ڈسکوز، کے الیکٹرک: ای سی سی نے پٹرولیم لیوی کا فائدہ صارفین تک منتقل کرنے کا طریقہ کار منظور کر لیا
وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے کیپٹو پاور پلانٹس (سی پی پیز) پر عائد پیٹرولیم لیوی (پی ایل) کا فائدہ بجلی کے صارفین تک پہنچانے کے طریقہ کار کی منظوری دے دی ہے تاکہ ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے صارفین کو براہ راست ریلیف مل سکے۔
ای سی سی کا اجلاس وفاقی وزیر برائے خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہوا جس میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی و تحقیق رانا تنویر حسین، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سمیت متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ نے حال ہی میں ”آف دی گرڈ (کیپٹو پاور پلانٹس) لیوی ایکٹ 2025“ منظور کیا ہے جس کے تحت گیس پر مبنی کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی عائد کی گئی ہے تاکہ ان کی مرحلہ وار بجلی گرڈ کی طرف منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایکٹ کی شق 4 کے تحت لیوی کی شرح نیپرا کے نوٹیفائی کردہ صنعتی بی-3 ٹیرف اور اوگرا کے مقرر کردہ گیس ٹیرف پر سی پی پی کی لاگت کے فرق کو مدِنظر رکھ کر طے کی جائے گی۔ ابتدائی طور پر یہ لیوی بجلی کے نرخ پر 5 فیصد ہوگی جو یکم اگست 2025 سے 10 فیصد، یکم فروری 2026 سے 15 فیصد اور یکم اگست 2026 سے 20 فیصد کر دی جائے گی اور پھر اسی سطح پر برقرار رہے گی۔
شق 3 کے مطابق کیپٹو پاور پلانٹس یہ لیوی اپنی گیس یا آر ایل این جی کھپت پر اوگرا کے مقررہ نرخوں کے علاوہ ادا کریں گے۔ مزید یہ کہ ایکٹ کی شق 5(1) کے مطابق لیوی سے حاصل ہونے والی رقم وفاقی حکومت بجلی کے صارفین کے ٹیرف میں کمی کے لیے استعمال کرے گی۔
ای سی سی کو پیش کیے گئے طریقہ کار کے مطابق پٹرولیم ڈویژن ہر ماہ کے اختتام کے دو دن کے اندر جمع شدہ لیوی وزارت خزانہ کو منتقل کرے گا۔ وزارت خزانہ یہ رقم پاور ڈویژن کو آگاہ کرے گی اور سی پی پی اے-جی کے ذریعے ڈسکوز اور کے الیکٹرک کو کریڈٹ نوٹ یا نقد ادائیگی کی شکل میں منتقل کی جائے گی۔ اس بنیاد پر پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) نیپرا کو صارفین کو دی جانے والی رعایت کا حساب دے گی۔
نیپرا ہر ماہ اس ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد اپنے فیصلے میں صارفین کو فی یونٹ ریلیف دینے کا نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔ تاہم یہ فائدہ ایک ماہ کی تاخیر سے صارفین کو منتقل کیا جائے گا، مثلاً جنوری میں جمع ہونے والی لیوی کا فائدہ مارچ کے بل میں دیا جائے گا۔
وزارت تجارت نے تجویز دی تھی کہ یہ فائدہ صرف صنعتی صارفین تک محدود ہونا چاہیے، تاہم یہ تجویز ایکٹ کی دفعات سے متصادم پائی گئی جو تمام صارفین کو فائدہ پہنچانے کی ہدایت کرتی ہیں۔ وزارت قانون نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جبکہ نیپرا نے بھی اس پر عدم اعتراض ظاہر کیا اور تجویز دی کہ اسے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کا حصہ بنایا جائے۔ وزارت صنعت و پیداوار نے متعدد یاد دہانیوں کے باوجود اپنی رائے نہیں دی اور امکان ہے کہ اجلاس کے دوران رائے دے گی۔
ای سی سی نے منظوری دیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ (i) جمع شدہ لیوی کا فائدہ تمام صارفین (سوائے لائف لائن صارفین کے) تک پہنچایا جائے؛ (ii) تجویز کردہ طریقہ کار پر عمل درآمد کیا جائے؛ (iii) پاور ڈویژن نیپرا کو رہنمائی فراہم کرے؛ (iv) نیپرا ماہانہ بنیاد پر پی پی ایم سی کے ڈیٹا کی بنیاد پر فی یونٹ ریلیف طے کرے؛ اور (v) نیپرا ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ اس کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔
یوں ای سی سی کے فیصلے سے توقع کی جا رہی ہے کہ بجلی صارفین کو مرحلہ وار ریلیف ملے گا اور توانائی کے شعبے میں شفافیت کے ساتھ مالی بوجھ کی تقسیم ممکن ہو سکے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.