BR100 Decreased By (-0.28%)
BR30 Decreased By (-0.01%)
KSE100 Decreased By (-0.1%)
KSE30 Decreased By (-0.26%)
BAFL 62.25 Increased By ▲ 0.12 (0.19%)
BIPL 29.40 Increased By ▲ 0.98 (3.45%)
BOP 37.77 Increased By ▲ 0.64 (1.72%)
CNERGY 8.58 Increased By ▲ 0.08 (0.94%)
DFML 20.33 Decreased By ▼ -0.19 (-0.93%)
DGKC 234.34 Increased By ▲ 0.36 (0.15%)
FABL 105.08 Increased By ▲ 0.90 (0.86%)
FCCL 57.96 Decreased By ▼ -0.67 (-1.14%)
FFL 18.04 Decreased By ▼ -0.06 (-0.33%)
GGL 26.00 Decreased By ▼ -0.43 (-1.63%)
HBL 318.50 Increased By ▲ 0.35 (0.11%)
HUBC 234.48 Decreased By ▼ -1.17 (-0.5%)
HUMNL 11.25 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.17 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 30.25 Decreased By ▼ -0.31 (-1.01%)
MLCF 108.40 Decreased By ▼ -1.11 (-1.01%)
OGDC 345.70 Decreased By ▼ -3.02 (-0.87%)
PAEL 47.37 Increased By ▲ 0.65 (1.39%)
PIBTL 18.75 Decreased By ▼ -0.11 (-0.58%)
PIOC 286.00 Decreased By ▼ -0.21 (-0.07%)
PPL 249.49 Decreased By ▼ -3.17 (-1.25%)
PRL 37.39 Increased By ▲ 0.94 (2.58%)
SNGP 119.27 Decreased By ▼ -1.28 (-1.06%)
SSGC 32.20 Decreased By ▼ -0.15 (-0.46%)
TELE 9.12 Increased By ▲ 0.03 (0.33%)
TPLP 13.27 Increased By ▲ 0.73 (5.82%)
TRG 67.50 Increased By ▲ 0.20 (0.3%)
UNITY 10.68 Decreased By ▼ -0.07 (-0.65%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.02 (1.59%)

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی مالیاتی نظم و نسق، شفافیت اور گورننس سے متعلق سنگین بے ضابطگیاں سامنے آگئی ہیں۔ آڈٹ رپورٹ 2025-26 (مالی سال 2024-25) کے مطابق نیپرا نے ریکارڈ مالی سرپلس حاصل کرنے کے باوجود قانون کے تقاضوں کے مطابق مکمل رقم وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ (ایف سی ایف) میں منتقل نہیں کی۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں نیپرا کی مجموعی جامع آمدنی 1.58 ارب روپے رہی، تاہم ادارے نے صرف 921.99 ملین روپے وفاقی حکومت کو منتقل کیے، جبکہ تقریباً 884 ملین روپے اپنے پاس برقرار رکھے۔ آڈٹ حکام نے اسے نیپرا ایکٹ 1997 کی دفعہ 17 کی صریح خلاف ورزی قرار دیا، جس کے تحت ٹیکس کی ادائیگی کے بعد تمام اضافی فنڈز فوری طور پر وفاقی خزانے میں جمع کرانا لازم ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران وفاقی حکومت کو واجب الادا رقم 221.99 ملین روپے سے بڑھ کر 883.91 ملین روپے تک پہنچ گئی، جو مالیاتی نظم و ضبط میں کمزوری اور قانونی ذمہ داریوں کی عدم پاسداری کو ظاہر کرتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ نیپرا نے اپنی منظور شدہ اکاؤنٹنگ پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے آمدنی کو ایکروئل بنیاد کے بجائے کیش بنیاد پر ریکارڈ کیا، جس کے باعث 91.34 ملین روپے کی آمدنی مالیاتی گوشواروں میں ظاہر نہیں کی گئی۔ آڈٹ کے مطابق اس عمل سے ادارے کے مالیاتی بیانات کی ساکھ متاثر ہوئی۔

آڈٹ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ نیپرا لائسنس یافتہ اداروں سے 161.94 ملین روپے کے واجبات بھی وصول کرنے میں ناکام رہا۔ یہ رقم برسوں سے مشکوک قرض کے طور پر ظاہر کی جا رہی ہے، تاہم نہ اسے رائٹ آف کیا گیا اور نہ ہی مؤثر ریکوری کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدام کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں ملازمین کو دیے گئے ایڈوانسز میں 51 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور ان کا حجم تقریباً 984 ملین روپے تک پہنچ گیا، جبکہ اسی عرصے میں وفاقی حکومت کے ذمہ واجبات بھی بڑھتے رہے، جو مالی منصوبہ بندی اور اخراجات کی ترجیحات پر سوالات اٹھاتے ہیں۔

اگرچہ مالیاتی اشاریوں میں بہتری دیکھی گئی، جن میں سرپلس ریشو، ریٹرن آن ایسیٹس (آر او اے)، ریٹرن آن کیپیٹل ایمپلائڈ اور ریٹرن آن ایکویٹی (آر او ای) میں نمایاں اضافہ شامل ہے، تاہم آڈٹ رپورٹ کے مطابق یہ مالی کامیابیاں بہتر گورننس، قانون پر عملدرآمد اور ادارہ جاتی نظم و ضبط میں تبدیل نہ ہو سکیں۔

آڈٹ حکام نے نیپرا کے کیش مینجمنٹ نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرپلس کا بڑا حصہ ٹیکس واجبات اور ایڈوانس ٹیکس ایڈجسٹمنٹس میں پھنسا رہا، جس سے وفاقی حکومت کو فنڈز کی بروقت منتقلی متاثر ہوئی اور مالی شفافیت مزید پیچیدہ ہوگئی۔

آڈٹ رپورٹ میں نیپرا میں داخلی کنٹرول، مالیاتی نظم و ضبط اور ریگولیٹری نفاذ کو کمزور قرار دیتے ہوئے سخت اصلاحی اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ اگر ان خامیوں کا بروقت تدارک نہ کیا گیا تو نہ صرف عوامی اعتماد متاثر ہوگا بلکہ ملک کے بجلی کے شعبے کے ریگولیٹر کی ساکھ بھی مزید کمزور ہو سکتی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف