اسٹیٹ بینک نے ڈپازٹس سے متعلق منافع کے قواعد میں اہم تبدیلی کر دی
- اس اقدام سے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے سرکاری سیکیورٹیز میں زیادہ سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ بینک ڈپازٹس پر کم از کم منافع کی شرح کی شرط اب صرف انفرادی (نیچرل پرسنز) اکاؤنٹ ہولڈرز پر لاگو ہوگی، جن کے اکاؤنٹس کا ماہانہ اوسط بیلنس 10 ملین روپے تک ہو۔ اس اقدام سے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے سرکاری سیکیورٹیز میں زیادہ سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق ریٹیل اور کارپوریٹ سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے انویسٹ پاک کے نام سے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی باضابطہ طور پر متعارف کرا دیا گیا ہے، جس کے ذریعے سرمایہ کار آسان، مؤثر اور محفوظ انداز میں اپنی بچت براہ راست حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کر سکیں گے۔
مرکزی بینک نے کہا کہ چونکہ ادارہ جاتی اور دیگر بڑے سرمایہ کار اب انویسٹ پاک کے ذریعے سہولت کے ساتھ حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کر کے بہتر منافع حاصل کر سکتے ہیں، اس لیے کم از کم منافع کی شرح کی شرط صرف ایسے انفرادی صارفین کے بینک ڈپازٹس پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن کے اکاؤنٹس کا ماہانہ اوسط بیلنس 10 ملین روپے تک ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق ان دونوں اقدامات کا مقصد حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاروں کی تعداد اور تنوع بڑھانا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کو مسابقتی بنیادوں پر بہتر منافع کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ انویسٹ پاک پلیٹ فارم ادارہ جاتی اور ریٹیل، دونوں طرح کے سرمایہ کاروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس کے ذریعے وہ اپنی بچت کو ڈیجیٹل طریقے سے براہ راست حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کر سکیں گے۔
اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ نئی ہدایات یکم اگست 2026 سے نافذ العمل ہوں گی، جبکہ اس موضوع سے متعلق دیگر تمام موجودہ ہدایات بدستور برقرار رہیں گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026























Comments