پاکستانی فری لانسرز نے تین برس میں 3.2 ارب ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ کمالیا
- فری لانسنگ کے شعبے کو حکومتی پالیسیوں سے بھی فائدہ پہنچا ہے
پاکستان میں فری لانسرز نے گزشتہ تین مالی سالوں کے دوران 3.2 ارب ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ کمایا، جو معیشت میں اس شعبے کے بڑھتے ہوئے کردار کو نمایاں کرتا ہے، حالانکہ اسے اب بھی سست رفتار انٹرنیٹ اور بجلی کی لوڈشیڈنگ جیسے مستقل چیلنجز کا سامنا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، فری لانس برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن مالی سال 2023-24 میں 505 ملین ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2024-25 میں 984 ملین ڈالر اور مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 1.76 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کی ڈیجیٹل افرادی قوت میں مسلسل وسعت آ رہی ہے، کیونکہ زیادہ سے زیادہ پیشہ ور افراد آن لائن کام کرنے اور غیر ملکی کرنسی میں آمدن حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
فری لانسنگ کے شعبے کو حکومتی پالیسیوں سے بھی فائدہ پہنچا ہے، جن کے تحت فری لانسرز کو غیر ملکی کرنسی میں بینک اکاؤنٹس رکھنے کی اجازت، ترجیحی ٹیکس سہولتیں اور ڈیجیٹل مہارتوں میں اضافے کے لیے مفت آن لائن تربیتی پروگرام فراہم کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا کہ فری لانسرز زرمبادلہ کمانے اور ٹیکس ادا کرنے کے ذریعے ملک کے اہم معاشی اشاریوں کو مضبوط بنا کر قومی معیشت میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق، پاکستان کی فری لانسنگ کمیونٹی چند ہی برسوں میں کئی روایتی برآمدی شعبوں سے زیادہ زرمبادلہ کما کر معاشی ترقی کی ایک اہم محرک بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی فری لانسرز اپنی صلاحیت اور محنت کے ذریعے نہ صرف اپنے معیارِ زندگی کو بہتر بنا رہے ہیں بلکہ ایک زیادہ پیداواری، ہنر مند اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار افرادی قوت کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
صنعتی تخمینوں کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ کل وقتی اور جزوقتی فری لانسرز موجود ہیں، جس کے باعث پاکستان دنیا کی چوتھی بڑی فری لانسنگ افرادی قوت رکھنے والا ملک بن چکا ہے۔
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر عمران بٹاڈا نے زور دیا کہ نوجوانوں کو عالمی فری لانسنگ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کام کرنے کے لیے درکار مہارتوں سے آراستہ کرنے کی خاطر ڈیجیٹل اسکلز ٹریننگ پروگراموں کو مزید وسعت دی جائے۔ ان کے مطابق، اس سے بے روزگاری اور غربت میں کمی آئے گی جبکہ برآمدی آمدن میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ہنر مند افرادی قوت ملک کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے، اور فری لانسرز کو چاہیے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو وسعت دیتے ہوئے انہیں اسٹارٹ اپس یا رجسٹرڈ کمپنیوں میں تبدیل کریں، جبکہ نئی اور زیادہ طلب رکھنے والی ٹیکنالوجیز میں اپنی مہارتوں کو مسلسل بہتر بناتے رہیں۔
ڈاکٹر عمران بٹاڈا نے ٹیکس پالیسیوں اور مختلف مہارتی ترقی کے اقدامات کے ذریعے فری لانسنگ کے شعبے کی مسلسل سرپرستی پر حکومت کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کو مزید تیز کریں گے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستانی فری لانسرز نے ریکارڈ 1.76 ارب ڈالر کا زرمبادلہ کمایا، جو مالی سال 2024-25 میں حاصل ہونے والے 984 ملین ڈالر کے مقابلے میں 78 فیصد زیادہ ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی ٹی فری لانسرز نے مالی سال 2025-26 میں 1.16 ارب ڈالر سے زائد کی برآمدی آمدن حاصل کی، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ آمدن 779 ملین ڈالر تھی۔ اس طرح آئی ٹی فری لانسرز کی برآمدات میں 49 فیصد یا 385 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب نان آئی ٹی فری لانسرز کی برآمدی آمدن مالی سال 2024-25 کے 205 ملین ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 592 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو 188 فیصد یا 387 ملین ڈالر کا نمایاں اضافہ ہے۔






















Comments