BR100 Decreased By (-0.85%)
BR30 Decreased By (-1.05%)
KSE100 Decreased By (-3.62%)
KSE30 Decreased By (-3.68%)
BAFL 61.35 Decreased By ▼ -0.38 (-0.62%)
BIPL 28.61 Decreased By ▼ -0.61 (-2.09%)
BOP 36.89 Decreased By ▼ -0.48 (-1.28%)
CNERGY 8.70 Increased By ▲ 0.21 (2.47%)
DFML 19.95 Decreased By ▼ -0.15 (-0.75%)
DGKC 230.50 Decreased By ▼ -2.76 (-1.18%)
FABL 102.60 Decreased By ▼ -1.25 (-1.2%)
FCCL 58.20 Increased By ▲ 0.45 (0.78%)
FFL 17.85 Decreased By ▼ -0.04 (-0.22%)
GGL 26.14 Decreased By ▼ -0.08 (-0.31%)
HBL 315.15 Decreased By ▼ -3.44 (-1.08%)
HUBC 231.39 Decreased By ▼ -2.05 (-0.88%)
HUMNL 11.16 Decreased By ▼ -0.04 (-0.36%)
KEL 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
LOTCHEM 30.32 Decreased By ▼ -0.22 (-0.72%)
MLCF 105.60 Decreased By ▼ -1.46 (-1.36%)
OGDC 341.89 Decreased By ▼ -1.43 (-0.42%)
PAEL 46.25 Decreased By ▼ -0.77 (-1.64%)
PIBTL 18.49 Decreased By ▼ -0.13 (-0.7%)
PIOC 278.00 Decreased By ▼ -2.55 (-0.91%)
PPL 244.80 Decreased By ▼ -2.02 (-0.82%)
PRL 38.89 Increased By ▲ 1.64 (4.4%)
SNGP 118.99 Increased By ▲ 0.65 (0.55%)
SSGC 31.68 Decreased By ▼ -0.26 (-0.81%)
TELE 9.06 Decreased By ▼ -0.12 (-1.31%)
TPLP 13.07 Decreased By ▼ -0.25 (-1.88%)
TRG 66.75 Decreased By ▼ -0.75 (-1.11%)
UNITY 10.60 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.02 (1.57%)

ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) نے مالی سال 2024-25 میں 36 ارب روپے کے نقصان کے بعد 2025-26 میں 1.05 ارب روپے کا منافع کمایا۔

وزارتِ توانائی کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی اور چیلنجنگ بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں سے ایک کی اس بحالی اور تبدیلی کا سہرا وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی قیادت کو جاتا ہے۔

وزارت نے مزید کہا کہ یہ بہتری کسی ایک وقتی اصلاح کا نتیجہ نہیں بلکہ بتدریج اور مستقل بنیادوں پر حاصل ہونے والی کامیابی ہے۔

اسی عرصے کے دوران لائن لاسز 15.2 فیصد سے کم ہو کر 11.9 فیصد رہ گئے جبکہ ریکوری کی شرح 98.6 فیصد سے بڑھ کر 100.8 فیصد تک پہنچ گئی جو مؤثر بلنگ، بجلی چوری میں کمی اور صارفین کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ یہ کامیابی جامع اور سوچے سمجھے اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔

ان اصلاحات میں روزمرہ کی مداخلت سے آزاد خودمختار بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تقرری، وزارت کی جانب سے مسلسل پالیسی رہنمائی اور کارکردگی کی نگرانی، بجلی کے تقسیمی نظام کی آٹومیشن اور میٹرائزیشن، نیز صارفین کو بہتر خدمات کی فراہمی پر خصوصی توجہ شامل تھی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حکمتِ عملی ڈسکوز میں وقتی اور غیر منظم مداخلت کے بجائے ادارہ جاتی ڈھانچے اور بہتر طرزِ حکمرانی پر مبنی اصلاحات کی جانب ایک اہم تبدیلی کی عکاس ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ میپکو کی کامیابی کوئی استثنا نہیں بلکہ ایک قابلِ تقلید ماڈل ہے، اور خودمختار طرزِ حکمرانی، شفافیت اور ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے اسی ماڈل کو گردشی قرضے کے خاتمے اور بجلی کے شعبے کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی وسیع حکمتِ عملی کے تحت دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں تک بھی توسیع دی جا رہی ہے۔

میپکو پاکستان کی دس بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں سے ایک ہے جو وزارتِ توانائی کی انتظامی نگرانی میں کام کرتی ہے۔

یہ کمپنی جنوبی پنجاب کے 13 اضلاع میں خدمات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے امور کمپنیز ایکٹ 2017 اور پبلک سیکٹر کمپنیز (کارپوریٹ گورننس) رولز 2013 کے تحت چلائے جاتے ہیں جس کے لیے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو حکومتِ پاکستان نامزد کرتی ہے۔

Comments

200 حروف