BR100 Decreased By (-0.28%)
BR30 Decreased By (-0.01%)
KSE100 Decreased By (-0.1%)
KSE30 Decreased By (-0.26%)
BAFL 62.25 Increased By ▲ 0.12 (0.19%)
BIPL 29.40 Increased By ▲ 0.98 (3.45%)
BOP 37.77 Increased By ▲ 0.64 (1.72%)
CNERGY 8.58 Increased By ▲ 0.08 (0.94%)
DFML 20.33 Decreased By ▼ -0.19 (-0.93%)
DGKC 234.34 Increased By ▲ 0.36 (0.15%)
FABL 105.08 Increased By ▲ 0.90 (0.86%)
FCCL 57.96 Decreased By ▼ -0.67 (-1.14%)
FFL 18.04 Decreased By ▼ -0.06 (-0.33%)
GGL 26.00 Decreased By ▼ -0.43 (-1.63%)
HBL 318.50 Increased By ▲ 0.35 (0.11%)
HUBC 234.48 Decreased By ▼ -1.17 (-0.5%)
HUMNL 11.25 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.17 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 30.25 Decreased By ▼ -0.31 (-1.01%)
MLCF 108.40 Decreased By ▼ -1.11 (-1.01%)
OGDC 345.70 Decreased By ▼ -3.02 (-0.87%)
PAEL 47.37 Increased By ▲ 0.65 (1.39%)
PIBTL 18.75 Decreased By ▼ -0.11 (-0.58%)
PIOC 286.00 Decreased By ▼ -0.21 (-0.07%)
PPL 249.49 Decreased By ▼ -3.17 (-1.25%)
PRL 37.39 Increased By ▲ 0.94 (2.58%)
SNGP 119.27 Decreased By ▼ -1.28 (-1.06%)
SSGC 32.20 Decreased By ▼ -0.15 (-0.46%)
TELE 9.12 Increased By ▲ 0.03 (0.33%)
TPLP 13.27 Increased By ▲ 0.73 (5.82%)
TRG 67.50 Increased By ▲ 0.20 (0.3%)
UNITY 10.68 Decreased By ▼ -0.07 (-0.65%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.02 (1.59%)
پاکستان

ایف بی آر کا سینیٹ کمیٹی کو بڑے ٹیکس دہندگان کی تفصیلات دینے سے انکار

  • کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایف بی آر کو مطلوبہ ریکارڈ فوری پیش کرنے کی ہدایت کردی
شائع اپ ڈیٹ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پیر کو سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر ملک کے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والوں کی تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکتیں، جس پر کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایف بی آر کو مطلوبہ ریکارڈ فوری پیش کرنے کی ہدایت کی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت ہوا، جس میں صوابی اور مردان میں ایف بی آر کے گوداموں سے 2,828 کارٹن سگریٹ چوری ہونے کے معاملے، تمباکو پر ٹیکس، اسمگلنگ، ایف بی آر کے نفاذی نظام اور اسٹاک مینجمنٹ کا جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی نے گزشتہ اجلاس میں ایف بی آر کو گزشتہ 20 برس کے دوران تمباکو صنعت سے عائد، وصول اور زیر التوا ٹیکسوں، رجسٹرڈ تمباکو فیکٹریوں، ٹیکس ریکارڈ، کمپنیوں اور برانڈز کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اجلاس میں ایف بی آر حکام نے بتایا کہ وہ زیادہ تر ریکارڈ لے کر آئے ہیں، تاہم بعض معلومات شامل نہیں کی گئیں کیونکہ اس حوالے سے وزارت قانون سے قانونی رائے طلب کی گئی ہے کہ آیا یہ معلومات کمیٹی کو فراہم کی جا سکتی ہیں یا نہیں۔

اس وضاحت پر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی کسی ادارے میں بے ضابطگیاں سامنے آتی ہیں تو ایسے ہی جواز پیش کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا متعلقہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) تحریری شکل میں موجود ہیں۔

ایف بی آر حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ بڑے ٹیکس دہندگان کی تفصیلات صرف وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ہی جاری کی جا سکتی ہیں۔ اس پر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ معاملے کو بلاوجہ پیچیدہ بنایا جا رہا ہے اور اگر ایف بی آر مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کرے گا تو آپ کے وزیر اعظم خود یہ معلومات کمیٹی کے سامنے پیش کریں گے۔

اجلاس میں ایف بی آر نے بتایا کہ ملک میں 35 تمباکو کمپنیاں مختلف برانڈز کے ساتھ کام کر رہی ہیں جبکہ ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں قائم فیکٹریوں کو حاصل انکم ٹیکس چھوٹ جولائی 2026 سے ختم ہو چکی ہے۔

کمیٹی نے 398 کلوگرام چاندی کی چوری کا معاملہ بھی زیر غور لایا۔ کسٹمز حکام نے بتایا کہ چاندی کوئٹہ سے ایف بی آر کی تحویل میں منتقل کی جا رہی تھی کہ راستے میں چوری ہو گئی۔ ایف آئی اے نے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور چوری شدہ چاندی کا بڑا حصہ برآمد کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق دو ایف بی آر انسپکٹرز، ایک شہری اور بعض کسٹمز اہلکار بھی اس کیس میں مبینہ طور پر ملوث پائے گئے ہیں۔

اجلاس کے دوران سینیٹر دلاور خان نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف سمیت اعلیٰ حکومتی شخصیات کو تمباکو ٹیکس چوری سے متعلق غلط معلومات فراہم کی گئیں، جبکہ سینیٹر طلحہ محمود نے تجویز دی کہ ایف آئی اے صنعتی علاقوں میں براہ راست کارروائیوں کے بجائے مطلوبہ معلومات ایف بی آر سے حاصل کرے تاکہ کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف