اسٹیٹ بینک نے یکم جولائی سے ترسیلاتِ زر پر بینکوں کو فیس واپسی کی اسکیم بند کر دی
- بینک، صارفین کے لیے یہ سروس بدستور مفت رکھیں گے اور تمام اخراجات خود برداشت کریں گے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے حکومت کی سرپرستی میں چلنے والی اس ترغیبی اسکیم کو بند کر دیا ہے جس کے تحت بینکوں کو تار (ٹیلی گرافک ٹرانسفر) کے ذریعے بھیجی جانے والی سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کے چارجز واپس کیے جاتے تھے۔
جمعرات کو جاری کردہ ایک سرکلر میں مرکزی بینک نے بتایا کہ ٹیلی گرافک ٹرانسفر چارجز انسنٹیو اسکیم (ٹی ٹی سی آئی ایس) کو یکم جولائی 2026ء سے ختم کر دیا گیا ہے۔ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ تاہم لائسنس یافتہ ڈیلرز (بینک اور مالیاتی ادارے) اس اسکیم کی بنیادی خصوصیات کو برقرار رکھتے ہوئے اسے اپنے طور پر جاری رکھیں گے۔
مزید برآں اسٹیٹ بینک نے ان لائسنس یافتہ ڈیلرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مذکورہ بالا سرکلر کے معیار پر پورا اترنے والی ہوم ریمیٹنس (گھریلو ترسیلاتِ زر) کی ٹرانزیکشنز، رقم بھیجنے والوں اور پاکستان میں وصول کرنے والوں (فائدہ اٹھانے والوں) کے لیے بدستور بالکل مفت رہیں۔
اس اقدام کا مطلب یہ ہے کہ بینکوں اور دیگر مجاز اداروں کو اب ٹی ٹی چارجز اسکیم کے تحت حکومت کی طرف سے کوئی مالی امداد یا فنڈز نہیں ملیں گے، لیکن اس کے باوجود انہیں مقررہ معیار پر پورا اترنے والی ٹرانزیکشنز کے اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے۔ سرکلر میں مالیاتی اداروں کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ اس تبدیلی کے بارے میں اپنے صارفین کو آگاہ کریں۔
ٹیلی گرافک ٹرانسفر (ٹی ٹی) چارجز اسکیم، جسے ٹی ٹی چارجز کی واپسی کی اسکیم بھی کہا جاتا ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا ایک ترغیبی اقدام تھا جس کا مقصد قانونی بینکنگ چینلز کے ذریعے ملک میں رقم بھیجنے کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ ایک خاص رقم سے زیادہ کی ٹرانزیکشنز پر پاکستان میں رقم بھیجنے اور وصول کرنے والے دونوں پر کوئی اضافی خرچ نہ آئے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال جولائی میں اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں ترمیم کرتے ہوئے مفت بھیجی جانے والی رقم کی کم از کم حد 100 ڈالر سے بڑھا کر 200 ڈالر کر دی تھی اور اس اسکیم کا دائرہ کار بڑھا کر اس میں ایکسچینج کمپنیوں (ای سیز) کو بھی شامل کیا تھا۔























Comments