BR100 Increased By (0.44%)
BR30 Increased By (1.39%)
KSE100 Increased By (0.62%)
KSE30 Increased By (0.61%)
BAFL 58.79 Decreased By ▼ -0.35 (-0.59%)
BIPL 26.82 Increased By ▲ 0.20 (0.75%)
BOP 35.38 Increased By ▲ 0.26 (0.74%)
CNERGY 8.20 Increased By ▲ 0.05 (0.61%)
DFML 19.77 Increased By ▲ 0.08 (0.41%)
DGKC 221.94 Increased By ▲ 3.32 (1.52%)
FABL 96.91 Decreased By ▼ -0.15 (-0.15%)
FCCL 58.36 Increased By ▲ 1.61 (2.84%)
FFL 17.84 Decreased By ▼ -0.04 (-0.22%)
GGL 23.54 Decreased By ▼ -0.12 (-0.51%)
HBL 294.10 Increased By ▲ 1.11 (0.38%)
HUBC 231.41 Decreased By ▼ -0.40 (-0.17%)
HUMNL 11.07 Decreased By ▼ -0.05 (-0.45%)
KEL 8.75 Increased By ▲ 0.33 (3.92%)
LOTCHEM 28.07 Decreased By ▼ -0.15 (-0.53%)
MLCF 107.15 Increased By ▲ 3.85 (3.73%)
OGDC 339.96 Increased By ▲ 1.79 (0.53%)
PAEL 44.49 Increased By ▲ 1.02 (2.35%)
PIBTL 18.64 Increased By ▲ 0.94 (5.31%)
PIOC 273.85 Increased By ▲ 3.85 (1.43%)
PPL 247.98 Increased By ▲ 3.66 (1.5%)
PRL 35.29 Decreased By ▼ -0.14 (-0.4%)
SNGP 123.17 Decreased By ▼ -2.49 (-1.98%)
SSGC 32.04 Decreased By ▼ -0.90 (-2.73%)
TELE 8.87 Decreased By ▼ -0.04 (-0.45%)
TPLP 10.57 Decreased By ▼ -0.26 (-2.4%)
TRG 64.40 Decreased By ▼ -0.50 (-0.77%)
UNITY 11.12 Increased By ▲ 0.09 (0.82%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.01 (0.8%)
مارکٹس

آبنائے ہرمز سے ترسیل بحال، خام تیل 2 فیصد سستا

*برینٹ کروڈ آئل کے سودے 1.47 ڈالر یا 1.95 فیصد کی کمی سے 73.79 ڈالر فی بیرل پر آگئے
شائع June 26, 2026 اپ ڈیٹ June 26, 2026 12:00pm

خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو 2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ ہفتہ وار بڑی گراوٹ کی جانب گامزن ہیں جس کی وجہ سپلائی کے حوالے سے خدشات میں کمی آنا ہے۔ اگرچہ جمعرات کو عمان کے قریب ایک کارگو جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا تاہم آبنائے ہرمز سے مزید پھنسے ہوئے آئل ٹینکرز کے نکل جانے کے بعد صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

برینٹ کروڈ آئل کے سودے 1.47 ڈالر یا 1.95 فیصد کی کمی سے 73.79 ڈالر فی بیرل پر آگئے جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 1.44 ڈالر یا 2 فیصد کی کمی کے بعد 70.48 ڈالر فی بیرل پر ریکارڈ کئے گئے ۔

ایل ایس ای جی کے شپنگ ڈیٹا کے مطابق سعودی عرب کی بڑی آئل ریفائننگ کمپنی سعودی آرامکو نے تقریباً چار ماہ کی معطلی کے بعد جمعے کو خلیج میں واقع اپنے راس تنورہ ٹرمینل پر خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کر دی۔

اعداد و شمار کے مطابق دو انتہائی بڑے خام تیل بردار جہازراس تنورہ ٹرمینل پر خام تیل لوڈ کرتے ہوئے دیکھے گئے جبکہ ایک اور جہاز قریبی علاقے میں اپنی باری کا انتظار کررہا تھا۔

ہر وی ایل سی سی جہاز 20 لاکھ بیرل تیل لوڈ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسپارٹا کموڈیٹیز کی سینئر آئل مارکیٹ تجزیہ کار جون گوہ نے کہا کہ مارکیٹ میں عمومی فروخت کا رجحان دیکھا جارہا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز سے نکلنے والے تیل کے بہاؤ میں اضافے پر مارکیٹ ردعمل دے رہی ہے جبکہ چین کی جانب سے ابھی تک خام تیل کی طلب میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔

جمعرات کو عمان کے قریب ایک کارگو جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل (گولے) لگنے کے بعد دونوں بینچ مارک کنٹریکٹس میں 2 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا تھا جس کے بعد یونائیٹڈ نیشنز کے ذیلی ادارے نے اپنی رضاکارانہ انخلا اسکیم معطل کردی۔

دو امریکی حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ایران نے اس مال بردار جہاز پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کررہا تھا۔ دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے لیے مقررہ بحری راستوں سے باہر گزرنے والے جہازوں کی سلامتی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

برینٹ آئل اور ڈبلیو ٹی آئی خام تیل دونوں اس ہفتے تقریباً 8 فیصد کی کمی کی جانب گامزن ہیں۔

جمعرات کو جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق فروری میں ایران کے ساتھ امریکی،اسرائیلی تنازع شروع ہونے کے بعد سے اس ہفتے آبنائے ہرمز سے خام تیل کی ترسیل اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس کی وجہ جنگ بندی کا وہ معاہدہ ہے جس کے تحت آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھول دیا گیا جبکہ اس خدشے نے بھی تجارت کو فروغ دیا کہ یہ آبنائے کب تک کھلی رہے گی۔

تاہم مجموعی ٹریفک 28 فروری کو تنازع شروع ہونے سے قبل روزانہ گزرنے والے 125 جہازوں کی اوسط کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔

آئی این جی کے تجزیہ کاروں نے اپنے ایک نوٹ میں لکھا کہ اس اضافے کا زیادہ تر تعلق ان جہازوں سے ہے جو پہلے سے خلیج فارس میں پھنسے ہوئے تھے اور اب وہاں سے نکل رہے ہیں۔ خلیج کے اندر آنے والے جہازوں کا بہاؤ اب بھی بہت کم ہے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ جب پھنسے ہوئے تمام جہاز باہر نکل جائیں گے تو ہم ترسیل میں دوبارہ کمی دیکھ سکتے ہیں۔

دوسری جانب، جمعرات کو وینزویلا میں آنے والے زلزلوں نے بھی تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا۔

ابتدائی جائزوں کے مطابق وینزویلا کے وسیع تیل، گیس اور ریفائننگ انفرااسٹرکچر کو محدود نقصان پہنچا ہے کیونکہ ملک کے زیادہ تر بڑے پیداواری علاقے، ریفائنریز، پائپ لائنیں اور ٹرمینلز زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں سے کافی فاصلے پر واقع ہیں۔

تاہم، ذرائع کے مطابق بجلی کی عدم دستیابی نے اس بات پر شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں کہ آیا تیل کی پیداوار زلزلے سے پہلے کی سطح، یعنی تقریباً 12 لاکھ بیرل یومیہ پر برقرار رکھی جا سکے گی یا نہیں۔

Comments

200 حروف