BR100 Decreased By (-2.95%)
BR30 Decreased By (-3.56%)
KSE100 Decreased By (-2.45%)
KSE30 Decreased By (-2.44%)
BAFL 57.29 Decreased By ▼ -0.81 (-1.39%)
BIPL 26.82 Decreased By ▼ -0.83 (-3%)
BOP 33.77 Decreased By ▼ -1.52 (-4.31%)
CNERGY 9.66 Decreased By ▼ -0.39 (-3.88%)
DFML 18.53 Decreased By ▼ -0.85 (-4.39%)
DGKC 204.05 Decreased By ▼ -13.25 (-6.1%)
FABL 96.98 Decreased By ▼ -2.75 (-2.76%)
FCCL 51.15 Decreased By ▼ -3.07 (-5.66%)
FFL 16.62 Decreased By ▼ -0.66 (-3.82%)
GGL 23.02 Decreased By ▼ -1.66 (-6.73%)
HBL 299.16 Decreased By ▼ -11.77 (-3.79%)
HUBC 217.25 Decreased By ▼ -5.53 (-2.48%)
HUMNL 10.89 Decreased By ▼ -0.11 (-1%)
KEL 7.59 Decreased By ▼ -0.34 (-4.29%)
LOTCHEM 30.39 Decreased By ▼ -1.24 (-3.92%)
MLCF 93.90 Decreased By ▼ -7.04 (-6.97%)
OGDC 329.00 Decreased By ▼ -2.59 (-0.78%)
PAEL 41.61 Decreased By ▼ -2.30 (-5.24%)
PIBTL 16.48 Decreased By ▼ -1.11 (-6.31%)
PIOC 258.00 Decreased By ▼ -11.54 (-4.28%)
PPL 226.00 Decreased By ▼ -6.42 (-2.76%)
PRL 42.21 Decreased By ▼ -0.52 (-1.22%)
SNGP 103.99 Decreased By ▼ -6.78 (-6.12%)
SSGC 28.90 Decreased By ▼ -1.79 (-5.83%)
TELE 8.81 Decreased By ▼ -0.50 (-5.37%)
TPLP 10.72 Decreased By ▼ -1.03 (-8.77%)
TRG 61.40 Decreased By ▼ -2.67 (-4.17%)
UNITY 9.72 Decreased By ▼ -0.33 (-3.28%)
WTL 1.23 Decreased By ▼ -0.05 (-3.91%)
دنیا

امریکا کا ایران پر مسلسل تیسرے روز حملہ، معاہدے کا امکان برقرار ہے، ٹرمپ

  • سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی صلاحیت محدود کرنا ہے۔
شائع اپ ڈیٹ

امریکا نے منگل کی صبح ایران پر نئے فضائی حملوں کا آغاز کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے باوجود کہا ہے کہ تہران کے ساتھ معاہدے کا امکان اب بھی موجود ہے۔

ٹرمپ نے پیر کو ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ ہم آج رات بھی بھرپور حملہ کریں گے اور کل بھی سخت کارروائی کریں گے۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف حملے گرین واچ وقت کے مطابق رات 8 بج کر 45 منٹ پر شروع کر دیے گئے، جو مسلسل تیسرے روز کی کارروائی ہے۔

سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی صلاحیت محدود کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے بھی تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کانگریس کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے سے آگاہ کر دیا تھا، جس کے بعد پینٹاگون کو مزید 60 روز تک کارروائی کا اختیار حاصل ہوگیا۔

ادھر ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحرین، اردن، کویت اور عمان میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی حملوں میں جنوبی اور مغربی ایران کے متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کی نطنز تنصیب کے قریب واقع زیرِ زمین جوہری مقام پک ایکس ماؤنٹین کو تباہ کرنے کی دھمکی بھی دی۔ دوسری جانب انہوں نے اعلان کیا کہ امریکا منگل سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرے گا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی کارگو پر 20 فیصد فیس عائد کی جائے گی، جبکہ ایران کے علاوہ دیگر ممالک کو آزادانہ آمدورفت کی اجازت ہوگی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس اعلان کا طنزیہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ محفوظ گزرگاہ کی قیمت وصول کرنا درست ہے، لیکن 20 فیصد بہت زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی بڑھتی عسکری کارروائیاں کسی مستقل معاہدے کے امکانات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔

Comments

200 حروف