اسٹاک ایکسچینج میں تیزی: 100 انڈیکس میں 600 پوائنٹس سے زائد اضافہ
- آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں سمیت اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو کاروبار کے آغاز سے ہی خریداری کا رجحان دیکھا جارہا ہے جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ابتدائی اوقات میں 600 پوائنٹس سے زائد بڑھ گیا۔
صبح 10 بجکر 5 منٹ پربینچ مارک انڈیکس 652.68 پوائنٹس یا 0.37 فیصد اضافے سے 178,345.60 پوائنٹس پر جاپہنچا۔
آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، او ایم سی اور پاور جنریشن سمیت اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ کے ای، ماری، او جی ڈی سی ، پی او ایل ، پی پی ایل، ایچ بی ایل، ایم سی بی، این بی پی اور یو بی ایل سمیت انڈیکس کے بڑے حصص بھی مثبت رہے۔
یاد رہے کہ منگل کو اسٹاک ایکسچینج دباؤ کا شکار رہی کیونکہ علاقائی جغرافیائی سیاسی پیشرفت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے جبکہ پرافٹ ٹیکنگ اور دیگر انڈیکس ہیوی سیکٹرز میں مسلسل دوسرے سیشن میں بھی گراوٹ کا شکار رہے ۔
گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 778.95 پوائنٹس یا 0.44 فیصد کی کمی سے177,692.92 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر بدھ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ کا رجحان رہا۔ یہ صورتحال منگل کو ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص میں ہونے والی عالمی گراوٹ کے بعد سامنے آئی ۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ مارکیٹ میں مزید غیر یقینی صورتحال اور اتار چڑھاؤ کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.02 فیصد گرگیا۔ جنوبی کوریا کے حصص جو منگل کو مارچ کے بعد اپنی ایک دن کی سب سے بڑی گراوٹ یعنی 10 فیصد تک گرگئے تھے میں 2.2 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس اتار چڑھاؤ کا شکار رہا اور آخری اطلاعات تک 0.8 فیصد نیچے تھا۔
عالمی منڈیوں میں منگل کی رات رسک آف (سرمایہ کاری میں احتیاط) کا رجحان دیکھنے میں آیا جس کے اثرات یورپ اور ایشیا کے بعد وال اسٹریٹ پر بھی مرتب ہوئے۔ امریکی اسٹاک مارکیٹس میں گراوٹ کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے قرض لے کر کیے جانے والے اخراجات پر تشویش اور یہ قیاس آرائیاں تھیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو مانیٹری پالیسی کو مزید سخت بنا سکتا ہے۔ اس دوران سرمایہ کاروں نے حکومتی قرضوں (ٹریژری بانڈز) میں سرمایہ کاری کو محفوظ تصور کیا جس کے باعث ٹریژری ییلڈز میں کمی دیکھی گئی۔
ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں 0.09 فیصد، ایس اینڈ پی 500 میں 1.4 فیصد، اور نیس ڈیک کمپوزٹ میں 2.2 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ بینچ مارک امریکی 10 سالہ ٹریژری نوٹ کی ییلڈ 1.41 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 4.493 فیصد پر آ گئی۔
تیل قیمتوں میں رواں ہفتے جاری گراوٹ کا سلسلہ برقرار رہا، یہ گزشتہ روز کی طرح چار ماہ کی کم ترین سطح کے قریب ٹریڈ کرتی رہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ اشارے ہیں کہ ایران جنگ کے آغاز سے خلیج میں پھنسے مزید آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے























Comments