وزیراعظم کی ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی میں سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت
- ایس ایم ایز کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات ضروری ہیں، شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو ہدایت کی ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کو قرضوں کی فراہمی کیلئے اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے اشتراک سے ایک جامع حکمت عملی تیار کی جائے۔
سمیڈا جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی برآمدات میں اضافے کیلئے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایس ایم ایز) کو قرضوں کی فراہمی میں سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات ضروری ہیں، سمیڈا نوجوانوں اور ویمن انٹرپرینیورزکو چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتیں لگانے میں معاونت فراہم کرے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایس ایم ایزکی صنعتوں کی استعداد کار بڑھانے بالخصوص کسانوں کی اجناس و پھلوں کی پراسیسنگ کیلئے انہیں آگاہی اور قرضے فراہم کرنے کے حوالے سے سہولت دی جائے، کمرشل بینکوں کی چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے خصوصی پراڈکٹس کی تیاری کی حوصلہ افزائی کی جائے،چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو فزیبلٹی کی تیاری اور دیگر مراحل میں مدد فراہم کی جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایس ایم ایز کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات ضروری ہیں، سمیڈا نوجوان بشمول ویمن انٹرپرینیورزکو چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتیں لگانے میں معاونت فراہم کرے۔ وزیر اعظم نے ایس ایم ایز کی قرضوں تک رسائی کیلئے اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے ساتھ مل کر ایک جامع لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت بھی کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستانی ایس ایم ایز کی عالمی منڈی تک رسائی اور برآمدات بڑھانے کیلئے رواں برس 700 ایس ایم ایز کی 16 ایونٹس میں شرکت یقینی بنائی گئی، اس کے ساتھ ساتھ 35 شہروں میں ایس ایم ایز کو مالی ضابطوں اور کاروبار کے حوالے سے ٹریننگ دی گئی۔ اجلاس میں سمیڈا کے تحت مختلف اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی جبکہ چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور شعبے کے ماہرین نے بھی وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔























Comments