کیش لیس معیشت کی جانب پیش قدمی، ڈیجیٹل ادائیگیوں کا حجم 68 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا
- مارچ 2026ء تک موبائل بینکنگ اور ڈیجیٹل والٹ ایپس کی رجسٹریشنز کی تعداد 132 ملین سے تجاوز کر گئی، اسٹیٹ بینک
پاکستان میں ڈیجیٹل بینکنگ کی جانب منتقلی نے زور پکڑلیا، رواں کیلنڈر سال (2026ء) کی پہلی سہ ماہی کے دوران ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے ہونے والے لین دین کی تعداد 3.4 ارب تک پہنچ گئی جن کی مجموعی مالیت 68 ٹریلین روپے ریکارڈ کی گئی۔
ڈیجیٹل ادائیگیوں میں یہ تیزی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک بھر میں بینکنگ سسٹم کے صارفین الیکٹرانک بینکنگ اور بغیر نقد (کیش لیس) ادائیگی کے طریقوں کو تیزی سے اپنا رہے ہیں۔
اسٹیٹ بینک نے جمعرات کو جنوری تا مارچ 2026 کی سہ ماہی کے لیے ادائیگی نظام سے متعلق اپنی سہ ماہی رپورٹ جاری کی۔
یہ رپورٹ باضابطہ بینکنگ اور ادائیگی کے چینلز کے ذریعے ہونے والے مالیاتی لین دین کے اہم رجحانات کا ایک جائزہ پیش کرتی ہے، تاہم اس میں بینکنگ/ادائیگی کے نظام سے باہر ہونے والے لین دین شامل نہیں ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع بشمول موبائل بینکنگ ایپس، انٹرنیٹ بینکنگ، ڈیجیٹل والٹس اور پیمنٹ کارڈز اب ملک کے بدلتے ہوئے ادائیگیوں کے نظام کا ایک لازمی حصہ بن چکے ہیں۔
صارفین اپنی سہولت، رفتار اور سیکیورٹی کی وجہ سے فنڈز کی منتقلی، بلوں کی ادائیگی، آن لائن خریداری اور دکانوں پر لین دین کے لیے ان چینلز پر تیزی سے انحصار کررہے ہیں۔
ڈیجیٹل ادائیگیوں کا بڑھتا ہوا رجحان کیش لیس لین دین کی جانب صارفین کی بدلتی ہوئی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے جس کو اسمارٹ فونز کے بڑھتے ہوئے استعمال اور انٹرنیٹ تک وسیع ہوتی رسائی سے تقویت مل رہی ہے۔
مارچ 2026ء تک موبائل بینکنگ اور ڈیجیٹل والٹ ایپس کی رجسٹریشنز کی تعداد 132 ملین سے تجاوز کر گئی ہے جو مارچ 2025ء میں 96 ملین تھی، اس عرصے کے دوران ان میں 37 فیصد نمو دیکھی گئی۔
مارچ 2026ء کے اختتام تک انٹرنیٹ بینکنگ رجسٹریشنز کی تعداد 16.2 ملین تک پہنچ چکی ہے، اگر اس کا موازنہ 268 ملین بینک کھاتوں (دسمبر 2025ء تک کے اعداد و شمار کے مطابق) سے کیا جائے تو تقریباً 49 فیصد کھاتے موبائل بینکنگ ایپ یا ڈیجیٹل والٹس سے منسلک ہیں۔
ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے ہونے والے لین دین کی تعداد 3.4 ارب تک پہنچ گئی ہے جن کی مالیت 68 ٹریلین روپے ہے جو بینکنگ سسٹم کے صارفین میں ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقوں کو اپنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔
موبائل ایپ پر مبنی ادائیگیاں بدستور ڈیجیٹل منظرنامے پر حاوی ہیں جس میں برانچ لیس بینکنگ (بی بی) پلیئرز، بینکوں اور الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنزکی جانب سے پیش کردہ ایپس کے ذریعے 2.9 ارب لین دین کیے گئے۔ یہ لین دین تمام ڈیجیٹل ادائیگیوں کا 78 فیصد ہیں اور ان کی مالیت 42 ٹریلین روپے رہی۔ یہ ایپس خدمات کی ایک وسیع رینج کو سپورٹ کرتی ہیں جن میں پی ٹو پی فنڈز کی منتقلی، بلوں کی ادائیگی اور آن لائن پلیٹ فارمز و فزیکل ریٹیل آؤٹ لیٹس پر اکاؤنٹ اور والٹ کے ذریعے تاجروں کو کی جانے والی ادائیگیاں شامل ہیں۔
انٹرنیٹ بینکنگ نے بھی مستحکم نمو ریکارڈ کی جس کے لین دین کے حجم اور مالیت میں بالترتیب 5 فیصد اور 19 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اس سہ ماہی کے دوران راست نے اپنی مضبوط ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا اور 742.1 ملین لین دین پروسیس کیے جن کی مالیت 23.3 ٹریلین روپے تھی۔
راست کے کل لین دین میں سے پی ٹو پی لین دین بڑھ کر 664 ملین تک پہنچ گئے جن میں 10 فیصد اضافہ ہوا اور ان کی مالیت 18.9 ٹریلین روپے رہی۔ دوسری جانب راست کے ذریعے تاجروں کو کی جانے والی ادائیگیاں گزشتہ سہ ماہی کے 36.3 ملین سے بڑھ کر 55.9 ملین ہوگئیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق اس سہ ماہی کے دوران باضابطہ بینکنگ اور ادائیگی کے چینلز کے ذریعے مجموعی طور پر 3.7 ارب ریٹیل ادائیگیاں کی گئیں جن کی مالیت 168.8 ٹریلین روپے تھی۔
ان ادائیگیوں میں سے 92 فیصد ڈیجیٹل پیمنٹ چینلز کے ذریعے کی گئیں جن میں موبائل بینکنگ ایپس، انٹرنیٹ بینکنگ پورٹلز، یو ایس ایس ڈی ، اے ٹی ایمز ، پی او ایس ، ای کامرس اور کال سینٹر آئی وی آر بینکنگ شامل ہیں۔
ریٹیل لین دین کی تعداد میں گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 9 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
علاوہ ازیں 20,232 بینک برانچوں اور 819,397 بینکنگ ایجنٹس نے اوور دی کاؤنٹر خدمات فراہم کیں۔
بینک برانچوں نے 128 ملین لین دین پروسیس کیے جن کی مالیت 99.5 ٹریلین روپے تھی جبکہ بینکنگ ایجنٹس نے 155 ملین لین دین کی سہولت فراہم کی جن کی مالیت 1.1 ٹریلین روپے رہی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026





















Comments