پاکستان کو مزید منصوبوں کی نہیں، بلکہ تزویراتی تسلسل، مؤثر عمل درآمد اور ایسے ادارے کی ضرورت ہے جو اگلے بحران سے بچنے کے بجائے ایسا معاشی نظام تشکیل دے جو اگلے بحران کو جنم ہی نہ لینے دے
اس طریقہ کار میں بالخصوص ملکی وسائل کو بہتر انداز میں متحرک کرنا اور مؤثر لائیبلٹی مینجمنٹ آپریشنز کے ذریعے کم لاگت پر نجی شعبے سے زیادہ سرمایہ کاری حاصل کرنا شامل ہے
پاکستان کو قرض لے کر موجودہ اخراجات پورے کرنے کی طویل عرصے سے جاری روایت ترک کرنا ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو جامع ٹیکس اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات خود وضع کرکے مؤثر انداز میں نافذ کرنا ہوں گی۔
قرض کی تفصیلات کے مطابق 81.37 ٹریلین روپے کے مجموعی قرض میں ملکی قرض 55.36 ٹریلین روپے، بیرونی قرض 23.16 ٹریلین روپے جبکہ آئی ایم ایف کا قرض 2.74 ٹریلین روپے تھا۔
کسی بھی ملک کو اپنے اسٹریٹیجک اثاثے فروخت نہیں کرنے چاہئیں، ہم آج کے مسائل حل کرنے کے لیے مستقبل کے مسائل پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کوئی ادارہ قابلِ عمل نہیں تو اسے بند کر دینا چاہیے
یہ جاننا ضروری ہے کہ آیا یہ ایک وقتی کامیابی ہے یا پائیدار بہتری۔ 2026-27 کے لیے بجٹ خسارے کا ہدف جی ڈی پی کا 3.6 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک فیصد زیادہ ہے
نیپرا کے فیصلے کے مطابق منصوبے کا جنریشن ٹیرف پہلے 12 سال کے لیے 17.3751 روپے فی کلوواٹ گھنٹہ جبکہ 13ویں سے 30ویں سال تک 8.2686 روپے فی کلوواٹ گھنٹہ ہوگا
سی پیک کے پہلے مرحلے کو معقول حد تک ایک مشروط کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ اس نے پاکستان کے بعض اہم ترین بنیادی ڈھانچے کے مسائل حل کیے
سی پیک 1.0 نے یہ ثابت کر دیا کہ صرف بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کسی معیشت کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ سی پیک 2.0 اسی سبق کو مدنظر رکھتے ہوئے پیداواریت، برآمدات اور صنعتی ترقی پر زور دیتا ہے
2022 کے بعد سے او ایم اوز میں تیز اور مسلسل اضافہ اس لیے کسی الگ تھلگ مالیاتی رجحان کے طور پر نہیں بلکہ معاشی پالیسی کی مجموعی سمت کے بارے میں بطور ایک انتباہی اشارے کے دیکھا جانا چاہیے