پاکستان کا لندن کو عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر استعمال کرنے کا عزم
- برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر ٹیپوعثمان اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مابین اجلاس، تجارت، سرمایہ کاری، بینکاری، ترسیلاتِ زر، کیپیٹل مارکیٹس اور مالیاتی خدمات میں تعاون بڑھانے کے مواقع کا جائزہ لیا گیا
پاکستان بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹس تک اپنی رسائی بڑھانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے لندن کی بطور عالمی مالیاتی مرکز کی حیثیت سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ بات جمعرات کو برطانیہ کے لیے پاکستان کے نومنتخب ہائی کمشنر ٹیپو عثمان اور وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے مابین ہونے والے ایک اجلاس میں سامنے آئی، جس میں باہمی اقتصادی مفادات کے امور اور پاکستان اور برطانیہ کے درمیان معاشی و مالیاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے راستوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دوران اجلاس تجارت، سرمایہ کاری، بینکاری، ترسیلاتِ زر، کیپیٹل مارکیٹس اور مالیاتی خدمات کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے مواقع کا جائزہ لیا گیا۔اعلامیے کے مطابق بات چیت میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کے ساتھ پاکستان کے روابط کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی جبکہ پاکستان کے مالیاتی اور کیپیٹل مارکیٹ کے اہداف کی حمایت کے لیے لندن کی ایک معروف عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر پوزیشن کو بروئے کار لانے پر بھی غور کیا گیا۔
وزیرِ خزانہ نے مالیاتی ذرائع کو متنوع بنانے، بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹس تک پاکستان کی رسائی کو گہرا کرنے اور ملک کے مالیاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کی جاری کوششوں پر روشنی ڈالی۔
دونوں اطراف نے پاکستان کے وسیع تر ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے کے حصے کے طور پر ڈیجیٹل فنانس، بلاک چین پر مبنی مالیاتی حل، ورچوئل اثاثوں اور ٹوکن سازی جیسے ابھرتے ہوئے آلات میں ہونے والی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔اجلاس میں قرضوں کے انتظام (ڈیٹ مینجمنٹ) اور کیپیٹل مارکیٹ کی ترقی میں تعاون بڑھانے کے طریقوں پر بھی غور کیا گیا، جس میں برطانیہ کے ڈیٹ مینجمنٹ آفس کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھنا شامل ہے۔ ہائی کمشنر نے وزیرِ خزانہ کو ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور معروف مالیاتی اداروں کے تعاون سے مستقبل میں انویسٹمنٹ روڈ شوز کے انعقاد کے امکانات کے بارے میں بریفنگ دی۔
محمد اورنگزیب نے دونوں ممالک کے مابین اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے میں برطانیہ میں مقیم پاکستانی تارکینِ وطن کے اہم کردار پر زور دیا، خاص طور پر ترسیلاتِ زر، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے ان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے دوطرفہ اقتصادی اور مالیاتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے برطانیہ کے مالیاتی اداروں اور نجی شعبے کے ساتھ مسلسل تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
وزیرِ خزانہ نے میکرو اکنامک (کلّی معاشی) استحکام برقرار رکھنے، مالیاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے، کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے اور سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقین نے باہمی دلچسپی کے شعبوں کو آگے بڑھانے اور پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔























Comments