آبنائے ہرمز سے ٹینکرز کی روانگی،خام تیل کی قیمتوں میں کمی
- برینٹ کروڈ کے اگست کے معاہدے کی قیمت 40 سینٹ کمی کے بعد 73.34 ڈالر فی بیرل پر آ گئی
عالمی منڈی میں جمعرات کے روز خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز سے سپلائی میں بہتری اور ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والی رسد سے متعلق خدشات میں کمی بتائی جا رہی ہے۔
برینٹ کروڈ کے اگست کے معاہدے کی قیمت 40 سینٹ (0.54 فیصد) کمی کے بعد 73.34 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 27 سینٹ (0.38 فیصد) کمی کے ساتھ 70.07 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔
مارکیٹ میں اگست کے برینٹ کی قیمت ستمبر کے معاہدے سے کم رہی، جو اس بات کی علامت ہے کہ قلیل مدت میں سپلائی نسبتاً بہتر ہے۔ ماہرین کے مطابق تیزی سے قیمتوں میں کمی نے کئی سرمایہ کاروں کو حیران کر دیا ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی توقع سے زیادہ تیزی سے بحال ہو رہی ہے۔
امریکی توانائی کے وزیر کرس رائٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل تقریباً جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ چکی ہے، اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں کم از کم 20 ملین بیرل تیل اس راستے سے منتقل ہوا ہے۔ تاہم مکمل معمول کی صورتحال میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں کیونکہ راستے کی صفائی اور ڈی مائننگ جاری ہے۔
یہ اضافہ اس ابتدائی معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے جس کے تحت امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے پر اتفاق ہوا تھا، اور جس کے بعد عالمی شپنگ ٹریفک دوبارہ بحال ہونا شروع ہوئی ہے۔
اومان نے بھی آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکروں کی روانگی کے لیے عارضی راستے کھول دیے ہیں جبکہ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن اور عمانی حکام مشترکہ طور پر نقل و حرکت کو منظم کر رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی خام تیل کے ذخائر 1984 کے بعد کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، تاہم مارکیٹ نے اس ڈیٹا کو زیادہ اہمیت نہیں دی اور سرمایہ کار زیادہ تر آبنائے ہرمز کی صورتحال پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔




















Comments