اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 100 انڈیکس 6400 سے زائد پوائنٹس گرگیا
- دوپہر 2 بجے بینچ مارک انڈیکس 179,792.17 پوائنٹس پر آگیا
امریکی فوج کی جانب سے ایران پر حملوں اور خام تیل کی فروخت پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں شدید فروخت کا دباؤ غالب آگیا جس کے نتیجے میں بدھ کو ٹریڈنگ کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 6 ہزار 400 سے زائد پوائنٹس گرگیا۔
دوپہر 2 بجے بینچ مارک انڈیکس 6,463.38 پوائنٹس یا 3.47 فیصد کی کمی سے 179,792.17 پوائنٹس پر آگیا۔
گاڑیوں کے اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، کھاد، او ایم سی (تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں) اور پاور جنریشن سمیت اہم شعبوں میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔ حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی ایس او، ایس ایس جی سی ، ایس این جی پی ایل اور وافی بھی منفی زون میں دکھائی دیے۔
یاد رہے کہ منگل کو اسٹاک ایکسچینج مندی کے ساتھ بند ہوئی کیونکہ 100 انڈیکس کے دورانِ ٹریڈنگ اپنی اب تک کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچنے کے بعد سرمایہ کاروں نے منافع سمیٹنے کو ترجیح دی۔ اس تصحیح کے باوجود آنے والے مالیاتی نتائج کے سیزن میں مضبوط کارپوریٹ آمدنی کی توقعات نے سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھا جس سے نقصانات کی شدت کو محدود کرنے میں مدد ملی۔
گزشتہ روز100 انڈیکس 1,199.14 پوائنٹس یا 0.64 فیصد کی کمی سے 186,255.55 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر منگل کو امریکی فوج نے ایران کے خلاف فضائی حملوں کی ایک نئی لہر شروع کردی اور ایران کو خام تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے والا لائسنس بھی منسوخ کردیا۔ یہ اقدام آبنائے ہرمز میں تین ٹینکرز پر پروجیکٹائلز (گولہ باری) سے حملے کے بعد کیا گیا جس سے پہلے سے کمزور جنگ بندی پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران امریکی تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا جس نے گزشتہ سیشن کی تیزی کو مزید بڑھا دیا۔ اسی دوران امریکی ڈالر بھی اپنے ہم عصر کرنسیوں کے مقابلے میں ہفتے کی بلند ترین سطح پر برقرار رہا۔
سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق مارکیٹوں نے ستمبر میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقعات کو بڑھا دیا ہے جس کا امکان منگل کو تقریباً 57 فیصد تھا، جو اب 67 فیصد سے تجاوز کر گیا ہے۔
سرمایہ کار بدھ کو بعد میں آنے والے فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کے 16-17 جون کے اجلاس کے منٹس (کارروائی کی تفصیلات) کا بھی انتظار کر رہے ہیں تاکہ نئے فیڈ چیئر کیون وارش کے ماتحت شرح سود کے مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں نئے اشارے مل سکیں۔
منگل کو نیویارک فیڈ کی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ جون کے مہینے میں امریکی صارفین قلیل مدتی مہنگائی کے دباؤ کے حوالے سے مزید فکرمند ہو گئے ہیں۔“
یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے




















Comments