سعودی کاروباری وفد پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینے پہنچ گیا
- اعلیٰ سطح کے سعودی وفد کی پاکستان میں سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کے امکانات پر بات چیت
سعودی عرب کی اعلیٰ سطح کے کاروباری وفد نے، جس کی قیادت شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کر رہے تھے جو سعودی پاکستان جوائنٹ بزنس کونسل کے چیئرمین بھی ہیں، جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں پاکستان کی معیشت کے مختلف اہم شعبوں میں اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ بات وزیراعظم آفس نے بتائی ہے۔
وفد نے وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم سے ملاقات کی، جس میں اعلیٰ حکومتی شخصیات بھی موجود تھیں، جن میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے علاوہ مواصلات، توانائی، پیٹرولیم، آئی ٹی کے وزرا اور وزارتِ خزانہ کے حکام شامل تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو باہمی مفاد پر مبنی ایک اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے شہزادہ منصور کے اکتوبر 2025 میں پاکستان کے سابقہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ موجودہ دورہ مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں ( ایم او یوز) اور معاہدوں کی راہ ہموار کرے گا۔
وزیراعظم نے سعودی قیادت، خصوصاً شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔
شہزادہ منصور نے وزیراعظم کی میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت اور کاروباری برادری پاکستان کے ساتھ کاروباری روابط (بی 2 بی) کو مزید مضبوط بنانے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق سعودی وفد نے پاکستان میں بندرگاہوں، شاہراہوں، ایئرپورٹ آؤٹ سورسنگ، توانائی، بجلی کی تقسیم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی۔
وزیراعظم نے ان شعبوں میں سعودی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ زراعت اور فوڈ سکیورٹی بھی وہ اہم شعبے ہیں جہاں دونوں ممالک باہمی فائدے کے لیے تعاون بڑھا سکتے ہیں۔
دورے کے دوران سعودی وفد سرکاری حکام اور نجی شعبے کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کرے گا تاکہ سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیا جا سکے اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے، جو ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن کے مطابق ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب گزشتہ برسوں میں تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات مضبوط بنانے کے لیے سرگرم رہے ہیں، جبکہ اسلام آباد معاشی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کی کوشش کر رہا ہے۔






















Comments