آبنائے ہرمز سے ترسیل میں اضافہ، خام تیل کی قیمتیں مزید کم
- برینٹ خام تیل کے سودے 37 سینٹ یا 0.5 فیصد کمی کے بعد 76.71 ڈالر فی بیرل پر آ گئے
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز بھی کمی کا سلسلہ جاری رہا اور قیمتیں گزشتہ چار ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئیں۔ سرمایہ کاروں نے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت بحال ہونے اور امریکا و ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے آثار کو مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
برینٹ خام تیل کے سودے 37 سینٹ یا 0.5 فیصد کمی کے بعد 76.71 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 36 سینٹ یا 0.5 فیصد گر کر 72.85 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں معیارات منگل کے روز بھی تقریباً ایک فیصد نیچے آئے تھے اور مارچ کے اوائل کے بعد کم ترین سطح کو چھو گئے تھے۔
مارکیٹ پر دباؤ اس وقت بڑھا جب واشنگٹن نے ابتدائی امن مذاکرات کے بعد تہران کو 60 روزہ پابندیوں میں نرمی دی، جس سے ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت مل گئی۔ اس کے علاوہ لبنان میں کشیدگی میں کمی نے بھی قیمتوں کو نیچے لانے میں کردار ادا کیا۔
مٹسوبشی یو ایف جے ریسرچ اینڈ کنسلٹنگ کے سینئر ماہرِ معاشیات تومومیچی آکوتا کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات میں بہتری اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بحال ہونے کی امیدوں نے خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جوہری مذاکرات میں مزید پیش رفت ہوئی تو قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح تک واپس آ سکتی ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی شپنگ ایجنسی کے مطابق خلیج میں پھنسے سیکڑوں جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزارنے کے لیے انخلا کا منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ امریکی پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر 765,000 بیرل کم ہوئے۔























Comments