BR100 Decreased By (-0.02%)
BR30 Decreased By (-0.34%)
KSE100 Decreased By (-0.03%)
KSE30 Decreased By (-0.01%)
BAFL 56.97 Increased By ▲ 0.10 (0.18%)
BIPL 24.90 Decreased By ▼ -0.06 (-0.24%)
BOP 30.35 No Change ▼ 0.00 (0%)
CNERGY 13.07 Decreased By ▼ -0.05 (-0.38%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 191.67 Decreased By ▼ -0.78 (-0.41%)
FABL 94.39 Increased By ▲ 0.25 (0.27%)
FCCL 52.70 Decreased By ▼ -0.09 (-0.17%)
FFL 14.59 Decreased By ▼ -0.13 (-0.88%)
GGL 19.29 Decreased By ▼ -0.27 (-1.38%)
HBL 307.80 Increased By ▲ 1.70 (0.56%)
HUBC 201.25 Decreased By ▼ -0.17 (-0.08%)
HUMNL 10.07 Decreased By ▼ -0.09 (-0.89%)
KEL 6.17 Increased By ▲ 0.08 (1.31%)
LOTCHEM 26.50 Increased By ▲ 0.04 (0.15%)
MLCF 92.99 Decreased By ▼ -0.17 (-0.18%)
OGDC 315.75 Decreased By ▼ -0.98 (-0.31%)
PAEL 35.60 Decreased By ▼ -0.03 (-0.08%)
PIBTL 14.79 Increased By ▲ 0.11 (0.75%)
PIOC 243.05 Decreased By ▼ -0.16 (-0.07%)
PPL 223.90 Decreased By ▼ -3.01 (-1.33%)
PRL 92.66 Decreased By ▼ -0.36 (-0.39%)
SNGP 92.00 Increased By ▲ 0.16 (0.17%)
SSGC 23.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.25%)
TELE 7.78 Decreased By ▼ -0.02 (-0.26%)
TPLP 12.76 Decreased By ▼ -0.21 (-1.62%)
TRG 56.75 Increased By ▲ 0.19 (0.34%)
UNITY 8.13 Increased By ▲ 0.06 (0.74%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)

ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) نے مالی سال 2024-25 میں 36 ارب روپے کے نقصان کے بعد 2025-26 میں 1.05 ارب روپے کا منافع کمایا۔

وزارتِ توانائی کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی اور چیلنجنگ بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں سے ایک کی اس بحالی اور تبدیلی کا سہرا وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی قیادت کو جاتا ہے۔

وزارت نے مزید کہا کہ یہ بہتری کسی ایک وقتی اصلاح کا نتیجہ نہیں بلکہ بتدریج اور مستقل بنیادوں پر حاصل ہونے والی کامیابی ہے۔

اسی عرصے کے دوران لائن لاسز 15.2 فیصد سے کم ہو کر 11.9 فیصد رہ گئے جبکہ ریکوری کی شرح 98.6 فیصد سے بڑھ کر 100.8 فیصد تک پہنچ گئی جو مؤثر بلنگ، بجلی چوری میں کمی اور صارفین کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ یہ کامیابی جامع اور سوچے سمجھے اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔

ان اصلاحات میں روزمرہ کی مداخلت سے آزاد خودمختار بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تقرری، وزارت کی جانب سے مسلسل پالیسی رہنمائی اور کارکردگی کی نگرانی، بجلی کے تقسیمی نظام کی آٹومیشن اور میٹرائزیشن، نیز صارفین کو بہتر خدمات کی فراہمی پر خصوصی توجہ شامل تھی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حکمتِ عملی ڈسکوز میں وقتی اور غیر منظم مداخلت کے بجائے ادارہ جاتی ڈھانچے اور بہتر طرزِ حکمرانی پر مبنی اصلاحات کی جانب ایک اہم تبدیلی کی عکاس ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ میپکو کی کامیابی کوئی استثنا نہیں بلکہ ایک قابلِ تقلید ماڈل ہے، اور خودمختار طرزِ حکمرانی، شفافیت اور ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے اسی ماڈل کو گردشی قرضے کے خاتمے اور بجلی کے شعبے کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی وسیع حکمتِ عملی کے تحت دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں تک بھی توسیع دی جا رہی ہے۔

میپکو پاکستان کی دس بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں سے ایک ہے جو وزارتِ توانائی کی انتظامی نگرانی میں کام کرتی ہے۔

یہ کمپنی جنوبی پنجاب کے 13 اضلاع میں خدمات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے امور کمپنیز ایکٹ 2017 اور پبلک سیکٹر کمپنیز (کارپوریٹ گورننس) رولز 2013 کے تحت چلائے جاتے ہیں جس کے لیے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو حکومتِ پاکستان نامزد کرتی ہے۔

Comments

200 حروف