BR100 Increased By (0.93%)
BR30 Increased By (0.86%)
KSE100 Increased By (0.78%)
KSE30 Increased By (0.84%)
BAFL 62.99 Increased By ▲ 1.35 (2.19%)
BIPL 28.50 Increased By ▲ 0.03 (0.11%)
BOP 36.94 Increased By ▲ 0.09 (0.24%)
CNERGY 8.48 Increased By ▲ 0.16 (1.92%)
DFML 20.62 Increased By ▲ 0.03 (0.15%)
DGKC 232.65 Increased By ▲ 5.75 (2.53%)
FABL 103.63 Increased By ▲ 2.07 (2.04%)
FCCL 59.05 Increased By ▲ 0.39 (0.66%)
FFL 18.18 Increased By ▲ 0.06 (0.33%)
GGL 26.95 Increased By ▲ 0.33 (1.24%)
HBL 308.89 Increased By ▲ 2.98 (0.97%)
HUBC 235.50 Increased By ▲ 1.89 (0.81%)
HUMNL 11.32 Increased By ▲ 0.04 (0.35%)
KEL 8.24 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 30.59 Increased By ▲ 1.21 (4.12%)
MLCF 108.39 Increased By ▲ 1.22 (1.14%)
OGDC 350.26 Increased By ▲ 4.83 (1.4%)
PAEL 45.85 Increased By ▲ 0.46 (1.01%)
PIBTL 18.90 Increased By ▲ 0.03 (0.16%)
PIOC 286.11 Increased By ▲ 1.55 (0.54%)
PPL 251.70 Increased By ▲ 2.99 (1.2%)
PRL 36.41 Increased By ▲ 0.12 (0.33%)
SNGP 118.75 Decreased By ▼ -0.02 (-0.02%)
SSGC 31.46 Increased By ▲ 0.09 (0.29%)
TELE 9.20 Decreased By ▼ -0.01 (-0.11%)
TPLP 12.18 Increased By ▲ 0.54 (4.64%)
TRG 67.11 Decreased By ▼ -0.51 (-0.75%)
UNITY 10.88 Decreased By ▼ -0.05 (-0.46%)
WTL 1.27 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
پاکستان

میری ٹائم سیکٹر میں جامع اصلاحات، بندرگاہوں اور کسٹمز نظام کی جدیدکاری تیز

  • ٹاسک فورس کی منظور کردہ 99 اصلاحات میں سے 85 مکمل کر لی ہیں
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعظم کی میری ٹائم ٹاسک فورس کے تحت پاکستان کے بحری شعبے میں گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے جامع اصلاحات پر تیزی سے عمل جاری ہے، جس کے نتیجے میں بندرگاہوں کی جدیدکاری، کسٹمز نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، شپ ری سائیکلنگ کی بحالی اور مقامی ڈریجنگ صلاحیت کو مضبوط بنانے سمیت متعدد اہم اہداف حاصل کیے جا چکے ہیں۔

سرکاری عملدرآمد جائزہ رپورٹ کے مطابق دسمبر 2024 میں قائم کی گئی ریفارم امپلیمنٹیشن کمیٹی نے وزیراعظم کی ٹاسک فورس کی منظور کردہ 99 اصلاحات میں سے 85 مکمل کر لی ہیں، جبکہ مزید 11 اقدامات آخری مراحل میں ہیں اور 3 اصلاحات پر طویل المدتی حکمت عملی کے تحت کام جاری ہے۔ کمیٹی میں وزارت دفاع، نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی)، میری ٹائم اور لاجسٹکس شعبے کے ماہرین سمیت مختلف اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اصلاحات کے نتیجے میں نیشنل پورٹس ماسٹر پلان مکمل کر لیا گیا ہے، بڑی بندرگاہوں پر ٹیرف کو یکساں بنایا گیا، کارگو کلیئرنس کا وقت کم کرنے کے اقدامات کیے گئے، ٹرانزٹ ٹریڈ کو بہتر بنایا گیا اور کارگو ہینڈلنگ و معائنہ سہولیات میں اضافہ کیا گیا۔ بندرگاہوں کی نگرانی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور کنسیشن معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد بھی یقینی بنایا گیا ہے۔

ڈیجیٹلائزیشن کو اصلاحاتی پروگرام کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) کے مختلف ماڈیولز، انٹرپرائز ریسورس پلاننگ (ای آر پی) سسٹمز، ویسل ٹریفک مینجمنٹ سسٹم (وی ٹی ایم ایس)، بزنس انٹیلی جنس ڈیش بورڈز، ڈیجیٹل مالیاتی لین دین اور ریئل ٹائم کنٹینر ٹریکنگ متعارف کرائی جا چکی ہے، جبکہ ویبوک کسٹمز نظام کی مکمل جدیدکاری پر کام جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی)، پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے)، گوادر پورٹ اتھارٹی (جی پی اے) اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کی تھرڈ پارٹی کارکردگی جانچ بھی شروع کی گئی ہے۔ شپنگ کے شعبے میں قومی بیڑے کی جدیدکاری، پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو ترجیح، ایل پی جی، کنٹینر اور خوردنی تیل کی بحری ترسیل میں توسیع، سمندری ملازمین کے لیے ٹیکس ریلیف اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گڈانی میں آٹھ سال بعد شپ ری سائیکلنگ دوبارہ شروع ہو گئی ہے، جبکہ نیشنل ڈریجنگ اینڈ میرین سروسز کے قیام سے ڈریجنگ کے لیے غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار کم ہونے کی توقع ہے۔ ماہی گیری کے شعبے میں پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ، جھینگا فارمنگ، سی فوڈ پروسیسنگ، ہیچری منصوبوں اور کولڈ چین انفراسٹرکچر کی بہتری پر بھی کام جاری ہے تاکہ برآمدات اور پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔

حکام کے مطابق باقی ماندہ اصلاحات میں ویبوک کی جدیدکاری، ساحلی شپنگ کے فروغ، شپ ری سائیکلنگ کے لیے خطرناک فضلے کے انتظام اور دیگر انتظامی اقدامات شامل ہیں، جن کا مقصد پاکستان کو ایک مؤثر، مسابقتی اور ڈیجیٹل طور پر مربوط بحری و تجارتی مرکز بنانا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف