پاکستان کی سعودی عرب اور بحیرۂ احمر کی جہاز رانی کے خلاف حوثیوں کی دھمکیوں کی مذمت
- ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ دھمکیاں بین الاقوامی تجارت کے بلا تعطل بہاؤ کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہیں
پاکستان نے بدھ کو یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف جاری دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات علاقائی استحکام اور عالمی تجارت کے لیے خطرہ ہیں۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ دھمکیاں آزادیٔ جہاز رانی کو نقصان پہنچانے، بین الاقوامی تجارت کے بلا تعطل بہاؤ کو خطرے میں ڈالنے اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔
وزارت نے ان اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی سمندری تنصیبات اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات، بشمول دفاعِ ذات کے حق میں قانون کے مطابق طاقت کے استعمال، کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
دفتر خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ کے وسیع تر تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
پاکستان نے ایک بار پھر مذاکرات، سفارت کاری اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنائیں۔























Comments