امریکا، ایران کشیدگی: اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 100 انڈیکس تقریباً 5,000 پوائنٹس گرگیا
- دوپہر 12 بجکر 4 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 174,942.03 پوائنٹس پر آگیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو شدید فروخت کا دباؤ غالب آگیا جس کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ ٹریڈنگ سیشن کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 5 ہزار پوائنٹس کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔
دوپہر 12 بجکر 4 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 4,985.01 پوائنٹس یا 2.77 فیصد کی کمی سے 174,942.03 پوائنٹس پر آگیا۔
آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں سمیت تقریباً تمام بڑے شعبوں میں شدید فروخت دیکھی گئی۔ ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل ، پی پی ایل ، حبکو ، ایم سی بی بینک ، میزان بینک اور یونائیٹڈ بینک بھی منفی زون میں دکھائی دیے۔
یاد رہے کہ پیر کو اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کا آغاز مندی کے رجحان سے ہوا جہاں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ گئی اور وسیع پیمانے پر فروخت کے دباؤ نے بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس کو 180,000 پوائنٹس کی سطح سے نیچے دھکیل دیا۔
گزشتہ روز 100 انڈیکس 2,314.73 پوائنٹس یعنی 1.27 فیصد کی کمی سے 179,927 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر بھی منگل کو ایشیائی ٹریڈنگ کے ابتدائی اوقات میں حصص بازار اتار چڑھاؤ کا شکار رہا جبکہ خام تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان تھا کہ امریکا خلیج میں ایرانی بحری جہازوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کررہا ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کارگو پر 20 فیصد فیس وصول کرے گا۔
سیشن کے آغاز میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا جہاں جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص کا ایس ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 0.4 فیصد بڑھ گیا، جس کی قیادت جنوبی کوریا کے حصص نے کی جن میں 2.2 فیصد اضافہ ہوا۔
جاپان کا نکئی 225 انڈیکس 0.2 فیصد اوپر رہا جب کہ ایس اینڈ پی 500 ای-منی فیوچرز میں 0.1 فیصد کمی دیکھی گئی۔
ایشیا میں ٹریڈنگ دوبارہ شروع ہونے پر برینٹ خام تیل کے فیوچرز 2.6 فیصد اضافے کے ساتھ 85.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے جو جون کے وسط کے بعد ان کی بلند ترین سطح ہے۔
پیر کو امریکی فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر کے سخت مؤقف پر مبنی بیانات نے بھی مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ آنے والے اعدادوشمار سے ظاہر ہوا کہ افراطِ زر بدستور 2 فیصد کے ہدف سے نمایاں طور پر زیادہ ہے تو امریکی مرکزی بینک کو قریب مستقبل میں شرحِ سود مزید بڑھانے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
رات بھر وال اسٹریٹ میں حصص کی فروخت کا شدید دباؤ دیکھنے میں آیا جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بھڑک اٹھنے کے بعد تیل کے فیوچرز کی قیمتیں 9 فیصد سے زائد بڑھ گئیں کیونکہ اس تنازع نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کے ذریعے سامان کی ترسیل کو متاثر کردیا۔
دوسری جانب سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق فیڈ فنڈز فیوچرز اس بات کا 43.3 فیصد امکان ظاہر کررہے ہیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو 28 اور 29 جولائی کو ہونے والے اپنے آئندہ دو روزہ اجلاس میں شرحِ سود میں 25 بیسس پوائنٹس (0.25 فیصد) اضافہ کرے گا۔ جمعہ کو یہی امکان 34.2 فیصد تھا۔
یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے






















Comments