سولر توانائی نے بجلی کی طلب کا پیٹرن بدل دیا، اویس لغاری
- حکومت نے بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کے فروغ کے اقدامات تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیر توانائی
وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری نے ہفتے کے روز خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے روف ٹاپ سولر سسٹمز بجلی کی طلب کے انداز کو تبدیل کر رہے ہیں اور قومی گرڈ کے لیے نئے آپریشنل چیلنجز پیدا کر رہے ہیں، جس کے باعث حکومت نے بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کے فروغ کے اقدامات تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
لاہور میں پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر توانائی نے کہا کہ ملک بھر میں تقسیم شدہ سولر تنصیبات میں اضافے کے نتیجے میں دن کے اوقات میں بجلی کی طلب میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ شام کے وقت گرڈ پر بوجھ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طلب میں یہ ساختی تبدیلی گرڈ کے انتظام پر دباؤ ڈال رہی ہے، کیونکہ دن کے وقت پیدا ہونے والی اضافی بجلی کو غروب آفتاب کے بعد بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ متوازن رکھنا ضروری ہو گیا ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ اگر مناسب ذخیرہ کرنے کی صلاحیت دستیاب نہ ہوئی تو سولر توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے قومی گرڈ کا استحکام متاثر ہو سکتا ہے، نظام میں غیر مؤثریت بڑھے گی اور مہنگے پیکنگ پاور پلانٹس پر انحصار برقرار رکھنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز اس مسئلے کا مؤثر حل بن کر سامنے آئے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے دن کے وقت پیدا ہونے والی اضافی سولر بجلی ذخیرہ کی جا سکتی ہے اور شام کے وقت طلب میں اضافے کے دوران اسے استعمال میں لایا جا سکتا ہے، جس سے گرڈ کی لچک بہتر ہوگی اور نظامی لاگت میں بھی کمی آئے گی۔
وزیر توانائی نے کہا کہ حکومت نے بیٹری اسٹوریج کو قومی سطح پر ایک اسٹریٹجک ترجیح قرار دیا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک وفاقی اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو جامع قومی بیٹری انرجی اسٹوریج پالیسی تیار کرے گی اور اس پر تیزی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔
انہوں نے کہا کہ قومی گرڈ کے علاوہ بیٹری اسٹوریج گلگت بلتستان، گوادر اور دیگر دور دراز و کم سہولیات والے علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے دیرینہ مسائل حل کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ یہ ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی استعداد اور مضبوطی میں بھی اضافہ کرے گا۔
اویس لغاری نے زور دیا کہ بیٹری اسٹوریج کے تیز رفتار فروغ کے ساتھ مؤثر ریگولیٹری نگرانی بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صرف بین الاقوامی معیار کی تصدیق شدہ بیٹریاں استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے تاکہ حفاظت اور قابلِ اعتماد کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزارت توانائی نے تمام متعلقہ اداروں کو انٹرنیشنل الیکٹرو ٹیکنیکل کمیشن کے معیارات اپنانے کی ہدایت کی ہے، جس کے تحت تمام بیٹری ماڈیولز کے لیے سرٹیفکیشن لازمی قرار دی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ حکومت ایک جامع بیٹری مینوفیکچرنگ پالیسی بھی تیار کر رہی ہے، جس کا مقصد ملک میں بیٹریوں کی مقامی پیداوار کو فروغ دینا، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو ممکن بنانا ہے۔
ان کے مطابق اس پالیسی سے مقامی سپلائی چین کو فروغ ملے گا، ہنرمند افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان خطے میں بیٹری مینوفیکچرنگ کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر سکے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل میں الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد میں متوقع اضافے سے بجلی کی تقسیم کے نظام پر مزید دباؤ پڑے گا، اگر اس کے ساتھ مناسب بیٹری اسٹوریج انفراسٹرکچر فراہم نہ کیا گیا۔
اویس لغاری نے حکومت کے اس وژن کا بھی خاکہ پیش کیا جس کے تحت روف ٹاپ سولر، بیٹری اسٹوریج، اسمارٹ گرڈز اور الیکٹرک گاڑیوں پر مشتمل ایک مربوط توانائی نظام تشکیل دیا جائے گا تاکہ توانائی کے استعمال کو مؤثر بنایا جا سکے اور قومی گرڈ پر دباؤ کم سے کم ہو۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا توانائی کا شعبہ ایک ایسے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں تقسیم شدہ بجلی کی پیداوار اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کو ایک ساتھ ترقی دینا ناگزیر ہے۔
وزیر توانائی نے ریگولیٹرز، سرمایہ کاروں اور صنعت سے وابستہ تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون کے ساتھ کام کریں، اور حکومت کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بجلی کے شعبے میں جدت، سرمایہ کاری اور طویل مدتی پائیداری کے لیے سازگار پالیسی ماحول فراہم کیا جائے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026























Comments