے اسے ملکی سرمایہ کاری میں ایسے بڑے اضافے میں بھی زیادہ دلچسپی نہیں جو زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کا باعث بن سکتا ہو۔
چنانچہ بڑے پیمانے پر سرمایہ درکار رکھنے والی کمپنیوں کے لیے بیرونی ذرائع سے مالی اعانت حاصل کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے خودمختار خطرے کے پروفائل کو دیکھتے ہوئے غیر ملکی قرض دہندگان بھی ہچکچاتے ہیں۔ یہی خطرے کا اضافی پریمیم براہِ راست سرمایہ کاروں کو بھی بدظن کرتا ہے۔ یوں یہ دائرہ مکمل ہو جاتا ہے۔
اس دائرے کو برقرار رکھنے کی وجہ صرف بیرونی قرضے کا حجم نہیں، نہ ہی اس کی اوسط مدتِ ادائیگی۔ پاکستان کے بیرونی سرکاری قرضے کی اوسط مدت پہلے ہی چھ سال سے زیادہ ہے۔
اصل مسئلہ ان زرمبادلہ کی ادائیگیوں کا ارتکاز ہے جو بار بار 12 ماہ کی مدت کے اندر واجب الادا ہو جاتی ہیں۔ قلیل مدتی بیرونی ادائیگیاں، جن میں زیادہ تر ڈپازٹس، کمرشل سہولتیں اور دوطرفہ قرضوں کی مدت میں توسیع شامل ہے، ایک دہائی قبل صرف 5 سے 7 ارب ڈالر تھیں۔ اس کے بعد ان میں مسلسل بگاڑ آتا رہا اور اگست 2025 میں یہ 28.7 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
بعد ازاں بہتر جغرافیائی سیاسی حیثیت اور زرمبادلہ کے مضبوط ذخائر نے کچھ ریلیف فراہم کیا، جس کے باعث یہ رقم مارچ 2026 میں 27.6 ارب ڈالر سے کم ہو کر جولائی میں 20.7 ارب ڈالر رہ گئی۔ سمت تبدیل ہوئی ہے، لیکن سطح اب بھی بلند ہے۔
فنانسنگ کی ساخت اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ بین الاقوامی بانڈز پر پاکستان کا انحصار کم ہوا ہے جبکہ کثیرالجہتی اداروں سے حاصل ہونے والی فنانسنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ بذاتِ خود کوئی ناپسندیدہ امر نہیں۔
کثیرالجہتی اداروں کی فراہم کردہ رقوم عموماً سستی، طویل مدتی ہوتی ہیں اور بالکل اسی نوعیت کی فنانسنگ ہیں جسے ایک کمزور مالی حیثیت رکھنے والی خودمختار ریاست کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا چاہیے۔ تاہم ان کے ساتھ پالیسی سے متعلق شرائط، پروگرام کی مقررہ مدت اور محدود اختیارات بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ رعایتی فنانسنگ متنوع مارکیٹ ذرائع سے حاصل ہونے والی فنانسنگ کا متبادل نہیں بن سکتی۔ پاکستان کو دونوں کی ضرورت ہے۔
لہٰذا حل یہ نہیں کہ کثیرالجہتی قرضوں کی جگہ مہنگے بانڈز لے لیے جائیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ بار بار قرض کی مدت میں توسیع پر انحصار کرنے والی فنانسنگ کو طویل مدتی فنانسنگ میں تبدیل کیا جائے۔ اسلام آباد کو طویل المدتی بانڈز کے اجرا کے ذریعے عالمی کیپٹل مارکیٹوں میں دوبارہ واپسی اختیار کرنی چاہیے اور اپنی بہتر ہوتی ہوئی کریڈٹ حیثیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس مدت کو بڑھانا چاہیے جس کے دوران بیرونی زرمبادلہ کی واجب الادا ادائیگیوں کے لیے دوبارہ فنانسنگ درکار ہوگی۔
بانڈز پر ادا کیے جانے والے منافع کی شرح کثیرالجہتی اداروں کی جانب سے وصول کیے جانے والے چارجز سے زیادہ ہوگی۔ تاہم جہاں متبادل ایسا قرض ہو جس کی ہر 12 ماہ بعد دوبارہ گفت و شنید کرنا پڑے، وہاں پاکستان کو اس اضافی مدتی لاگت کو برداشت کرنے پر آمادہ ہونا چاہیے۔
مارکیٹ سے حاصل کیے گئے قرض کے ساتھ پالیسی سے متعلق کوئی شرائط نہیں ہوتیں اور 10 سال میں میچور ہونے والے بانڈ کو ہر سال ایسے قرض دہندہ کے ساتھ دوبارہ رول اوور نہیں کرنا پڑتا جس کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی اپنی آرا ہو سکتی ہیں۔
