پاکستان کے پبلک سیکٹر میں مصنوعی ذہانت کی شمولیت : اے آئی بطور بزنس پارٹنر
- اے آئی ڈیش بورڈز وزارتِ منصوبہ بندی کو روزانہ کی بنیاد پر اخراجات کی لائیو صورتحال دکھا کر پہلی سہ ماہی میں ہی فنڈز کے ضیاع اور فوری مداخلت والے منصوبوں کی نشان دہی کر سکتے ہیں
دنیا بھر کے بورڈ رومز اور پالیسی ساز اداروں میں اب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو محض ایک تکنیکی آلے کے طور پر نہیں بلکہ اسے ایک بزنس پارٹنر کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
یہ ایک ایسی اکائی ہے جو انسانی فیصلہ سازوں کے ساتھ مل کر سوچتی، ڈیٹا میں چھپے ہوئے نمونوں کو نمایاں کرتی، بحران بننے سے پہلے ہی خامیوں کی نشان دہی اور محض وجدان کے بجائے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر اقدامات کی سفارش کرتی ہے۔ پاکستان کے سرکاری شعبے بالخصوص وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے لیے اس فکری تبدیلی کی عملی اہمیت انتہائی غیر معمولی ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ کیا مصنوعی ذہانت مدد کر سکتی ہے کیونکہ یہ واضح طور پر کر سکتی ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ یہ کب اور کیسے ممکن ہوگا؟
سرکاری نظام میں سافٹ ویئر کا روایتی تصور ایک غیر متحرک آلے کا رہا ہے، جیسے کوئی ایسی اسپریڈ شیٹ جو حکم دینے پر اعداد و شمار کا حساب لگائے، کوئی ڈیٹا بیس جو ریکارڈ محفوظ کرے یا کوئی پورٹل جو درخواستیں وصول کرے۔ اس کے برعکس ایک بزنس پارٹنر کے طور پر مصنوعی ذہانت بالکل مختلف منطق پر کام کرتی ہے۔ یہ نگرانی کرتی، سیکھتی ، پیش بینی کرتی اور مشورے دیتی ہے۔ یہ کسی سوال کا انتظار نہیں کرتی بلکہ خود کار طریقے سے بے ضابطگیوں کی نشان دہی کرتی ہے، مستقبل کے منظر نامے تیار کرتی اور نیا ڈیٹا سامنے آنے پر اپنی سفارشات کو بہتر بناتی ہے۔ مثال کے طور پر اے آئی پارٹنر کے ساتھ کام کرنے والی وزارتِ خزانہ صرف کسی نقصان کے بعد ریونیو کی کمی کے اعداد و شمار ہی جمع نہیں کرتی، بلکہ اسے مہینوں پہلے ہی انتباہ موصول ہو جاتا ہے، ساتھ ہی یہ منظر نامہ بھی سامنے آ جاتا ہے کہ مختلف اصلاحاتی اقدامات کے کیا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
یہ فرق پاکستان جیسے ملک کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جہاں تاریخی طور پر پالیسی کے مقاصد اور عملی نتائج کے درمیان ایک بڑا فاصلہ رہا ہے۔ یہاں مسئلہ کبھی عزائم کا نہیں رہا، کیونکہ پاکستان کی منصوبہ بندی کی دستاویزات اکثر انتہائی جدید اور مدلل ہوتی ہیں۔ اصل چیلنج عمل درآمد کا ہے یعنی یہ دیکھنا کہ کیا فنڈز واقعی مطلوبہ مقاصد کے لیے فراہم کیے جا رہے ہیں، کیا ٹھیکیدار مقررہ وقت پر کام کر رہے ہیں، کیا فائدہ اٹھانے والے افراد حقیقی ہیں اور کیا منصوبوں کے نتائج ان ترقیاتی مقاصد میں تبدیل ہو رہے ہیں جن کا شہریوں سے وعدہ کیا گیا تھا۔
وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے تحت چلنے والا پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) انفرااسٹرکچر، سماجی ترقی اور معاشی نمو پر وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی اخراجات کا عکاس ہوتا ہے۔ ہر سال چاروں صوبوں اور وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں میں پھیلے ہوئے سینکڑوں منصوبوں جیسے سڑکوں، ڈیموں، اسپتالوں، یونیورسٹیوں، ہاؤسنگ اسکیموں اور صنعتی زونز کے لیے اربوں روپے مختص کیے جاتے ہیں۔ اس پورٹ فولیو کو سنبھالنا انتہائی پیچیدہ عمل ہے کیونکہ منصوبوں کا ڈیٹا مختلف وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور ایگزیکیوٹنگ ایجنسیوں سے جمع کیا جاتا ہے، جن میں سے ہر ایک کا اپنا رپورٹنگ فارمیٹ، ٹائم لائن اور ادارہ جاتی کلچر ہوتا ہے۔ تاریخی طور پر فنڈز کے استعمال کی شرح اہداف سے کم رہی ہے اور منظور شدہ فنڈز کا ایک بڑا حصہ سال کے آخر میں ضائع یا واپس کر دیا جاتا ہے۔ منصوبوں کی لاگت میں اضافہ اور تاخیر یہاں کے دائمی مسائل ہیں۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں جن میں کمزور فزیبلٹی اسٹڈیز، زمین کے حصول میں تاخیر، اداروں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان، خریداری کے عمل کی رکاوٹیں اور بعض اوقات گورننس کی خامیاں شامل ہیں۔ پی ایس ڈی پی کے انتظامی ڈھانچے میں درست طریقے سے شامل کیا گیا ایک اے آئی بزنس پارٹنر ان تمام خامیوں کو منظم انداز میں دور کرنے کا آغاز کر سکتا ہے۔
منصوبوں کی منظوری اور ترجیحات کے تعین کے حوالے سے پلاننگ کمیشن ہر سال نئے منصوبوں کی منظوری کے لیے وفاقی وزارتوں کی جانب سے جمع کرائے گئے سینکڑوں پی سی ون فارمز کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ عمل انتہائی محنت طلب اور ذاتی رائے پر مبنی ہوتا ہے۔ ماضی کے منصوبوں کے ڈیٹا بشمول لاگت کے تخمینے، شعبے کی نوعیت، جغرافیائی محلِ وقوع، متعلقہ ادارے کی صلاحیت اور حتمی نتائج پر تربیت یافتہ مشین لرننگ ماڈلز نئی تجاویز میں عمل درآمد کے خطرات کی درجہ بندی، غیر حقیقت پسندانہ لاگت کے تخمینوں کی نشان دہی اور اسی طرح قومی ترقیاتی مقاصد کے مطابق ترجیحات کی سفارش کر سکتے ہیں۔ یہ عمل انسانی فیصلے کا نعم البدل نہیں بلکہ اسے مزید بہتر بناتا ہے۔
حقیقی وقت میں اخراجات کی نگرانی کے لیے انٹیگریٹڈ فنانشل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم سے منسلک اور پی ایس ڈی پی مانیٹرنگ پورٹل سے جڑے اے آئی ڈیش بورڈز وزارتِ منصوبہ بندی کو مالی سال کے ہر دن منصوبوں کے استعمال کی لائیو تصویر فراہم کر سکتے ہیں، نہ کہ صرف وسطِ سال یا سال کے آخر میں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ معلوماتی ماڈلز پہلی سہ ماہی میں ہی نشان دہی کر سکتے ہیں کہ کون سے منصوبے فنڈز ضائع ہونے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور کہاں فوری انتظامی مداخلت کی ضرورت ہے۔ یہ نظام وزارت کو ایک روایتی آڈیٹر کے بجائے ایک فعال پورٹ فولیو مینیجر میں تبدیل کر دیتا ہے۔
پی ایس ڈی پی کے منصوبوں میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ خریداری (پروکیورمنٹ) کا عمل یعنی ٹینڈر کی تیاری، جانچ اور ایوارڈ ہوتی ہے۔ نیچرل لینگویج پروسیسنگ ٹولز ٹینڈر دستاویزات کے ابہام کا جائزہ لیتے ہوئے پیپرا قوانین کی خلاف ورزیوں کی نشان دہی کر سکتے اور ملی بھگت یا مصنوعی قیمتوں کے تعین کے اشارے تلاش کرنے کے لیے بولیوں کے پیٹرن کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔ بینچ مارکنگ اے آئی سیلر منصوبوں کے درمیان یونٹ لاگت کا موازنہ کر سکتی ہے، تاکہ ٹھیکے دینے سے پہلے ان خامیوں کا پتہ لگایا جا سکے جن پر باریک بینی سے نظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسی طرح جغرافیائی اور سماجی ہدف بندی کے لیے سیٹلائٹ امیجری اینالیٹکس اور جیو اسپیشل اے آئی ٹولز اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ آیا فزیکل انفرااسٹرکچر جیسے سڑک، اسکول کی عمارت یا واٹر سپلائی اسکیم واقعی اس مقام پر موجود ہے جس کا دعویٰ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ سماجی و اقتصادی ڈیٹا کے ساتھ مل کر یہ ٹولز ان پسماندہ علاقوں کی نشان دہی میں بھی مدد کر سکتے ہیں جنہیں ماضی میں پی ایس ڈی پی فنڈز میں نظر انداز کیا گیا، جس سے ترقیاتی اخراجات کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکے گی۔ نتائج کی پیمائش کے حوالے سے صرف کام مکمل کرنے کے بجائے ترقیاتی انتظام کو نتائج پر مبنی بنانے کی خواہش پاکستان کے منصوبہ بندی کے فریم ورک میں طویل عرصے سے موجود ہے۔ اے آئی مختلف ذرائع جیسے ہاؤس ہولڈ سروے، ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹمز، اسکولوں میں داخلے کے ریکارڈ اور معاشی سرگرمیوں کے اشاریوں سے ڈیٹا اکٹھا کرکے اس خواہش کو عملی جامہ پہنا سکتی ہے، تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ آیا مکمل شدہ پی ایس ڈی پی منصوبے واقعی شہریوں کی زندگیوں میں بہتری لا رہے ہیں اور اس کا حجم کتنا ہے۔
ان میں سے کوئی بھی امکان صرف ٹیکنالوجی خریدنے سے حقیقت نہیں بن سکتا۔ وزارتِ منصوبہ بندی نے حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب اہم اقدامات کیے ہیں، جن میں انٹیلیجنٹ پروجیکٹ آٹومیشن سسٹم (آئی پی اے ایس) کی تیاری اور مالیاتی و مادی پیش رفت کی رپورٹنگ کو جوڑنے کی کوششیں شامل ہیں۔ یہ وہ بنیادیں ہیں جن پر مزید کام کیا جانا چاہیے، تاہم اس کے لیے تین ادارہ جاتی شرائط لازمی ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ ڈیٹا کے معیار اور معیار سازی کو اسٹریٹجک ترجیح سمجھا جائے۔ اے آئی پارٹنرز اسی وقت قابلِ اعتماد ہوتے ہیں جب انہیں فراہم کیا جانے والا ڈیٹا درست ہو۔ موجودہ پی ایس ڈی پی ڈیٹا فلو میں عام پائے جانے والے مسائل جیسے غیر مستقل پروجیکٹ کوڈز، ڈپلیکیٹ انٹریز اور مینوئل رپورٹنگ کی غلطیوں کو لازمی ڈیٹا گورننس کے معیارات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ انسانی استعداد کار میں بھی اضافہ کیا جائے۔ منصوبہ بندی کے شعبے میں اے آئی ٹولز کے لیے ایسے پیشہ ور افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو ماڈل کے نتائج کی تشریح کر سکیں، ان کے مفروضات پر سوال اٹھا سکیں اور سفارشات کو انتظامی فیصلوں میں تبدیل کر سکیں۔ اس کے لیے وزارت اور اس کے منسلک محکموں میں ڈیٹا لٹریسی کے لیے مستقل سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ تیسری شرط یہ ہے کہ شفافیت کے لیے سیاسی عزم اس پورے عمل کی بنیاد ہونا چاہیے۔ اے آئی پر مبنی مانیٹرنگ اسی وقت سب سے زیادہ کارآمد ہوتی ہے جب اس کے نتائج پر کارروائی ہو یعنی خراب کارکردگی دکھانے والے منصوبے کو واقعی نتائج کا سامنا کرنا پڑے اور مسلسل ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے وزراء کی سرپرستی میں پناہ نہ لے سکیں۔ احتساب کے بغیر ٹیکنالوجی محض ایک مہنگا ڈیش بورڈ ہے۔
پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں مالیاتی مشکلات کے باعث عوامی سرمایہ کاری کے ایک ایک روپے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ پی ایس ڈی پی اپنی تمام تر حدود کے باوجود فزیکل اور سوشل انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے لیے حکومت کا سب سے براہ راست ذریعہ ہے۔ مصنوعہ ذہانت کے ساتھ وزارتِ منصوبہ بندی کے تعلق کو ڈیجیٹل ٹولز کے کبھی کبھار استعمال سے بدل کر ترقیاتی انتظام میں ایک حقیقی ادارہ جاتی شراکت دار بنانا کوئی خیالی خواب نہیں ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز موجود ہیں، بھارت، بنگلہ دیش اور خلیجی ممالک کی علاقائی مثالیں سبق فراہم کرتی ہیں اور اس کی ضرورت انتہائی فوری ہے۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی قیادت میں وزارت گڈ گورننس، کارکردگی کے حوالے سے سچائی، شواہد پر عمل کرنے کی ہمت اور ان شہریوں کے ساتھ مخلصانہ عزم کو یقینی بنانے کے لیے اے آئی کو ایک بزنس پارٹنر بنانے پر تیزی سے کام کر رہی ہے جن کے ٹیکسز پی ایس ڈی پی کی ہر لائن کو فنڈ کرتے ہیں۔ امید ہے کہ جلد ہی اس کے شاندار نتائج سامنے آئیں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026
























Comments