اسٹاک ایکسچینج میں تیزی مندی میں تبدیل، 100 انڈیکس تقریباً 400 پوائنٹس گرگیا
- بینچ مارک انڈیکس 181,259 کی سطح پر بند
کشیدہ جغرافیائی صورتحال کے درمیان جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ایک بار پھر شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جہاں اتار چڑھاؤ کے کئی جھٹکوں کے بعد بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس معمولی کمی پر بند ہوا۔
کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور مارکیٹ میں خریداری کے شدید رجحان کے باعث انڈیکس 182,276.81 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھو گیا، تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور انویسٹرز کی جانب سے منافع کے حصول کے لیے پرافٹ ٹیکنگ کے باعث مارکیٹ گر گئی، جس سے انڈیکس دن کے وسط میں 179,411.35 پوائنٹس کی نچلی ترین سطح پر آ گیا۔ بعد ازاں چند بڑے اور اہم کمپنیوں کے شیئرز میں مسلسل خریداری کی بدولت مارکیٹ بتدریج سنبھلنے میں کامیاب رہی۔
تاہم تمام تر بحالی کے باوجود کے ایس ای 100 انڈیکس کاروبار کے اختتام پر 369.69 پوائنٹس یعنی 0.20 فیصد کمی کے ساتھ 181,259.67 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری کردہ اپنی رپورٹ میں بتایا کہ جغرافیائی سیاسی خدشات اور سرمایہ کاروں کی محتاط روش کے باعث مسلسل فروخت کے دباؤ نے مارکیٹ کو مندی کا شکار رکھا، جس کے نتیجے میں جمعرات کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دباؤ میں رہا اور اس کی گراوٹ کا سلسلہ برقرار رہا۔ انڈیکس میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور اگرچہ یہ دن کی نچلی ترین سطح سے کچھ حد تک سنبھلنے میں کامیاب رہا، تاہم کاروبار کا اختتام منفی زون میں ہی ہوا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ علاقائی جغرافیائی سیاسی تناؤ، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث انویسٹرز کی نفسیات نازک رہی، جس نے منافع کے حصول کے لیے شیئرز کی فروخت (پرافٹ ٹیکنگ) اور دفاعی حکمتِ عملی اپنانے کے رجحان کو فروغ دیا۔ اس دوران چند مخصوص اور مضبوط شیئرز میں خریداری کی دلچسپی بھی دیکھی گئی، جس نے مارکیٹ کو دن کی سب سے نچلی سطح سے اوپر آنے میں مدد دی، لیکن یہ کوشش مارکیٹ پر مجموعی طور پر حاوی مندی کے رجحان کو ختم کرنے کے لیے نا کافی تھی۔
ٹاپ لائن سیکورٹیز کے مطابق انڈیکس میں سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والے بڑے اور اہم ترین شیئرز میں شامل ایم ای بی ایل اینگرو ، پی پی ایل اور اے کے بی ایل مارکیٹ پر سب سے بڑا بوجھ ثابت ہوئے، جنہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک انڈیکس سے تقریباً 521 پوائنٹس چھین لیے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے مالی سال 27-2026 میں پاکستان کی معاشی نمو 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے جو کہ حکومت کے 4 فیصد کے ترقیاتی ہدف سے 0.5 فیصد پوائنٹس کم ہے۔ بدھ کو جاری ہونے والی اپنی تازہ ترین ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں آئی ایم ایف نے مالی سال 26-2025 کے لیے بھی جی ڈی پی نمو کا اپنا 3.6 فیصد کا تخمینہ برقرار رکھا ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کو اسٹاک ایکسچینج کو تاریخ کی شدید ترین گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مشرق وسطیٰ میں نئی جیو پولیٹیکل کشیدگی نے بڑے پیمانے پر خوف و ہراس اور فروخت کو جنم دیا۔ ایران پر تازہ امریکی حملوں اور وسیع تر علاقائی تنازعے کے خدشات کے باعث سرمایہ کاروں نے اپنے حصص فروخت کرکے سرمایہ کاری کم کرنے میں جلدی کی جبکہ اس صورتحال نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ کردیا ۔
گزشتہ روز 100 انڈیکس 4,626.18 پوائنٹس یا 2.48 فیصد کی گراوٹ کے بعد 181,629.37 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر جمعرات کو ایشیائی حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا کیونکہ سیمی کنڈکٹرز کے شعبے کو شدید فروخت کے دباؤ سے کچھ مہلت ملی، اگرچہ خلیج میں دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی نے افراطِ زر (مہنگائی) کے خدشات کو پھر سے ہوا دے دی اور بانڈز کو متاثر کیا جس کی وجہ سے حصص کی قیمتوں میں اضافے کا عمل محدود رہا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ کہنے کے بعد کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ عارضی معاہدہ ختم ہو چکا ہے، تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے سیشن میں اضافہ دیکھا گیا۔
امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایران پر دوسرے روز بھی تازہ حملے کیے حالانکہ بعد میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں مکمل جنگ کی واپسی کی توقع نہیں ہے جس سے خدشات کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد ملی۔
عالمی منڈی میں گرینچ ٹائم کے مطابق صبح 11:48 بجے تک برینٹ خام تیل کے سودے 53 سینٹس یا 0.68 فیصد اضافے کے ساتھ 78.55 ڈالر فی بیرل پر پائے گئے۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 39 سینٹس یا 0.53 فیصد بڑھ کر 73.91 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
انٹر بینک مارکیٹ میں جمعرات کو پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 1 پیسے کے معمولی استحکام کے ساتھ 278.06 روپے پر بند ہوئی۔
اسٹاک مارکیٹ میں آل شیئر انڈیکس کے کاروباری حجم (والیم) میں کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ گزشتہ سیشن کے 1 ارب 55 کروڑ 10 لاکھ شیئرز کے مقابلے میں کم ہو کر 98 کروڑ 21 لاکھ شیئرز رہ گیا۔ اسی طرح شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 62 ارب 44 کروڑ روپے سے گھٹ کر 41 ارب 86 کروڑ روپے پر آ گئی۔
کاروباری حجم کے لحاظ سے سینرجیکو پی کے 21 کروڑ 16 لاکھ شیئرز کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جس کے بعد ایل ایس ای کیپیٹل لمیٹڈ 5 کروڑ 83 لاکھ شیئرز اور پاک ريفائنری 4 کروڑ 96 لاکھ شیئرز کے ساتھ نمایاں رہیں۔
جمعرات کو مارکیٹ میں مجموعی طور پر 497 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 263 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 203 میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 31 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
























Comments