آٹو پالیسی، صنعتی تحفظ دوراہے پر
- بالآخر مختلف حکومتی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان آٹو پالیسی پر اتفاقِ رائے قائم ہونے کے آثار پیدا ہوگئے ہیں
بالآخر مختلف حکومتی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان آٹو پالیسی پر اتفاقِ رائے قائم ہونے کے آثار پیدا ہوگئے ہیں۔ سابقہ پالیسی 30 جون کو ختم ہوگئی تھی اور اس کے بعد سے صنعت اور صارفین کسی واضح سمت کے منتظر ہیں تاکہ اپنے فیصلے کرسکیں۔
اختلاف صنعتوں اور تجارت کی وزارتوں کے درمیان ہے، کیونکہ دونوں کے مقاصد ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ صنعتوں کی وزارت اسمبلرز کو تحفظ برقرار رکھ کر موجودہ صورتحال کا دفاع کر رہی ہے، جبکہ تجارت کی وزارت قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 کے مطابق اصلاحات پر زور دے رہی ہے۔
امکان ہے کہ جلد وزیراعظم کو ایک بریفنگ دی جائے گی اور اس کے بعد اگلا مرحلہ آئی ایم ایف کی منظوری حاصل کرنا ہوگا۔
کہانی کا آغاز مکمل تیار شدہ گاڑیوں (سی بی یو) پر ڈیوٹی میں کمی سے ہوتا ہے۔ مختلف انجن سائز کے لیے کسٹمز ڈیوٹی 50 سے 60 فیصد کم کرکے 30 سے 40 فیصد کردی گئی ہے۔ ریگولیٹری ڈیوٹیز میں بھی کمی کی گئی ہے۔ تاہم مکمل ناک ڈاؤن (سی کے ڈی) کٹس کے لیے ڈیوٹی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں اسمبلرز کو حاصل تحفظ جزوی طور پر ختم ہوگیا۔
اس معاملے کے بجٹ میں شامل ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ صنعت اپنے حصے کے لیے ہونے والی کشمکش میں اتنی مصروف تھی کہ اصل پالیسی بحث پسِ پشت چلی گئی۔ آئی سی ای پر توجہ مرکوز رکھنے والے کھلاڑی نئی توانائی کی گاڑیوں (این ای ویز) کے لیے معاونت کے مخالف تھے، جبکہ این ای وی شعبے کے اندر بھی برقی گاڑیوں (ای ویز) اور ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے مراعات کے معاملے پر شدید بحث جاری رہی۔ای ویز اور ری-ایکسٹینڈڈ رینج الیکٹرک وہیکلز (آر ای ای ویز) کو کم ڈیوٹی اور جی ایس ٹی کی شرح پر ایک سال کی توسیع مل گئی۔ پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز ( پی ایچ ای ویز) اور ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (ایچ ای ویز) کو یہ سہولت حاصل نہ ہوسکی، کیونکہ ان کے لیے سیلز ٹیکس کی رعایت ختم ہوگئی۔
بعدازاں اسمبلرز کو احساس ہوا کہ سی کے ڈی اور سی بی یو ڈیوٹی کے درمیان کم ہوتا ہوا فرق درآمد کنندگان کو مارکیٹ میں زیادہ حصہ حاصل کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔ اس صورتحال نے انہیں محتاط کردیا، جس کے نتیجے میں متعدد کمپنیوں نے پیداوار کم کردی اور قیمتوں کے اعلان میں تاخیر شروع کردی، خصوصاً پی ایچ ای ویز اور ایچ ای ویز کے حوالے سے۔
انہیں صنعتوں کی وزارت کی حمایت حاصل ہے، جس نے تجارت کی وزارت اور ماہرین اقتصادیات کی ایک ٹیم کی جانب سے پیش کیے جانے والے مضبوط آزاد منڈی کے دلائل کی مزاحمت کی ہے۔
اس کے مقابل مؤقف یہ ہے کہ تقریباً 4 دہائیوں کے تحفظ کے باوجود جو صنعت مسابقت اور پیداواری حجم حاصل کرنے میں ناکام رہی ہو، اسے اسی سطح کی مسلسل معاونت نہیں ملنی چاہیے۔ گزشتہ 3 آٹو پالیسیوں میں سالانہ 500,000 گاڑیوں کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، لیکن صنعت زیادہ سے زیادہ اس ہدف کے تقریباً دو تہائی تک ہی پہنچ سکی ہے۔ اس عمل کی قیمت صارفین اور قومی خزانے نے ادا کی ہے۔
دوسرا فریق مؤقف اختیار کرتا ہے کہ مجموعی معاشی عوامل اور پیداواری سلسلے کے پچھلے مراحل کی ترقی نہ ہونے نے پیداواری حجم اور عالمی مسابقت حاصل کرنے میں رکاوٹ ڈالی۔ ان کے مطابق بلند شرح سود اور بھاری ٹیکسوں کے ادوار نے طلب کو محدود رکھا ہے۔ مزید یہ کہ پرزہ جات اور پیداوار اس وقت تک بڑے پیمانے پر نہیں ہوسکتے جب تک اسٹیل، شیشے اور دیگر شعبوں میں پچھلے مرحلے کی صنعتی پیداوار موجود نہ ہو، کیونکہ تمام خام مال درآمد کرنا پڑتا ہے۔