حکومت کی اپنی قرض حکمتِ عملی بھی بڑی حد تک اسی مؤقف کو تسلیم کرتی ہے۔ اس میں انٹرنیشنل سکوک اور پانڈا بانڈز کے ساتھ ساتھ یورو بانڈ مارکیٹ میں بتدریج واپسی کا تصور پیش کیا گیا ہے، جبکہ ری فنانسنگ کے خطرے کو کم کرنے پر بھی واضح طور پر زور دیا گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ پہلے ہی اپنے عالمی میڈیم ٹرم نوٹ اور سکوک پروگراموں کے لیے بین الاقوامی بینکوں کی خدمات حاصل کر چکی ہے۔ سمت درست ہے، تاہم جو چیز اب بھی درکار ہے وہ اس کا حجم اور مقصد ہے۔
مارکیٹ تک رسائی محض ایسا ایک اور ذریعہ نہیں بننی چاہیے جس سے اسلام آباد سالانہ مالیاتی خلا کو پُر کرے۔ اسے دانستہ طور پر بیرونی بیلنس شیٹ کی ساخت کو ازسرِنو ترتیب دینے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
یہ فرق اہم ہے۔ پاکستان کو محض اس مقصد کے لیے مہنگے 10 سالہ ڈالر بانڈز جاری نہیں کرنے چاہئیں کہ حاصل ہونے والی رقم اسٹیٹ بینک میں رکھ کر زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم بڑھا ہوا دکھایا جا سکے۔ اسے مختصر مدت کے قرضوں کی ادائیگی کے لیے طویل مدتی قرض لینا چاہیے۔
اگلے تین سے چار برسوں کے دوران ایک معقول ہدف یہ ہو سکتا ہے کہ 10 سے 15 ارب ڈالر کی رول اوور پر منحصر بیرونی فنانسنگ کو طویل مدتی مارکیٹ قرضوں سے تبدیل کیا جائے، جبکہ مسلسل زرمبادلہ کی آمد کے ذریعے ذخائر کو 30 ارب ڈالر تک بڑھنے دیا جائے۔
اصل فائدہ ری فنانسنگ کے دباؤ کو مستقبل میں منتقل کرنے سے حاصل ہوگا، نہ کہ 8 یا 9 فیصد شرح پر قرض لے کر اسے غیر استعمال شدہ ذخائر کی صورت میں رکھنا اور اس سے نمایاں طور پر کم منافع کمانا۔
خودمختار قرضوں کی نسبتاً کم خطرے والی مدت اور ساخت سے پاکستان کے ہر منصوبے کو اچانک قابلِ فنانسنگ نہیں بنایا جا سکے گا، لیکن اس سے ہر نجی قرض لینے والے پر عائد ملکی خطرے کا اضافی پریمیم ضرور کم ہوگا۔
قرض دہندگان کان کنی، معدنیات، مینوفیکچرنگ اور انفرااسٹرکچر کے منصوبوں کا جائزہ ان کی اپنی معاشی افادیت کی بنیاد پر لینا شروع کر سکتے ہیں، بجائے اس کے کہ ہر منصوبے کے لیے قرض دینے سے پہلے حکومت کی آئندہ 12 ماہ کی مالی ضروریات کو بنیادی سوال سمجھا جائے۔ گرین فیلڈ سرمایہ کاری بھی اس خوف کے بغیر آگے بڑھ سکتی ہے کہ درآمد کی جانے والی ہر ٹربائن کو بنیادی طور پر زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ سمجھا جائے گا۔
اسٹیٹ بینک سرمایہ کاری اور درآمدات کو محدود کرنے کے بجائے بیرونی سرمایہ کاری اور دیگر زرمبادلہ کی آمد کے ذریعے اپنے ذخائر میں حفاظتی گنجائش پیدا کر سکتا ہے۔
اب اقدام کرنے کی ضرورت صرف مالی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے۔ علاقائی تنازع کو کم کرنے میں پاکستان کے کردار کے باعث عالمی سطح پر اس کی حیثیت میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ اس کی مالیاتی پوزیشن اور بیرونی مالیاتی بفرز بھی کئی برسوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہیں مگر دونوں فوائد مستقل نہیں رہیں گے۔
سفارتی سرمایہ وقت کے ساتھ کمزور پڑتا ہے، تیل کی قیمتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے قرضوں کے لیے مواقع بغیر کسی پیشگی اطلاع کے بند ہو سکتے ہیں۔ پاکستان نے اپنی ساکھ بحال کرنے میں تین سال صرف کیے ہیں۔ وزارتِ خزانہ کو اب چاہیے کہ مارکیٹ کی جانب سے اس ساکھ کو قدر دینے کا سلسلہ برقرار رہنے تک اسے طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کرے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026
























Comments