ضبط کیا گیا ایرانی جہاز دوہرے استعمال کا سامان لے جا رہا تھا
- ایران کی وزارت خارجہ نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا
امریکی افواج نے اتوار کے روز ایران کے پرچم بردار کنٹینر جہاز توسکا کو بحیرہ عمان میں ایران کے چابہار بندرگاہ کے قریب روک کر قبضے میں لے لیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
بحری سلامتی ذرائع کے مطابق یہ جہاز ممکنہ طور پر ایسے سامان لے جا رہا تھا جسے امریکا دوہرا استعمال قرار دیتا ہے، یعنی وہ اشیا جو شہری اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ جہاز کے عملے نے چھ گھنٹوں تک دی گئی وارننگز پر عمل نہیں کیا اور یہ امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی تھی۔
ایران کی وزارت خارجہ نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور جہاز، عملے اور ان کے اہل خانہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ تہران نے الزام عائد کیا کہ یہ اقدام جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔
ایرانی حکام کے مطابق جہاز چین سے سفر کر رہا تھا، جبکہ امریکا نے اس پر پہلے سے پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ چین نے بھی جہاز کو زبردستی روکنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ واقعہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدہ صورتحال میں ایک نیا اضافہ سمجھا جا رہا ہے۔























Comments