پاکستانی ٹیلی کام کمپنیوں کی فی صارف آمدن میں 11 فیصد اضافہ، 346 روپے تک پہنچ گئی
- فی صارف آمدن میں مسلسل اضافے سے ٹیلی کام کمپنیوں کے نیٹ ورک پھیلانے کے امکانات روشن ہوگئے
پاکستان کے سیلولر موبائل آپریٹرز نے جنوری تا مارچ 2026 کی سہ ماہی کے دوران فی صارف اوسط ماہانہ آمدنی (اے آر پی یو) کو 346 روپے کی تاریخی بلندی پر پہنچا دیا ہے۔
یہ اضافہ مسلسل معاشی دباؤ کے باوجود موبائل ڈیٹا سروسز کی جارحانہ انداز میں فروخت اور صارفین کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی عکاسی کرتا ہے۔سرکاری صنعتی اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوری تا مارچ 2026 میں ماہانہ وائس اور ڈیٹا اے آر پی یو بڑھ کر 346 روپے ہو گیا، جو کہ اکتوبر تا دسمبر 2025 کے 326 روپے سے تقریباً 6.1 فیصد زیادہ ہے۔ سالانہ بنیادوں پر اے آر پی یو میں جنوری تا مارچ 2025 کے 312 روپے کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔تازہ ترین اعداد و شمار گزشتہ تین سالوں کے دوران فی صارف آپریٹرز کی آمدنی میں مسلسل اضافے کے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔اے آر پی یو اپریل تا جون 2023 کے 244 روپے سے بڑھ کر جنوری تا مارچ 2026 میں 346 روپے تک جا پہنچا ہے۔ یہ امر صارفین کی تعداد میں سست رفتاری سے ہونے والے اضافے کی بھرپائی کے لیے ٹیلی کام سیکٹر کے ڈیٹا کے استعمال اور جدید ڈیجیٹل سروسز پر بڑھتے ہوئے انحصار کو واضح کرتا ہے۔
اے آر پی یو میں اس مسلسل اضافے سے ٹیلی کام آپریٹرز کی آمدنی مضبوط ہونے اور ان کی نیٹ ورک کی توسيع بشمول فائبر کی فراہمی اور جدید ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کے لیے سرمایہ کاری کی صلاحیت میں بہتری آنے کی توقع ہے، جبکہ انڈسٹری کو اب بھی بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات اور بھاری ٹیکسوں کا سامنا ہے۔






















Comments