وینزویلا میں قیامت خیز زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 920 ہوگئی، ہزاروں افراد تاحال لاپتہ
- ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری، 3 ہزار 360 افراد زخمی
وینزویلا میں دو طاقتور زلزلوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 920 تک پہنچ گئی ہے جب کہ 3 ہزار 360 افراد زخمی ہیں، زلزلے کے باعث ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں، ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم یہ امدادی کارروائیاں انتہائی مشکل اور سست روی کا شکار ہیں۔
تباہ حال علاقے کے دورے کے دوران عبوری رہنما ڈیلسی روڈریگیز کو کراکس کے رہائشیوں کی جانب سے شدید نعرے بازی اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑا، حکومتی ردعمل میں مبینہ کمی پر عوامی غصے میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بدھ کی شام ایک منٹ کے وقفے سے آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے نتیجے میں ملک کے شمالی حصے میں عمارتیں زمین بوس ہو گئیں جس کے بعد 50 ہزار سے زائد افراد لاپتا ہیں۔
دارالحکومت کراکس کے قریب ساحلی علاقہ لا گویرا سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 7.2 اور 7.5 شدت کے زلزلوں کی وجہ سے ایک کے بعد ایک عمارت زمین بوس ہوگئی۔
وزیرداخلہ دیوسدادو کابیو نے ٹیلی وژن پر نشر کیے گئے اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ جمعہ کی رات 8 بجے سے آفت زدہ علاقے تک رسائی محدود کر دی گئی ہے۔
چلی سے تعلق رکھنے والی امدادی ٹیم لا گویرا میں واقع ایک رہائشی کمپلیکس پہنچ گئی جو چار بلند و بالا عمارتوں پر مشتمل تھا اور سینکڑوں اپارٹمنٹس پر مشتمل اس کمپلیکس کا بیشتر حصہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکا تھا۔
وہاں موجود ٹیم کے لیڈر نادیومار پولانکو نے کہا کہ دقسمتی سے عمارت مکمل طور پر گر چکی ہے اور زندہ بچ جانے والوں کے ملنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ اب ہماری کوششیں متوفی افراد کی لاشیں نکالنے پر مرکوز ہیں، یہ مقام شہر کے دیگر کئی مقامات جیسا ہی منظر پیش کررہا ہے۔
دیگر مقامات پر خاندان کے افراد، پڑوسی اور رضاکار زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے کے لیے اپنے ہاتھوں کا استعمال کر رہے ہیں اور وہ بھاری مشینری یا سرکاری مدد نہ ملنے پر شدید افسوس کا اظہار کررہے ہیں۔
40 سالہ مارجوسلی سالازار جن کی 16 سالہ بیٹی زلزلے میں جاں بحق ہو گئی نے دکھی دل کے ساتھ کہا کہ میں اپنے چھوٹے سے گیل کو ڈھونڈ رہی ہوں، وہ صرف پانچ ماہ کا تھا۔ بچہ اور سالازار کی کزن دونوں لاپتہ ہیں۔
انہوں نے اپیل کی کہ براہ کرم ہمیں یہاں مدد کی ضرورت ہے۔ ہمیں مشینری چاہیے۔ ہم نے یہاں کسی سرکاری اہلکار کو نہیں دیکھا۔
کراکس کے ایک پوش علاقے میں روڈریگز کا استقبال ان لوگوں کے مشتعل نعروں سے کیا گیا جن کے پیارے ملبے تلے دبے ہوئے تھے۔
ایک منہدم عمارت کے قریب رکاوٹوں کے پیچھے سے انہوں نے چیخ کر کہا کہ حکومت عوام کے لیے کچھ نہیں کررہی۔
صورتحال انتہائی پیچیدہ
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے دیکھا کہ امدادی کارکن ملبہ ہٹانے کے لیے بڑے ہتھوڑوں کا استعمال کررہے تھے اور زندہ بچ جانے والوں کی آوازیں سننے کے لیے مکمل خاموشی کی اپیل کررہے تھے۔
اقوام متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ ہنگامی امدادی کارروائی ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آفٹر شاکس اور تباہ شدہ عمارتیں اب بھی سنگین خطرات کا باعث بنی ہوئی ہیں۔
تیل کی دولت سے مالا مال وینزویلا میں ایک صدی سے زائد عرصے کے دوران آنے والا یہ بدترین زلزلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے معاشی بدحالی کا شکار ہے۔
اس بحران نے اسپتالوں اور دیگر عوامی خدمات کو شدید متاثر کیا جس کے باعث لاکھوں افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔
امدادی کارروائیوں کا آغاز
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے ادارے اوچا نے کہا ہے کہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مدد کے لیے کم از کم 17 ممالک سے سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کو متحرک کیا جارہا ہے۔
اسپین، سلواڈور، سوئٹزرلینڈ، کولمبیا اور میکسیکو کی امدادی ٹیمیں پہلے ہی زمینی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
روڈریگز نے جمعہ کو بتایا کہ انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو کی جانب سے ٹیلی فون موصول ہوا جنہوں نے ریسکیو ورکرز، خصوصی آلات، عارضی پناہ گاہوں کے لیے معاونت اور متاثرہ خاندانوں کے لیے انسانی امداد بھیج کر ریسکیو آپریشن میں تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس سے قبل امریکہ نے کہا تھا کہ وہ 250 سے زائد اہلکاروں پر مشتمل ایک ڈیزاسٹر رسپانس ٹیم بھیج رہا ہے۔
امریکی فوج کا ایک اعلیٰ عہدیدار واشنگٹن کی امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے کراکس پہنچ گیا۔
اقوام متحدہ اور دیگر امدادی اداروں نے جمعہ کو جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ زلزلوں سے قبل بھی وینزویلا بھر میں لاکھوں افراد خوراک کے عدم تحفظ، صحت کی سہولیات کے انہدام، تحفظ سے متعلق خطرات اور بنیادی سہولتوں تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا کررہے تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بین الاقوامی برادری کو اس ہنگامی صورتحال کو ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
اسی شدت کے زلزلوں کے نتیجے میں جنوری 2010 میں ہیٹی میں 2 لاکھ سے زائد افراد جب کہ اکتوبر 2005 میں 2005 کشمیر زلزلہ میں تقریباً 73 ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔























Comments