محسن رضائی ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری مقرر
- محسن رضائی اپنے پیشرو محمد باقر ذوالقدر کے مقابلے میں زیادہ نمایاں اور دوٹوک مؤقف رکھنے والی عوامی شخصیت سمجھے جاتے ہیں
ایران نے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل (ایس این ایس سی) کے سیکریٹری کو تبدیل کرتے ہوئے سابق کمانڈر پاسداران انقلاب محسن رضائی کو کونسل کا نائب سربراہ مقرر کردیا ہے۔ یہ ادارہ ملک کی سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی میں رابطہ کاری کا اہم مرکز ہے۔
محسن رضائی اپنے پیشرو محمد باقر ذوالقدر کے مقابلے میں زیادہ نمایاں اور دوٹوک مؤقف رکھنے والی عوامی شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی تقرری کا اعلان صدر مسعود پزشکیان کے نائب ڈائریکٹر برائے مواصلات نے اتوار کی رات کیا۔
باقر ذوالقدر کو رواں سال مارچ کے آخر میں ایس این ایس سی کا سیکریٹری مقرر کیا گیا تھا۔ ان کے پیشرو علی لاریجانی ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان جنگ کے دوران ایک فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔
محسن رضائی کی تقرری کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اور فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس تبدیلی سے ایران کی پالیسی میں کوئی تبدیلی آئے گی یا نہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کو کہا تھا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے نئے بحری راستے سے متعلق معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ جنگ کے 5 ماہ کے دوران یہ اہم آبی گزرگاہ تقریباً بند رہی ہے، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ اسے دوبارہ کھولنے کا انحصار دیگر شرائط کی تکمیل پر ہوگا، جن میں امریکا کی جانب سے ایران کو جنگی نقصانات کا معاوضہ بھی شامل ہے۔
باقر ذوالقدر نے اس سے قبل ایران کے دیگر مطالبات بھی بیان کیے تھے، جن میں ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں کا خاتمہ، ایران اور اس کے لبنانی، فلسطینی، یمنی اور عراقی اتحادیوں کے خلاف جارحیت روکنا، ایران پر عائد ناکہ بندی اور پابندیاں ختم کرنا اور ایرانی اثاثے بحال کرنا شامل ہیں۔
71 سالہ محسن رضائی نے 1981 سے 1997 تک اسلامی پاسداران انقلاب کی کمان سنبھالی، جس میں ایران عراق جنگ کا بڑا حصہ بھی شامل تھا۔ بعد ازاں وہ 2 دہائیوں سے زائد عرصے تک ایران کی ایکسپیڈیئنسی ڈسکیرنمنٹ کونسل کے سیکریٹری اور 2021 سے 2023 تک سخت گیر صدر ابراہیم رئیسی کے دور میں اقتصادی امور کے نائب صدر رہے۔
دریں اثنا، سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اتوار کو ایک حکم نامے کے ذریعے محسن رضائی کو ایس این ایس سی میں اپنا نمائندہ بھی مقرر کیا۔ اسی حکم نامے میں باقر ذوالقدر کو اپنا سیاسی مشیر مقرر کیا گیا ہے۔























Comments