بنیادی مسئلہ بدستور صوبوں کی جانب سے محصولات کی انتہائی کم وصولی ہے۔ اس کے نتیجے میں قومی سطح پر ٹیکس بہ نسبتِ جی ڈی پی ( ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو) تقریباً 12 فیصد کے قریب رہتا ہے، جو نسبتاً کم ہے۔
اس کے برعکس، دیگر ایشیائی ممالک میں یہ شرح عموماً 14 فیصد سے 18 فیصد کے درمیان ہے۔
جب تک اسلام آباد اور آئی ایم ایف اس وسیع مالیاتی عدم توازن کو یکساں سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش نہیں کرتے، پاکستان ایک ہی چکر میں پھنسا رہے گا، مذاکرات، شرائط، وقتی ریلیف اور پھر ایک بار پھر فنڈ کی جانب رجوع