قومی اسمبلی نے 74 ضمنی گرانٹس کے مطالبات کی منظوری دیدی
- مجموعی طور پر 17.901 کھرب روپے کے وفاقی چارجڈ اخراجات کی منظوری دی گئی
قومی اسمبلی نے بدھ کے روز مالی سال 2024-25 اور 2025-26 کے لیے باقاعدہ اور تکنیکی ضمنی گرانٹس کی 74 مطالباتِ زر کے تحت مجموعی طور پر 17.901 کھرب روپے کے وفاقی چارجڈ اخراجات کی منظوری دے دی۔
ایوان نے پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے حوالے سے مالی سال 2016-17 کے دوران ہونے والے اضافی اخراجات پورے کرنے کے لیے 4.125 ارب روپے کی گرانٹ کی بھی منظوری دی۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے مالی سال 2024-25 اور 2025-26 کے لیے باقاعدہ اور تکنیکی ضمنی گرانٹس منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیں۔
ایوان نے ان ضمنی گرانٹس کے مطالبات کو اکثریتی رائے سے صوتی ووٹنگ کے ذریعے منظور کر لیا۔
قومی اسمبلی نے مالی سال 2025-26 کے لیے مجموعی طور پر 12.65 کھرب روپے کی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی۔ ان میں اندرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 12.643 کھرب روپے، انتخابی اخراجات کے لیے 455.984 ملین روپے اور وفاقی آئینی عدالت پاکستان کے لیے 2.25 ارب روپے شامل ہیں۔
ایوان نے مالی سال 2024-25 کے لیے مجموعی طور پر 2.644 کھرب روپے (2 کھرب 644.485 ارب روپے) کی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی۔ ان میں صدرِ مملکت کے عملے کے اخراجات اور الاؤنسز کے لیے 208 ملین روپے، قلیل مدتی غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 40.350 ارب روپے، آڈٹ کے لیے 63 ملین روپے اور اندرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 2.604 کھرب روپے (2 کھرب 603.865 ارب روپے) شامل ہیں۔
مالی سال 2024-25 کے چارجڈ اضافی اخراجات کے حوالے سے ایوان نے مجموعی طور پر 2.088 کھرب روپے (2 کھرب 87.572 ارب روپے) کی اضافی گرانٹس کی منظوری دی۔
تفصیلات کے مطابق، ان میں ریٹائرمنٹ الاؤنسز اور پنشن کے لیے 662.850 ملین روپے، غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 1.548 ارب روپے، قلیل مدتی غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 32.810 ملین روپے، اندرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 169.322 ارب روپے، اندرونی قرضوں کی اصل رقم کی ادائیگی کے لیے 1.916 کھرب روپے (1 کھرب 915.924 ارب روپے) اور وفاقی ٹیکس محتسب کے لیے 81.522 ملین روپے شامل ہیں۔
ایوان نے مالی سال 2025-26 کے لیے 35 ضمنی گرانٹس کے مطالبات بھی منظور کیے، جن میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے لیے 4 ارب روپے، کامرس ڈویژن کے لیے 7.5 ارب روپے، دفاعی ڈویژن کے لیے 4.25 ارب روپے، دفاعی خدمات کے لیے 33.968 ارب روپے، پاور ڈویژن کے لیے 105.5 ارب روپے، وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے لیے 57.19 ارب روپے، گرانٹس، سبسڈیز اور متفرق اخراجات کے لیے 127.411 ارب روپے، ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کے لیے 5 ارب روپے اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کے لیے 1.47 ارب روپے شامل ہیں۔
اسی طرح، ایوان نے کابینہ ڈویژن کے لیے 967.5 ملین روپے، قومی سلامتی ڈویژن کے لیے 250 ملین روپے، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) ڈویژن کے لیے 76.239 ملین روپے، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کے لیے 150 ملین روپے، پیٹرولیم ڈویژن کے لیے 13.1 ملین روپے، وزارتِ خزانہ کے دیگر اخراجات کے لیے 112.118 ملین روپے اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کے متفرق اخراجات کے لیے 13.83 ارب روپے سمیت دیگر رقوم کی بھی منظوری دی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026




















Comments