جاپانی ین سے متعلق خطرے کی گھنٹی
- تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی ین پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ دباؤ اب اس حد تک شدید ہو چکا کہ کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کے خدشات دوبارہ ابھرنے لگے ہیں
- حکام یہ اشارہ بھی دے رہے ہیں کہ اگر ین کی قدر میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ یا تیز گراوٹ دیکھی گئی تو وہ مداخلت کر سکتے ہیں۔
ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین کی قدر کا دوبارہ 160 کی سطح تک گر جانا بظاہر جاپان کا اندرونی مسئلہ دکھائی دے سکتا ہے۔
ٹوکیو یقیناً اسے اسی نظر سے دیکھتا ہے۔ حکام ایک بار پھر مارکیٹ میں مداخلت کی وارننگ دے رہے ہیں، تاجر بینک آف جاپان کے ہر بیان پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور منڈیاں یہ سوال کر رہی ہیں کہ پالیسی ساز کرنسی کی مزید کمزوری کو آخر کس حد تک برداشت کرنے پر آمادہ ہیں۔ تاہم زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ آیا ین کی گراوٹ محض ایشیا میں ابھرنے والی ایک بہت بڑی کہانی کی پہلی نمایاں دراڑ ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہوئے تین ماہ گزر چکے ہیں اور سرمایہ کار اب بھی تیل کی قیمتوں، جنگ بندی کی افواہوں اور سفارتی سرخیوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے، کیونکہ تیل اب بھی اثرات کی منتقلی کا سب سے فوری ذریعہ ہے۔ لیکن کیا اب اصل خطرے کی لکیر اجناس کی منڈی سے نکل کر کرنسی مارکیٹ میں منتقل ہو چکی ہے؟
اس تعلق کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں۔ تیل کی بلند قیمتیں توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں کے لیے تجارتی توازن کی شرائط کو مزید خراب کر دیتی ہیں۔
ڈالر کی مضبوطی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے کیونکہ اس سے درآمدات کی مقامی کرنسی میں لاگت بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً افراطِ زر کا دباؤ بڑھتا ہے، جاری کھاتوں کے توازن بگڑتے ہیں اور مرکزی بینک ایسے فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو ان کے لیے بتدریج زیادہ مشکل اور غیر آرام دہ ہوتے جاتے ہیں۔ جاپان شاید اس کی سب سے واضح مثال ہے کیونکہ یہ پورا عمل اس وقت حقیقی وقت میں رونما ہو رہا ہے۔
جغرافیائی سیاسی غیر یقینی کی فضا میں عموماً ڈالر مضبوط ہوتا ہے اور جاری جنگ نے بارہا اس رجحان کو تقویت دی ہے۔ دوسری جانب جاپان اب بھی درآمدی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی ین پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ دباؤ اب اس حد تک شدید ہو چکا ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کے خدشات دوبارہ ابھرنے لگے ہیں، جبکہ حکام یہ اشارہ بھی دے رہے ہیں کہ اگر ین کی قدر میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ یا تیز گراوٹ دیکھی گئی تو وہ مداخلت کر سکتے ہیں۔
تاہم جاپان اس صورتحال کا اکیلا شکار نہیں۔ بھارت، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، فلپائن اور جنوبی کوریا بھی درآمدی توانائی پر بھاری انحصار کرتے ہیں۔ اگرچہ ان ممالک کے حالات مختلف ہیں، لیکن بنیادی کمزوری ایک جیسی ہے۔ تیل کی قیمت میں ہر اضافہ درحقیقت اقتصادی سرگرمیوں پر بیرونی ٹیکس کی طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
اسی طرح ڈالر میں ہر نئی تیزی اس بوجھ کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پالیسی ساز اس مسئلے کو دیکھ رہے ہیں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا ان کے پاس اس کے اثرات کم کرنے کے لیے کافی گنجائش موجود ہے یا نہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ عرصے میں خود تیل نے کسی حد تک اطمینان کا احساس پیدا کیا ہے۔ جب بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی خبریں سامنے آتی ہیں، تیل کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطحوں سے نیچے آ جاتی ہیں۔ منڈیاں اب بھی ہر اس اشارے پر مثبت ردِعمل دیتی ہیں کہ شاید کسی معاہدے کا وقت قریب آ گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ تاجر درحقیقت کس چیز کی قیمت لگانے کی کوشش کر رہے ہیں؟
حقیقی یا فزیکل مارکیٹ فیوچر مارکیٹ جتنی پُرامید دکھائی نہیں دیتی۔ ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ تزویراتی ذخائر بدستور استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکومتوں اور پیداوار کنندگان نے کئی ماہ سے ہنگامی ذخائر، عملی لچک اور صنعتی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے اس جھٹکے کے اثرات کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ اقدامات غیرمعمولی حد تک مؤثر ثابت ہوئے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہی حفاظتی ذخائر کو بھی استعمال کر چکے ہیں جو دراصل بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مختص کیے گئے تھے۔
