ایف بی آر کا سینیٹ کمیٹی کو بڑے ٹیکس دہندگان کی تفصیلات دینے سے انکار
- کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایف بی آر کو مطلوبہ ریکارڈ فوری پیش کرنے کی ہدایت کردی
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پیر کو سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر ملک کے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والوں کی تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکتیں، جس پر کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایف بی آر کو مطلوبہ ریکارڈ فوری پیش کرنے کی ہدایت کی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت ہوا، جس میں صوابی اور مردان میں ایف بی آر کے گوداموں سے 2,828 کارٹن سگریٹ چوری ہونے کے معاملے، تمباکو پر ٹیکس، اسمگلنگ، ایف بی آر کے نفاذی نظام اور اسٹاک مینجمنٹ کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی نے گزشتہ اجلاس میں ایف بی آر کو گزشتہ 20 برس کے دوران تمباکو صنعت سے عائد، وصول اور زیر التوا ٹیکسوں، رجسٹرڈ تمباکو فیکٹریوں، ٹیکس ریکارڈ، کمپنیوں اور برانڈز کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔
اجلاس میں ایف بی آر حکام نے بتایا کہ وہ زیادہ تر ریکارڈ لے کر آئے ہیں، تاہم بعض معلومات شامل نہیں کی گئیں کیونکہ اس حوالے سے وزارت قانون سے قانونی رائے طلب کی گئی ہے کہ آیا یہ معلومات کمیٹی کو فراہم کی جا سکتی ہیں یا نہیں۔
اس وضاحت پر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی کسی ادارے میں بے ضابطگیاں سامنے آتی ہیں تو ایسے ہی جواز پیش کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا متعلقہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) تحریری شکل میں موجود ہیں۔
ایف بی آر حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ بڑے ٹیکس دہندگان کی تفصیلات صرف وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ہی جاری کی جا سکتی ہیں۔ اس پر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ معاملے کو بلاوجہ پیچیدہ بنایا جا رہا ہے اور اگر ایف بی آر مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کرے گا تو آپ کے وزیر اعظم خود یہ معلومات کمیٹی کے سامنے پیش کریں گے۔
اجلاس میں ایف بی آر نے بتایا کہ ملک میں 35 تمباکو کمپنیاں مختلف برانڈز کے ساتھ کام کر رہی ہیں جبکہ ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں قائم فیکٹریوں کو حاصل انکم ٹیکس چھوٹ جولائی 2026 سے ختم ہو چکی ہے۔
کمیٹی نے 398 کلوگرام چاندی کی چوری کا معاملہ بھی زیر غور لایا۔ کسٹمز حکام نے بتایا کہ چاندی کوئٹہ سے ایف بی آر کی تحویل میں منتقل کی جا رہی تھی کہ راستے میں چوری ہو گئی۔ ایف آئی اے نے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور چوری شدہ چاندی کا بڑا حصہ برآمد کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق دو ایف بی آر انسپکٹرز، ایک شہری اور بعض کسٹمز اہلکار بھی اس کیس میں مبینہ طور پر ملوث پائے گئے ہیں۔
اجلاس کے دوران سینیٹر دلاور خان نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف سمیت اعلیٰ حکومتی شخصیات کو تمباکو ٹیکس چوری سے متعلق غلط معلومات فراہم کی گئیں، جبکہ سینیٹر طلحہ محمود نے تجویز دی کہ ایف آئی اے صنعتی علاقوں میں براہ راست کارروائیوں کے بجائے مطلوبہ معلومات ایف بی آر سے حاصل کرے تاکہ کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026























Comments