خیبرپختونخوا کا ڈیجیٹل گورننس کی جانب بڑا قدم، نیٹ سول کے ساتھ کروڑوں کا معاہدہ
- یہ سنگِ میل ڈیجیٹل گورننس کو وعدے سے عمل تک لے آتا ہے، نیٹ سول کے چیف ایگزیکٹو
نیٹ سول ٹیکنالوجیز لمیٹڈ (نیٹ سول)، جو پاکستان کی ایک نمایاں سافٹ ویئر کمپنی ہے، نے خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ 50 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا معاہدہ کیا ہے تاکہ صوبے کے پیپر لیس گورنمنٹ پروجیکٹ کے اگلے مرحلے کا آغاز کیا جا سکے۔
کمپنی نے یہ پیش رفت جمعہ کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو اپنے نوٹس میں بتائی۔
نوٹس میں کہا گیا کہ نیٹ سول ٹیکنالوجیز نے خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ 500,000,000 روپے سے زائد مالیت کا ایک تاریخی معاہدہ کیا ہے، جو ورلڈ بینک کی مالی معاونت سے عمل میں آ رہا ہے، تاکہ صوبے کے پیپر لیس گورنمنٹ پروجیکٹ کے اگلے مرحلے کا آغاز کیا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پہلے مرحلے میں وزیرِاعلیٰ کے لیے سمری سسٹم، کابینہ ورک فلو اور دیگر کاغذی کارروائیوں کو کامیابی سے ڈیجیٹلائز کیا گیا تھا، جبکہ اگلا مرحلہ مختلف سرکاری محکموں کے درمیان خودکار رابطوں اور محفوظ انضمام کو فروغ دے گا، جس سے فیصلے تیز اور آڈٹ کے قابل ہوں گے۔
نیٹ سول کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلیم غوری نے کہا کہ یہ سنگِ میل ڈیجیٹل گورننس کو وعدے سے عمل تک لے آتا ہے تیز تر سروس ڈیلیوری، کم دستی مداخلت، اور واضح، قابلِ جانچ فیصلوں کے ریکارڈز کے ساتھ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم صوبائی حکومت کے ساتھ شراکت داری پر فخر محسوس کرتے ہیں تاکہ سرکاری عمل کو زیادہ شفاف، جوابدہ اور مؤثر بنایا جا سکے۔
نیٹ سول ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کی بنیاد 1996 میں ایک نجی کمپنی کے طور پر رکھی گئی تھی، جو بعد میں پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل ہوئی۔ یہ ادارہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر کمپیوٹر سافٹ ویئر کی تیاری اور فروخت کے ساتھ ساتھ متعلقہ خدمات فراہم کرتا ہے۔
حال ہی میں نیٹ سول کی ذیلی کمپنی نیٹ سول انسٹی ٹیوٹ آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت 1,600 شرکا کو مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور سائبر سیکیورٹی کی تربیت دی جائے گی۔
گزشتہ سال اگست میں، نیٹ سول کی قیادت میں ایک کنسورشیم نے اگنائٹ – نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے تاکہ وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام کے تحت نیشنل انکیوبیشن سینٹر لاہور کو آئندہ پانچ سال کے لیے قائم اور چلایا جا سکے۔






















Comments
Comments are closed.