BR100 Decreased By (-0.28%)
BR30 Decreased By (-0.01%)
KSE100 Decreased By (-0.1%)
KSE30 Decreased By (-0.26%)
BAFL 62.25 Increased By ▲ 0.12 (0.19%)
BIPL 29.40 Increased By ▲ 0.98 (3.45%)
BOP 37.77 Increased By ▲ 0.64 (1.72%)
CNERGY 8.58 Increased By ▲ 0.08 (0.94%)
DFML 20.33 Decreased By ▼ -0.19 (-0.93%)
DGKC 234.34 Increased By ▲ 0.36 (0.15%)
FABL 105.08 Increased By ▲ 0.90 (0.86%)
FCCL 57.96 Decreased By ▼ -0.67 (-1.14%)
FFL 18.04 Decreased By ▼ -0.06 (-0.33%)
GGL 26.00 Decreased By ▼ -0.43 (-1.63%)
HBL 318.50 Increased By ▲ 0.35 (0.11%)
HUBC 234.48 Decreased By ▼ -1.17 (-0.5%)
HUMNL 11.25 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.17 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 30.25 Decreased By ▼ -0.31 (-1.01%)
MLCF 108.40 Decreased By ▼ -1.11 (-1.01%)
OGDC 345.70 Decreased By ▼ -3.02 (-0.87%)
PAEL 47.37 Increased By ▲ 0.65 (1.39%)
PIBTL 18.75 Decreased By ▼ -0.11 (-0.58%)
PIOC 286.00 Decreased By ▼ -0.21 (-0.07%)
PPL 249.49 Decreased By ▼ -3.17 (-1.25%)
PRL 37.39 Increased By ▲ 0.94 (2.58%)
SNGP 119.27 Decreased By ▼ -1.28 (-1.06%)
SSGC 32.20 Decreased By ▼ -0.15 (-0.46%)
TELE 9.12 Increased By ▲ 0.03 (0.33%)
TPLP 13.27 Increased By ▲ 0.73 (5.82%)
TRG 67.50 Increased By ▲ 0.20 (0.3%)
UNITY 10.68 Decreased By ▼ -0.07 (-0.65%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.02 (1.59%)
پاکستان

سینیٹ کمیٹی نے تیل و گیس کمپنیوں کے 16 سالہ منافع کی تفصیلات طلب کر لیں

  • قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے اربوں روپے کے فوائد کے اصل مستحقین سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے
شائع اپ ڈیٹ

سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ وہ دو روز کے اندر گزشتہ 16 برس کے دوران تیل اور گیس کمپنیوں کے حاصل کردہ منافع کی مکمل تفصیلات پیش کرے، جبکہ قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے اربوں روپے کے فوائد کے اصل مستحقین سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے۔

یہ ہدایت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں جاری کی گئی، جس کی صدارت سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کی۔ اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا، جو تیل اور گیس کے قدرتی وسائل میں صوبوں کی ملکیت اور شراکت داری کی ضمانت دیتا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ تیل و گیس کمپنیوں کے منافع شیئر ہولڈرز میں تقسیم کیے جاتے رہے ہیں، تاہم یہ وضاحت کمیٹی کے ارکان کو مطمئن نہ کر سکی۔

سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ 2009 سے اب تک حاصل ہونے والے منافع کی جامع رپورٹ پیش کی جائے، جس میں نہ صرف منافع کی مجموعی مالیت بلکہ اس کی تقسیم اور استعمال کی مکمل تفصیلات بھی شامل ہوں۔

اجلاس میں حکام نے بتایا کہ صوبائی چیف سیکریٹریز کو خطوط لکھے جا چکے ہیں، جن میں آئین کے مطابق سرکاری توانائی کمپنیوں کے بورڈز میں صوبائی نمائندگی اور صوبوں کی شیئر ہولڈنگ سے متعلق یاددہانی کرائی گئی ہے، جبکہ اس حوالے سے صوبوں سے مشاورت کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔

سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے سوال اٹھایا کہ برسوں تک اس آئینی تقاضے پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبائی نمائندوں کی نامزدگی کا اختیار صرف صوبائی حکومتوں کو حاصل ہے، وفاق کو اس میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں۔

کمیٹی نے وفاقی حکومت میں تقریباً 2 لاکھ 75 ہزار منظور شدہ مگر خالی آسامیوں کا معاملہ بھی زیر غور لایا۔ ارکان نے کہا کہ بجٹ میں فنڈز مختص ہونے کے باوجود ان آسامیوں کو پر نہ کرنا آئین کے آرٹیکل 38(جی) کے تحت شہریوں کے روزگار کے حق کے منافی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبائی کوٹے کے تحت سندھ میں کم از کم 83 ہزار جبکہ بلوچستان میں تقریباً 27 ہزار وفاقی آسامیاں خالی ہیں۔

کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی کہ صوبائی کوٹے سے متعلق سابقہ نوٹیفکیشنز کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، اس مسئلے کے حل کے لیے خصوصی سیل قائم کیا جائے اور ایک ہفتے کے اندر تمام متعلقہ دستاویزات اور اصلاحی اقدامات کا ٹائم لائن پیش کیا جائے۔

مزید برآں، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو گریڈ 1 سے 16 تک کی آسامیوں پر بھرتیوں کا شیڈول، گریڈ 16 اور 17 کی بھرتیوں کے لیے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی منصوبہ، اور گریڈ 18 سے 22 تک کے افسران کے ترقیاتی بورڈز کے اجلاسوں کا شیڈول بھی پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے باوجود ہزاروں سرکاری آسامیاں خالی رکھنا کسی صورت قابل جواز نہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ہر سال بڑی تعداد میں نوجوان اعلیٰ تعلیم مکمل کرکے روزگار کی تلاش میں مارکیٹ میں آ رہے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف