آبنائے ہرمز کی بحالی، تیل کی بڑی سپلائی مارکیٹ میں داخل ہونے کا امکان
- آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے سے تقریباً 93 ملین بیرل غیر ایرانی تیل عالمی منڈی میں آ سکتا ہے
امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے عبوری معاہدے کے بعد اگر جمعہ کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جاتی ہے تو مشرق وسطیٰ کے خام تیل کی مارکیٹ پر مزید دباؤ بڑھ سکتا ہے، کیونکہ خلیج میں پھنسے ہوئے لاکھوں بیرل تیل عالمی منڈیوں میں داخل ہو جائیں گے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق سپلائی میں یہ ممکنہ اضافہ اس وقت سامنے آ رہا ہے جب خلیجی ممالک نے متحدہ عرب امارات اور عمان کے ساحلوں کے قریب شپ ٹو شپ ٹرانسفر کے ذریعے برآمدات بڑھا دی ہیں، جس سے منگل کے روز مشرق وسطیٰ کے خام تیل کے اسپاٹ ریٹس پر دباؤ بڑھا اور قیمتیں ڈسکاؤنٹ میں چلی گئیں۔
کپلر کے تجزیہ کار مویو شو کے مطابق، آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے سے تقریباً 93 ملین بیرل غیر ایرانی تیل عالمی منڈی میں آ سکتا ہے، جبکہ مزید کارگو بھی دیگر راستوں سے سپلائی جاری رکھیں گے۔
کچھ ٹریڈرز کا اندازہ ہے کہ پہلے سے منتقل کیے گئے کارگو کی وجہ سے تقریباً 50 ملین بیرل فوری طور پر مارکیٹ میں آ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکا کی جانب سے ایران پر پابندیوں میں نرمی کی صورت میں تقریباً 72 ملین بیرل تیل بھی ریلیز ہو سکتا ہے جو بحیرۂ عرب کے قریب ٹینکروں میں رکا ہوا ہے۔
دوسری جانب ایشیائی خریداروں نے جون سے اگست تک کی سپلائی پہلے ہی بک کر رکھی ہے، جبکہ چین میں ریفائنریوں کی بڑی تعداد مرمت کے لیے بند ہونے کی وجہ سے فوری طلب کم ہو رہی ہے۔
چین کی تیل پراسیسنگ جون میں مزید کم ہو کر 12.4 ملین بیرل یومیہ تک جا سکتی ہے، جبکہ جولائی میں یہ دوبارہ 13 ملین بیرل سے اوپر جا سکتی ہے۔ اس دوران سرکاری ریفائنریز سرگرمی بڑھائیں گی۔
ماہرین کے مطابق کمزور طلب اور بڑھتی ہوئی سپلائی کے باعث تیل کی قیمتوں پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ ایشیا میں ریفائنرز منافع کے دباؤ کا سامنا کریں گے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سپلائی میں اضافہ ہوا تو مارکیٹ میں کانٹیگو صورتحال مزید گہری ہو سکتی ہے، جس میں فوری قیمتیں مستقبل کی قیمتوں سے کم ہوتی ہیں۔





















Comments