صنعت اپنے نقطۂ نظر سے درست ہوسکتی ہے، لیکن بڑی تصویر یہ ہے کہ وجہ جو بھی ہو، نتیجہ یہ ہے کہ صنعت کو تحفظ کے بغیر زندہ رہنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
اور اس صورتحال میں مستقبل قریب میں تبدیلی کے امکانات کم ہیں۔ تو پھر ایسے وقت میں مالی وسائل مسلسل اسی شعبے کی جانب منتقل کرنے کا کیا فائدہ، جبکہ یہی وسائل دیگر شعبوں کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں؟
تاہم موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنا آسان نہیں۔ آٹو اسمبلرز اور پرزہ جات بنانے والے ادارے براہ راست اور بالواسطہ روزگار فراہم کرتے ہیں، جس پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ مزید یہ کہ گزشتہ 10 برس کے دوران نئے آنے والے اداروں نے 1 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے، جو ضائع شدہ سرمایہ بن سکتی ہے۔
صنعت بغیر کسی معاون اعداد و شمار کے دعویٰ کرتی ہے کہ وہ 1.8 سے 2.5 ملین ملازمتیں پیدا کرتی ہے۔
تاہم کمیٹی کی تفصیلی غور و خوض کے بعد سامنے آنے والا اصل تخمینہ تقریباً 300,000 ملازمتوں کا معلوم ہوتا ہے، جو مجموعی منظرنامے میں نسبتاً کم تعداد ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وزارت کے پاس صنعت کے مجموعی کردار کا کوئی باقاعدہ دستاویزی تخمینہ موجود نہیں، جس میں روزگار، مجموعی قومی پیداوار میں حصہ، زرمبادلہ کی بچت اور انجینئرنگ کے شعبے کی بنیاد مضبوط بنانے میں صنعت کا کردار شامل ہو۔
اس کے باوجود آٹوموبائل لابیز تحفظ برقرار رکھنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔ ان کی بات سننے والے بااثر حلقے موجود ہیں جو موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کے طاقتور حلقے بھی برقی گاڑیوں کی حمایت چاہتے ہیں۔ چنانچہ امکان ہے کہ اتفاقِ رائے سی کے ڈی ڈیوٹی میں کمی اور اس کے منفی مالیاتی اثرات کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) عائد کرکے غیر مؤثر بنانے کے گرد قائم ہوگا۔
حکومت این ای ویز اور چھوٹی گاڑیوں کی حمایت کے لیے ایف ای ڈی میں مرحلہ وار اضافہ بھی کرسکتی ہے۔ دریں اثنا پی ایچ ای ویز اور ایچ ای ویز پر جی ایس ٹی موجودہ 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کیا جاسکتا ہے۔ مستقبل میں ای وی پرزہ جات کی سی کے ڈی اسمبلی کو کچھ تحفظ بھی برقرار رہ سکتا ہے۔
ایک مرتبہ پالیسی وزیراعظم کے سامنے پیش کردی جائے اور وزیراعظم ہاؤس سے منظوری حاصل ہوجائے تو اگلا مرحلہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ہوگا، جو عمومی طور پر آٹوموبائلز اور خصوصاً برقی گاڑیوں کے لیے کسی بھی قسم کے تحفظ کے خلاف ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ پالیسی کو حتمی شکل کیا دی جاتی ہے۔
تاہم پالیسی سازوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ آٹوموبائل اور پرزہ جات کی تیاری مجموعی قومی پیداوار کے 1 فیصد سے بھی کم ہے، اس لیے اس شعبے میں کسی بھی خلل کا وسیع تر معیشت پر نمایاں اثر پڑنے کا امکان کم ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اس شعبے کی جانب سے پیدا کی جانے والی ہر ملازمت کی مالی قیمت ٹیکس دہندگان برداشت کرتے ہیں، جبکہ اس کا بڑا فائدہ آٹو اسمبلرز اور ان کے بین الاقوامی شراکت دار حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح کی مفاد پرستانہ معاشی سرگرمی بدستور جاری رہ سکتی ہے۔



















Comments