مریکی فوجیوں کی ہلاکت پر ایران کو بھاری قیمت چکانا ہوگی، ٹرمپ
- ایران کے خلاف جنگ میں ہفتے کے اختتام پر ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 17 ہو گئی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا ہے کہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر ایران کو بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران ہفتے کے اختتام پر مزید امریکی اہلکار ہلاک ہوئے۔
ایران کے خلاف جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد ہفتے کے اختتام پر بڑھ کر 17 ہو گئی، جبکہ ایک مزید فوجی کی باقیات کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ ان میں سے دو اہلکار اردن میں امریکی فوجیوں پر ایران کے حملے میں ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا، ”جب بھی ایران کسی امریکی فوجی کو قتل کرے گا، اسے اس کی کئی گنا بڑی قیمت چکانا ہوگی۔“
انہوں نے مزید کہا، ”میں نے اس حوالے سے ہدایات وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈینیل کین کو دے دی ہیں۔“
ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ ہفتے کا اختتام امریکی فوج کے لیے سب سے ہلاکت خیز ادوار میں سے ایک ثابت ہوا۔ اس سے قبل مارچ میں کویت کے پورٹ شویبہ میں واقع امریکی فوجی تنصیب پر ایرانی ڈرون حملے میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
اب تک اس جنگ میں تقریباً 430 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈیلاویئر میں واقع ڈوور ایئر فورس بیس پر ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی باقیات کی باضابطہ وصولی کی تقریب میں شرکت کریں گے۔
یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ نے پینٹاگون کو کون سی مخصوص ”ہدایات“ جاری کی ہیں۔ تاہم رائٹرز سے گفتگو کرنے والے ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اردن میں مہلک حملے سے قبل ہی امریکا اضافی فوجی طیارے، جن میں لڑاکا طیارے اور فضائی ایندھن بردار ٹینکر شامل ہیں، مشرقِ وسطیٰ بھیجنا شروع کر چکا تھا۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ٹرمپ ایران میں حملوں کا دائرہ مزید وسیع کرنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں، جس میں توانائی کی تنصیبات، پل، ایران کے خارگ آئل آئی لینڈ پر زمینی کارروائی اور ”پک ایکس ماؤنٹین“ کے نام سے معروف زیرِ زمین جوہری تنصیب پر بمباری شامل ہے۔
ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران پر امریکی حملوں کی حالیہ لہر، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو کھلوانا ہے، ایرانی فوجی صلاحیتوں کو بھی نشانہ بنا رہی ہے تاکہ ایران کے خلاف مزید پیچیدہ فوجی کارروائیوں سے قبل ان صلاحیتوں کو تباہ کیا جا سکے۔
ایران کے خلاف جاری جنگ اور اس پر آنے والے بھاری مالی اخراجات منگل کو کانگریس میں ہونے والی سماعت کا مرکزی موضوع ہوں گے، جس میں امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈینیل کین ارکانِ کانگریس کو بریفنگ دیں گے۔






















Comments