یہ صورتحال ایک تشویشناک سوال کو جنم دیتی ہے: کیا منڈیاں ذخائر پر اسی حد تک ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے لگی ہیں جس طرح وہ سفارتی سرخیوں پر انحصار کرنے کی عادی ہو چکی ہیں؟
اجناس کی منڈیوں میں اب تک کہیں زیادہ شدید قیمتوں کے ردوبدل سے بڑی حد تک اس لیے بچاؤ ہوا ہے کیونکہ ذخائر نے متاثرہ رسد اور مسلسل طلب کے درمیان خلا کو پُر کیا ہے۔ مگر ذخائر پیداوار نہیں بلکہ وقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔
آج مارکیٹ میں لایا جانے والا ہر اضافی بیرل وہ بیرل ہے جو کل دستیاب نہیں ہوگا۔ ذخائر میں ہر کمی مستقبل کے جھٹکوں کو برداشت کرنے کی نظام کی صلاحیت کو کم کرتی ہے۔ تو پھر وہ مرحلہ کب آئے گا جب منڈیاں جنگ بندی کی افواہوں سے زیادہ توجہ کم ہوتے ہوئے حفاظتی ذخائر کے سادہ حساب کتاب پر دینا شروع کریں گی؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ عالمی معیشت کے مختلف حصوں میں طلب میں کمی کے آثار پہلے ہی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ صارفین نے گاڑیوں کا استعمال کم کرنا شروع کر دیا ہے، ایئر لائنز اپنے روٹس میں تبدیلیاں کر رہی ہیں اور کاروباری ادارے اخراجات کم کرنے اور زیادہ مؤثر طریقوں کی تلاش میں ہیں۔
چین میں تیل کی طلب میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ بجلی پر مبنی ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور صارفین ایندھن کی بلند قیمتوں کے مطابق خود کو ڈھال رہے ہیں۔ اسی نوعیت کے رجحانات دیگر ممالک میں بھی ابھر رہے ہیں۔ طلب میں یہ کمی قیمتوں کو مزید بڑھنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے، لیکن اس کے اپنے معاشی اثرات بھی ہیں۔
اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ اگر ذخائر مسلسل کم ہوتے رہیں اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا بنیادی ذریعہ طلب میں کمی ہی بن جائے تو پھر کیا ہوگا جب اسی دوران اقتصادی نمو بھی سست پڑنے لگے؟ ایسی صورت میں پالیسی ساز ایک بار پھر اس مانوس چیلنج کا سامنا کریں گے جس میں کمزور اقتصادی نمو کے ساتھ افراطِ زر کا دباؤ برقرار رہتا ہے۔
منڈیوں نے 2025 کا بیشتر حصہ یہ فرض کرتے ہوئے گزارا کہ افراطِ زر پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ لیکن کیا اس جنگ نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں کرنسی مارکیٹ خاص طور پر اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ شرح مبادلہ بیک وقت متعدد خطرات کی عکاسی کرتی ہے۔ اقتصادی نمو کی توقعات، افراطِ زر کا دباؤ، شرح سود میں فرق اور سرمایہ کی نقل و حرکت، سب ایک ہی قیمت میں سمٹ آتے ہیں۔ چنانچہ ین کی کمزوری صرف تیل کی وجہ سے نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ان خدشات کی بھی عکاس ہے کہ معیشتیں مسلسل بیرونی جھٹکوں کو کس طرح برداشت کر رہی ہیں۔
پاکستان کے لیے اس کے مضمرات کچھ زیادہ اجنبی نہیں ہونے چاہئیں۔ ملک اب بھی بلند تیل قیمتوں اور مضبوط ڈالر، دونوں کے اثرات کا شکار ہو سکتا ہے۔ توانائی کی درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں، بیرونی مالی وسائل کے حصول کے حالات سخت ہو جاتے ہیں اور افراطِ زر کا دباؤ مزید شدت اختیار کر لیتا ہے۔
اس حوالے سے پاکستان کوئی منفرد مثال نہیں۔ ابھرتے ہوئے ایشیا کے بیشتر ممالک اسی نوعیت کے چیلنجوں کا مختلف شکلوں میں سامنا کر رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ بعض معیشتوں کے پاس زیادہ زرمبادلہ ذخائر، بہتر مالیاتی پوزیشن یا زیادہ لچکدار پالیسی فریم ورک موجود ہیں۔
ممکن ہے تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی واقعی درست ثابت ہو۔ ممکن ہے مذاکرات بالآخر کسی پائیدار تصفیے پر منتج ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ذخائر خطرناک حد تک کم ہونے سے پہلے مستحکم ہو جائیں۔ بظاہر منڈیاں اس امکان کو خاصی اہمیت دے رہی ہیں۔
لیکن اگر وہ غلط ثابت ہوں تو کیا ہوگا؟ اگر خام تیل کے فیوچر معاہدوں میں تازہ ترین اتار چڑھاؤ کے بجائے اصل اہم اشارہ توانائی درآمد کرنے والے ایشیائی ممالک کی کرنسیوں پر بڑھتا ہوا دباؤ ہو تو؟ اور اگر جاپان پہلے ہی 160 ین فی ڈالر کی سطح پر مداخلت پر غور کر رہا ہے تو دیگر ممالک کے پالیسی ساز خاموشی سے کن خدشات میں مبتلا ہوں گے؟
ابتدائی جھٹکا تیل کی منڈی نے پیدا کیا تھا، لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایشیا اس کی اصل قیمت کرنسی مارکیٹ میں چکا رہا ہے۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026






















Comments