روس نے جمعرات کو یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت مختلف شہروں پر میزائل اور ڈرونز سے بڑا حملہ کیا، جس میں کم از کم 23 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ حملے میں یورپی یونین اور برطانیہ کے دفاتر بھی متاثر ہوئے۔ کیف کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور ٹکاچینکو کے مطابق امدادی کارروائیاں رات گئے تک جاری رہیں۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یہ حملے ماسکو کی جانب سے امن مذاکرات کی بجائے جنگ جاری رکھنے کے عزم کا جواب ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ روس میزائلوں کو مذاکرات کی میز پر ترجیح دیتا ہے۔ زیلنسکی نے یورپی یونین اور برطانیہ سے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
امریکی خصوصی ایلچی کیتھ کیلاگ نے کہا کہ روسی حملے فوجی تنصیبات پر نہیں بلکہ رہائشی علاقوں، ٹرینوں اور سفارتی دفاتر پر کیے گئے، جنہیں اندھی دہشت گردی قرار دیا۔ یورپی یونین اور برطانیہ نے روسی سفیروں کو طلب کرکے احتجاج کیا۔
حملے میں ترک ادارے اور آذربائیجان کے سفارت خانے کو بھی نقصان پہنچا جبکہ برطانوی کونسل کی عمارت کو جزوی طور پر تباہ کردیا گیا۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لیین نے کہا کہ یہ حملے ثابت کرتے ہیں کہ کریملن شہریوں کو نشانہ بنا کر بھی باز نہیں آئے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک جلد روس پر پابندیوں کا نیا (انیسواں) پیکج نافذ کریں گے۔
یوکرین کی فوج کے مطابق روس نے قریب 600 ڈرون اور 31 میزائل داغے، جن میں سے زیادہ تر مار گرائے گئے۔ اس دوران یوکرین نے بھی روسی آئل ریفائنریز پر جوابی حملے کیے۔
زیلنسکی نے بتایا کہ انہوں نے ترک صدر رجب طیب ایردوان سے یوکرین کیلئے سیکیورٹی ضمانتوں پر بات کی ہے جو آئندہ ہفتے تحریری شکل میں لائی جائیں گی۔






















Comments
Comments are closed.