BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.23%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.64 (3.66%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.20 Decreased By ▼ -0.51 (-0.54%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 198.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
HUMNL 9.75 Decreased By ▼ -0.10 (-1.02%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 90.33 Decreased By ▼ -0.90 (-0.99%)
OGDC 315.40 Increased By ▲ 2.01 (0.64%)
PAEL 34.73 Decreased By ▼ -0.51 (-1.45%)
PIBTL 14.23 Decreased By ▼ -0.48 (-3.26%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 90.89 Decreased By ▼ -0.33 (-0.36%)
SNGP 90.30 Decreased By ▼ -0.57 (-0.63%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 7.40 Decreased By ▼ -0.21 (-2.76%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 54.35 Decreased By ▼ -1.44 (-2.58%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)

عبدالرؤف شکوری

مالیاتی خودمختاری کے بغیر آزادی
رائے

مالیاتی خودمختاری کے بغیر آزادی

  • پاکستان نے 14 اگست 1947ء کو ریاستی خودمختاری حاصل کرلی تھی، مگر اب وقت آگیا ہے کہ اسے عوام کی مالیاتی خودمختاری میں تبدیل کیا جائے۔ حقیقی معاشی آزادی اسی وقت ممکن ہے جب حکومت کی تینوں سطحوں پر ذمہ داریاں، مالی وسائل اور جواب دہی ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوں اور شہریوں کو معلوم ہو کہ ان کے ادا کردہ ٹیکس کہاں خرچ ہورہے ہیں۔
شائع 14 اگست 2026 05:38pm
پنجاب کے ڈیجیٹل ٹیکس کا فریبِ نظر
رائے

پنجاب کے ڈیجیٹل ٹیکس کا فریبِ نظر

  • پنجاب نے سپلائی چین کی حقیقی دستاویز سازی کے بجائے صرف آخری ڈیجیٹل ادائیگی پر ٹیکس عائد کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے؛ اس سے وقتی آمدن تو بڑھ سکتی ہے، مگر نہ حقیقی ویلیو ایڈڈ ٹیکس نظام قائم ہوگا، نہ نقد کے بغیر معیشت کو فروغ ملے گا، بلکہ نقد معیشت اور ٹیکس چوری کی مزید حوصلہ افزائی ہوگی۔
شائع 31 جولائ 2026 04:03pm
ہر فنانس ایکٹ دو کہانیاں بیان کرتا ہے
رائے

ہر فنانس ایکٹ دو کہانیاں بیان کرتا ہے

  • 14 برس قبل ہم نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان میں ٹیکس قوانین کی تشکیل کے عمل سے پارلیمان بتدریج غائب ہوتی جا رہی ہے۔ آج کے شواہد بتاتے ہیں کہ یہ غیاب اب تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ آئین کا یہ وعدہ کہ ٹیکس صرف باخبر اور سنجیدہ قانون سازی کے عمل کے ذریعے عائد کیے جائیں گے، رفتہ رفتہ ایک ایسے نظام میں بدل گیا ہے جہاں انتظامیہ کی تجاویز کو پارلیمان نہایت محدود جانچ پڑتال کے بعد رسمی منظوری دے دیتی ہے۔
شائع 03 جولائ 2026 05:15pm
فنانس بل 2026: ٹیکس بٹورنے سے کام نہیں چل سکتا!
رائے

فنانس بل 2026: ٹیکس بٹورنے سے کام نہیں چل سکتا!

  • شاید فنانس بل 2026 کا سب سے اہم پہلو وہ ہے جسے یہ چھیڑنے سے گریز کرتا ہے۔ یہ زرعی آمدنی پر ٹیکس کے مسئلے کو بنیادی سطح پر حل نہیں کرتا، نہ ہی ریٹیل سیکٹر کی ٹیکسیشن میں جامع اصلاحات متعارف کراتا ہے۔
  • یہ ودہولڈنگ ٹیکسوں پر حد سے زیادہ انحصار ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتا، قومی سطح پر یکساں سیلز ٹیکس نظام قائم نہیں کرتا
شائع 19 جون 2026 05:01pm
مالیاتی خسارے پر قابو پانا

مالیاتی خسارے پر قابو پانا

  • فنانس بل 2026 میں کاشت کاری سے حاصل ہونے والی آمدن اور زرعی زمین کی ملکیت سے حاصل ہونے والی آمدن میں واضح فرق کیا جانا چاہیے
  • غیر حاضر مالکان اور بڑے زمینداروں کو زمین کی ملکیت کی بنیاد پر حاصل ہونے والا زرعی کرایہ ایک الگ معاشی زمرہ ہے اور اسے ٹیکس نیٹ میں لایا جانا چاہیے
شائع 05 جون 2026 04:30pm
بجٹ 2026-27 اور مالیاتی انصاف
رائے

بجٹ 2026-27 اور مالیاتی انصاف

  • پاکستان اس وقت ایشیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ٹیکس نظام سب سے زیادہ منتشر اور کاروبار مخالف بن چکا ہے
شائع 15 مئ 2026 04:41pm
قرض، طاقت اور دولت کا فریب

قرض، طاقت اور دولت کا فریب

  • ایک اہم پہلو دولت کی گردش ہے۔ جب سرمایہ چند ہاتھوں میں مرتکز رہتا ہے تو مجموعی طلب کمزور پڑتی ہے، جدت کی رفتار سست ہوتی ہے اور سماجی تناؤ بڑھتا ہے۔
شائع 01 مئ 2026 03:53pm
کرپٹو ٹیکسیشن کے بنیادی نکات
رائے

کرپٹو ٹیکسیشن کے بنیادی نکات

  • اس پورے نظام کی بنیاد بلاک چین ٹیکنالوجی پر ہے، جس نے غیر مرکزی ، شفاف اور پروگرام ایبل مالی لین دین کو ممکن بنایا ہے
شائع 03 اپريل 2026 11:36am
بے انجام جنگ؟
رائے

بے انجام جنگ؟

  • عراق اور افغانستان اس بات کی حالیہ مثالیں ہیں کہ زبردست طاقت تصوراتی ابہام کا ازالہ نہیں کر سکتی
  • اگر موجودہ رجحانات جاری رہیں تو یہ تنازع محض ایک محدود انفرادی بحران کے طور پر یاد نہیں رکھا جائے گا
  • یہ ایک ایسے عالمی نظام کے بتدریج زوال کے مرحلے کی نشاندہی کرے گا جو خود ہی پیدا کی ہوئی قوتوں کو قابو کرنے میں اب ناکام ہو چکا ہے
شائع 27 مارچ 2026 05:30pm