جون 2026 کی رپورٹ کے مطابق سرکلر ڈیٹ جو شعبے میں موجود نااہلی کی عکاسی کرتا ہے، 61 ارب روپے بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں جون کے اختتام تک قرض کا حجم 1.675 ٹریلین روپے ہوگیا، جبکہ جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے تحت انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ 1.614 ٹریلین روپے کا ہدف طے کیا گیا تھا۔
حکام نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ جون 2026 میں صورتحال دو وجوہات کی بنا پر مزید خراب رہی: کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی خریداری کے عوض 200 ارب روپے کی عدم ادائیگی، جبکہ بعض ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی کمزور کارکردگی نے مزید 100 ارب روپے کا اضافہ کیا۔ اس صورتحال نے یہ جائز سوال اٹھایا کہ جب واجب الادا رقوم ادا ہی نہیں کی جارہیں تو سرکلر ڈیٹ کے بہاؤ کو صفر تک کیسے محدود کیا جاسکتا ہے۔
پاور ڈویژن نے جون 2026 میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بریفنگ دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پہلے طے کیا گیا ہدف اس وقت حقیقت پسندانہ سمجھا گیا تھا کیونکہ عالمی ہائیڈروکاربن کی قیمتیں کم تھیں، وصولیوں میں بہتری آئی تھی، تکنیکی نقصانات کم ہوئے تھے اور شرح سود میں کمی آرہی تھی۔ ان عوامل کے نتیجے میں سبسڈی میں متوقع بچت ہونی تھی، جس کے باعث گزشتہ مالی سال کے اختتام تک سرکلر ڈیٹ میں 779 ارب روپے کی کمی کرکے اسے 1.614 ٹریلین روپے تک لایا جانا تھا۔
تاہم 31 مئی 2026 کو سرکلر ڈیٹ بڑھ کر 1.924 ٹریلین روپے ہوگیا، جس میں منظور شدہ سرکلر ڈیٹ فنانسنگ کے تحت بینکوں کو واجب الادا 873 ارب روپے بھی شامل تھے۔ قرض کی ادائیگی کے لیے ایک ٹاسک فورس کی سفارش پر تجارتی بنیادوں پر 1.23 ٹریلین روپے حاصل کیے گئے تھے، جبکہ اس پر واجب الادا سود صارفین پر منتقل کیا جانا تھا۔ آئی ایم ایف نے اس بار اس تجویز سے اتفاق کیا کیونکہ ڈسکاؤنٹ ریٹ 22 فیصد سے کم ہوکر 11.5 فیصد ہونے کے باعث قرض پر عائد ہونے والے سود میں کمی آئی ہے۔
کے الیکٹرک کے ٹیرف سے متعلق معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، تاہم پاور ڈویژن نے عہد کیا ہے کہ وہ اس کیس کو فعال طور پر آگے بڑھائے گا۔ ڈویژن نے تقریباً 152 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ (ٹی ایس جی) کو ڈیمانڈ نمبر 45، جو فنانس ڈویژن کے لیے مختص ہے، سے ڈیمانڈ نمبر 33، جو پاور ڈویژن کے لیے مختص ہے، منتقل کرکے مخصوص انرجی اور پاور سیکٹر منصوبوں، مثلاً سولرائزیشن اقدامات یا سبسڈی ایڈجسٹمنٹ، کی فوری فنانسنگ کے لیے استعمال کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس کا مقصد طے شدہ سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کے مطابق اقدامات کرنا اور آئی ایم ایف کی اگلی قسط کے اجرا میں تاخیر یا معطلی کے امکان کو روکنا ہے۔
16 جون 2026 کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاور ڈویژن کی جانب سے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے لیے 152 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ (ٹی ایس جی) جاری کرنے کی تجویز کا جائزہ لیا۔ کمیٹی نے 54.451 ارب روپے کی جزوی رقم جاری کرنے کی منظوری دی، جبکہ باقی 97.549 ارب روپے کو ایڈجسٹ کردیا گیا۔
طے شدہ ہدف اور پاور ڈویژن کی جانب سے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے دی جانے والی سفارشات ماضی میں بھی پیش اور نافذ کی جاچکی ہیں، اور تجزیہ کاروں میں اس بات پر زیادہ اطمینان نہیں پایا جاتا کہ اس مرتبہ نتیجہ مستقل ہوگا، یعنی پہلے سرکلر ڈیٹ کے بہاؤ کو روکا جائے گا اور اس کے بعد اسٹاک کو کم کیا جائے گا۔
حکومت کو پاور سیکٹر کو درپیش مسائل کا مجموعی اور جامع جائزہ لینے کی ضرورت ہے، اور سفارشات میں تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے لیے ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی ختم کرنا بھی شامل ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ہر ڈسکو کو اپنے لاگت کے ڈھانچے کی بنیاد پر اپنی قیمت مقرر کرنے کی اجازت دی جائے، کیونکہ یہ مد قومی خزانے پر ہر سال تقریباً 750 ارب روپے کا بوجھ ڈالتی ہے۔
اسی کے ساتھ حکومت کو انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ کیے گئے تمام ناقص معاہدوں کا بھی جائزہ لینا ہوگا، بالخصوص ڈالر میں کیے گئے پے اور ٹیک معاہدوں کا، جن کے تحت طے شدہ ٹیرف پر دوبارہ مذاکرات نہیں کیے جاسکتے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments