غیر ملکی سرمایہ کاری: گورننس کا کڑا امتحان
- غیر ملکی سرمایہ کار خطرات سے نہیں، بیوروکریسی سے خوف کھاتے ہیں۔
”غیر ملکی سرمایہ کار خطرات سے نہیں، بیوروکریسی سے خوف کھاتے ہیں۔ وہ منڈیوں کو نہیں، ناقص نظام کو چھوڑ کر جاتے ہیں۔ پاکستان کی مارکیٹیں تو ترقی کر رہی ہیں، مگر انتظامی نظام ان کا ساتھ نہیں دے رہا۔“
سرمایہ متحرک ہوتا ہے، مگر اعتماد نہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان سے متعدد ملٹی نیشنل کمپنیوں کا خاموشی سے انخلا ہوا، حالانکہ یہی کمپنیاں کبھی ملکی معیشت پر عالمی اعتماد کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔ ان کے انخلا کو قومی سطح پر سنجیدہ جائزے کا سبب بننا چاہیے تھا، لیکن اس کے بجائے سرکاری سطح پر یہی یقین دہانیاں کرائی جاتی رہیں کہ سرمایہ کاری کا ماحول بہتر بنایا جائے گا۔ ایک دہائی گزرنے کے باوجود یقین دہانیوں کا سلسلہ جاری ہے، مگر سرمایہ کار اب بھی مطمئن نہیں۔
مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کو خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی مد میں صرف تقریباً 1.7 ارب ڈالر موصول ہوئے، جو گزشتہ مالی سال کے 2.49 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد کم ہیں۔ یہ کمی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی کوششوں اور ان کے حقیقی اعتماد کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کی واضح عکاسی کرتی ہے۔
اس ہفتے منعقدہ پاکستان-برطانیہ راؤنڈ ٹیبل اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ضابطہ جاتی نظام کو آسان بنانے، پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھنے اور سرمایہ کار دوست، شفاف کاروباری ماحول فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ عزم قابلِ تحسین ہے، تاہم اصل چیلنج پالیسی اعلانات نہیں بلکہ ان پر مؤثر انتظامی عمل درآمد ہے۔
راؤنڈ ٹیبل میں برطانیہ کی صفِ اول کی کمپنیوں، ملٹی نیشنل کارپوریشنز، اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی)، برطانوی ہائی کمیشن کے اعلیٰ حکام، صوبائی وزرا اور سیکریٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس میں سرمایہ کاری کے ماحول، ضابطہ جاتی اصلاحات اور کاروبار میں آسانی کے اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
غیر ملکی سرمایہ کار منافع بخش منڈیوں کو آسانی سے نہیں چھوڑتے۔ وہ اس وقت رخصت ہوتے ہیں جب غیر یقینی کی قیمت مواقع سے حاصل ہونے والے ممکنہ فائدے پر بھاری پڑنے لگے۔ بدقسمتی سے یہی صورتِ حال پاکستان کی بنتی جا رہی ہے۔
ملٹی نیشنل کمپنیوں کے انخلا سے پاکستان کو صرف غیر ملکی سرمایہ ہی کا نقصان نہیں ہوا بلکہ عالمی شہرت یافتہ برانڈز، جنہوں نے صارفین کا اعتماد مضبوط کیا، ہزاروں معیاری ملازمتیں، عالمی معیار کے انتظامی نظام، جدید فنی مہارت، تحقیق و ترقی، مقامی سپلائرز کی استعداد بڑھانے کے پروگرام اور ٹیکنالوجی کی منتقلی جیسے قیمتی اثاثے بھی ملک سے رخصت ہو گئے۔
