اوپیک پلس نے تیل کی پیداوار میں مزید اضافے کی منظوری دے دی، آبنائے ہرمز سے برآمدات بحال ہونا شروع
- اوپیک پلس کے سات اہم ارکان اپریل سے جولائی کے دوران اپنے پیداواری کوٹہ میں مجموعی طور پر تقریباً 8 لاکھ بیرل روزانہ کا اضافہ کر چکے ہیں
معاملے سے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ اوپیک پلس اگست سے تیل کی پیداوار کے اہداف میں ایک اور اضافے پر اتفاق کرنے کے لیے تیار ہے، جس سے عالمی سپلائی میں ایسے وقت میں اضافہ ہوگا جب آبنائے ہرمز کے بتدریج کھلنے سے تیل کی قیمتوں میں کمی آ رہی ہے۔
تیل پیدا کرنے والے ممالک کے اتحاد نے اگست سے کوٹہ میں 1 لاکھ 88 ہزار بیرل روزانہ اضافے پر اصولی اتفاق کیا ہے، جو جون اور جولائی میں کیے گئے اسی طرح کے اضافے کے علاوہ ہے۔ اوپیک پلس کے سات اہم ارکان اپریل سے جولائی کے دوران اپنے پیداواری کوٹے میں مجموعی طور پر تقریباً 8 لاکھ بیرل روزانہ کا اضافہ کر چکے ہیں۔
امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز بند ہونے سے سعودی عرب، کویت اور عراق جیسے اہم ارکان کی سپلائی متاثر ہوئی، جس کی وجہ سے اوپیک پلس کی پیداوار فروری کے 42.77 ملین بیرل سے گر کر مئی میں 33.13 ملین بیرل روزانہ رہ گئی تھی۔ تاہم جون میں امریکی کوششوں سے یو اے ای اور دیگر ممالک کی برآمدات بڑھنے سے پیداوار میں بحالی شروع ہوئی لیکن یہ اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے کم ہے۔
سپلائی کے مسائل کے باوجود چین کی جانب سے کم درآمدات، غیر مشرق وسطیٰ ممالک کی زیادہ برآمدات اور آئی ای اے کی جانب سے اسٹریٹجک اسٹاک ریلیز کرنے کی بدولت خام تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ گئی ہیں۔ یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹاونوو کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی فوری توجہ اب اس بات پر ہوگی کہ کتنے ٹینکرز آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور چین کی طلب کتنی جلدی بحال ہوتی ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کی مفاہمتی یادداشت نے بھی تاجروں کو یقین دلایا ہے کہ سپلائی جلد معمول پر آ جائے گی۔
جمعہ کو برینٹ کروڈ کی قیمت 72 ڈالر فی بیرل رہی، جو 120 ڈالر کی بلند ترین سطح سے واضح کمی ہے۔ جنگ کے خاتمے کی مفاہمتی یادداشت نے بھی مارکیٹ کو مستحکم کیا ہے۔
اوپیک پلس کو متحدہ عرب امارات کی جانب سے اتحاد چھوڑنے اور عراق کی طرف سے زیادہ کوٹہ مانگے جانے جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے پیداواری پابندیوں سے آزاد ہونے کے لیے اپریل کے آخر میں اتحاد چھوڑا تھا، جس کے بعد اب 7 ممالک پر مشتمل یہ اتحاد 2023 میں کی گئی کٹوتیوں کو مرحلہ وار ختم کر رہا ہے۔
























Comments