وزیرِ خزانہ کا ایس ای سی پی کا دورہ، سرمایہ مارکیٹوں کے فروغ کا عزم
- اجلاس میں کارپوریٹ سیکٹر، کیپٹل مارکیٹس اور نان بینکنگ مالیاتی شعبے سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں سرمایہ کاری کے فروغ، سرمایہ مارکیٹوں کو مضبوط بنانے اور کاروبار کرنے میں آسانی بہتر بنانے پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔
ایک بیان کے مطابق چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے وزیرِ خزانہ کو تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں کارپوریٹ سیکٹر، کیپٹل مارکیٹساور نان بینکنگ مالیاتی شعبے سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا جب کہ سرمایہ کاری کے فروغ اورمالیاتی نظام میں پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے اقدامات پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔
ایس ای سی پی نے وزیرِ خزانہ کو جنوری 2026 سے اب تک ہونے والی نمایاں پیش رفت سے آگاہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 18,057 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ کی گئی ہیں جب کہ کارپوریٹ امور کے 109,878 ریکارڈ پراسیسز (بشمول فارمز اور ریٹرنز) مکمل کیے گئے ہیں۔ مزید برآں ایس ای سی پی نے مختلف شعبوں میں 149 نئے لائسنس بھی جاری کیے ہیں۔
ایس ای سی پی نے سینٹرل الٹیمیٹ بینیفیشل اونرشپ ( یو بی او) رجسٹری کا آن لائن پورٹل تیار کرلیا جہاں کمپنیاں اپنی معلومات الیکٹرانک طریقے سے جمع کرارہی ہیں۔ اس کے علاوہ کمپنیوں کی رجسٹریشن کے لیے اے آئی پر مبنی نظام کی تیاری پر بھی کام جاری ہے۔
کمیشن نے نان لسٹڈ کمپنیوں کے شیئرز کو مینول شکل سے بُک انٹری (ڈیجیٹل) فارم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیرِ خزانہ کو بتایا گیا کہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں بزنس فیسیلیٹیشن سینٹرز قائم کرنے کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔
وزیرِ خزانہ نے سرکاری ملکیتی اداروں کو نوٹسز جاری کرنے پر ایس ای سی پی کے اقدامات کو سراہا۔
ایس ای سی پی نے تصدیق کی کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں چینی کنسورشیم کے دیرینہ مسائل حل کر لیے گئے ہیں۔ کمیشن نے پی ایس ایکس کی رئیل اسٹیٹ اثاثوں کے لیے ڈی مرجر (تقسیم) اسکیم کی مشروط منظوری بھی دے دی ہے۔
علاوہ ازیں سہولت اکاؤنٹس کے لیے سرمایہ کاری کی حد 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دی گئی ہے اور کیپٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کا باضابطہ آغاز کردیا گیا ہے۔
جنوری 2026 سے اب تک ایس ای سی پی نے 10 کمپنیوں کے لیے آئی پی اوز کی منظوری دی ہے۔ سونے کی تجارت کے لیے ایک آسان ایپ پر مبنی انٹرفیس بھی تیار کیا جارہا ہے جبکہ میوچل فنڈز کے سرمایہ کاروں کے لیے ڈیجیٹل اکاؤنٹس کھولنا اور تصدیق کا عمل کافی حد تک آسان بنا دیا گیا ہے۔
انشورنس شعبے میں بھی بڑی اصلاحات کا اعلان کیا گیا ہے۔ سندھ میں کمپلسری تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کا نفاذ کردیا گیا ہے جس کے تحت حادثات کے شکار افراد کے لیے معاوضے کی رقم 20,000 روپے سے بڑھا کر 700,000 روپے کردی گئی جو اب عدالتی کارروائی کے بغیر خودکار طریقے سے ادا کی جائے گی۔
کمرشل گاڑیوں کی انشورنس پالیسیوں میں ریکارڈ 1,300 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے جو 11,000 سے بڑھ کر 165,000 سے تجاوز کر گئی ہیں۔ ایس ای سی پی موٹر انشورنس کوریج کو پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان تک بڑھانے کی تیاری کررہا ہے۔
ریٹائر ہونے والوں کے لیے لائف انشورنس اینیوٹی کی نئی مصنوعات متعارف کرائی گئی ہیں اور فصلوں کی انشورنس کے لیے انشورنس کمپنیوں کا ایک کنسورشیم قائم کیا گیا ہے۔ تکافل سیکٹر کا حصہ 14 فیصد تک پہنچ گیا ہے اور اس حوالے سے نئی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔




















Comments