اس سے بھی زیادہ نقصان پاکستان کی عالمی ساکھ کو پہنچا۔ ہر وہ ملٹی نیشنل کمپنی جو پاکستان چھوڑتی ہے، ممکنہ سرمایہ کاروں کو ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ اگر عالمی سطح کی مستحکم کمپنیاں یہاں مؤثر انداز میں کاروبار نہیں کر سکتیں تو نئے سرمایہ کار کیوں خطرہ مول لیں؟
حیرت کی بات یہ ہے کہ آج تک کسی سرکاری ادارے نے اس کارپوریٹ انخلا کی وجوہات پر جامع تحقیق نہیں کی۔ حکومتیں پہلے سے موجود سرمایہ کاروں کے انخلا کی وجوہات جاننے کے بجائے مسلسل سرمایہ کاری کانفرنسیں اور روڈ شوز منعقد کرتی رہی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ سرمایہ کاروں کو برقرار رکھنا، نئے سرمایہ کار تلاش کرنے کے مقابلے میں ہمیشہ کم خرچ اور زیادہ قابلِ اعتماد حکمتِ عملی ہوتی ہے۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ نہ ٹیکس ہیں اور نہ ہی بنیادی ڈھانچے کی کمی، بلکہ اصل مسئلہ گورننس ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کی یقین دہانیوں کے باوجود، سندھ میں سرمایہ کاری کا خواہش مند کوئی بھی غیر ملکی سرمایہ کار جلد ہی اس حقیقت سے دوچار ہو جاتا ہے کہ منظوریوں کا پورا نظام اب بھی کاغذی کارروائی اور پیچیدہ دفتری مراحل پر مشتمل ہے۔ کسی صنعتی منصوبے کے لیے متعدد این او سیز، مختلف محکموں کی منظوری، معائنے اور توثیقات درکار ہوتی ہیں۔ ہر مرحلہ تاخیر اور مایوسی کو جنم دیتا ہے، اور ہر تاخیر کی ایک مالی قیمت بھی ہوتی ہے۔ مالیاتی اخراجات بڑھتے جاتے ہیں، درآمد شدہ مشینری بیکار پڑی رہتی ہے، معاہدوں کی مدتیں گزر جاتی ہیں اور سرمایہ کاری کے فیصلوں پر دوبارہ غور شروع ہو جاتا ہے۔
آج کی شدید عالمی مسابقتی معیشت میں سرمایہ ان ممالک کا رخ کرتا ہے جہاں حکومتیں زیادہ تیزی، یقین دہانی اور مؤثر انداز میں فیصلے کرتی ہیں۔ یہی دراصل کاروبار میں آسانی ( ایز آف ڈوئنگ بزنس ) کا بنیادی تصور ہے۔
سوال یہ ہے کہ ڈیجیٹل گورننس آج تک اس فرسودہ کاغذی نظام کی جگہ کیوں نہیں لے سکی؟ اس کا جواب خاصا تلخ ہے۔ خودکار نظام شفافیت، جوابدہی اور قابلِ پیمائش کارکردگی پر فروغ پاتے ہیں، جبکہ دستی نظام صوابدید، غیر شفافیت اور منتشر ذمہ داری کو برقرار رکھتے ہیں۔
یہ کاغذی نظام مفاد پرستی، بیوروکریسی کی سستی، ادارہ جاتی نااہلی یا ان تمام عوامل کا مجموعہ ہے، اس سے سرمایہ کار کو کوئی غرض نہیں۔ اس کے لیے اہم صرف نتیجہ ہوتا ہے۔
پاکستان کا نجی شعبہ تو پہلے ہی ڈیجیٹل فیصلہ سازی اپنا چکا ہے۔ بڑی کمپنیاں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے فیصلے مربوط الیکٹرانک نظام کے ذریعے کرتی ہیں، جہاں تمام متعلقہ فریقوں کو بیک وقت معلومات فراہم کی جاتی ہیں، ہر منظوری کا وقت ریکارڈ ہوتا ہے اور ذمہ داری واضح طور پر متعین ہوتی ہے۔
اس کے برعکس سرکاری محکمے اب بھی فائلوں کی مرحلہ وار نقل و حرکت، دستی دستخط اور بار بار ایک ہی دستاویزات جمع کرانے جیسے طریقۂ کار پر انحصار کرتے ہیں، جو ڈیجیٹل معیشت نہیں بلکہ گزشتہ صدی کے انتظامی ڈھانچے کی یاد دلاتے ہیں۔
صوبائی سطح پر بھی ایک اہم موازنہ موجود ہے۔ اگرچہ پورے پاکستان میں چیلنجز درپیش ہیں، تاہم پنجاب سرکاری خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن، صنعتی سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنے اور مختلف محکموں کے درمیان منظوریوں کے نظام کو مربوط بنانے میں نسبتاً زیادہ پیش رفت کر چکا ہے۔ سرمایہ کار اکثر پنجاب میں انتظامی ردِعمل کی رفتار اور منصوبوں پر تیز تر عمل درآمد کو سراہتے ہیں۔
سبق بالکل واضح ہے: آج کے دور میں سرمایہ کاری کے لیے مسابقت کا انحصار محض مراعات پر نہیں بلکہ گورننس کے معیار پر ہے۔
سندھ کو قدرت نے ایسی کئی خصوصیات سے نوازا ہے جن پر بہت سے مسابقتی خطے رشک کر سکتے ہیں۔ ان میں اس کی اسٹریٹجک ساحلی پٹی، پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی مرکز، مستحکم صنعتی کلسٹرز، مالیاتی ادارے، کاروباری صلاحیت رکھنے والی افرادی قوت اور وسیع صارف مارکیٹ شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل فطری طور پر سرمایہ کاری کو اپنی جانب متوجہ کرنے چاہییں، مگر انتظامی رکاوٹیں ان تقابلی برتریوں کو بتدریج بے اثر کر رہی ہیں۔
آگے بڑھنے کا راستہ بالکل واضح ہے۔ سندھ کو نجی شعبے کی رفتار سے ہم آہنگ ہونے کے لیے حقیقی معنوں میں ڈیجیٹل معیشت کی جانب منتقل ہونا ہوگا۔ قانونی اختیارات سے لیس ون ونڈو ڈیجیٹل انویسٹمنٹ اتھارٹی قائم کی جائے، جبکہ کاغذی فائلوں اور این او سی کے موجودہ نظام کی جگہ مربوط الیکٹرانک ورک فلو متعارف کرایا جائے۔
ہر قسم کی سرکاری منظوری کے لیے قانون کے تحت مقررہ مدت مقرر کی جائے، اور اگر متعلقہ محکمہ مقررہ وقت میں جواب نہ دے تو معاملہ خودکار طور پر اعلیٰ سطح پر منتقل ہو جائے یا منظوری ازخود مؤثر تصور کی جائے۔ مختلف محکموں کی کارکردگی کے اشاریے عوام کے سامنے شائع کیے جائیں۔ سب سے بڑھ کر، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاکستان سے انخلا کی وجوہات جاننے کے لیے ایک آزادانہ اور جامع تحقیق کرائی جائے اور اس کی سفارشات کو مقررہ مدت پر مبنی اصلاحاتی پروگرام کی شکل دی جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ کاری، گورننس پر اعتماد کے اظہار کا دوسرا نام ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کار حکومتوں سے کاروباری خطرات ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کرتے، وہ صرف یہ توقع رکھتے ہیں کہ حکومتیں غیر ضروری انتظامی رکاوٹیں اور مصنوعی خطرات پیدا نہ کریں۔
جب تک سندھ فائلوں اور این او سی کی ثقافت کو ختم کرکے سہولت کاری، شفافیت اور جوابدہی پر مبنی نظام اختیار نہیں کرتا، تب تک سرمایہ کاری کانفرنسیں تو سرخیاں بنتی رہیں گی، لیکن ضروری نہیں کہ وہ حقیقی سرمایہ کاری بھی لے کر آئیں۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026ء





























Comments